Sunday, May 25, 2014

Lazzat-e Safar


لیکن مجھے ہمیشہ اپنے اندر ایک خلا کا احساس ہوا اور باہر سناٹا ۔
اندر کی کائنات اتر کر خلا میں پہنچنے کی جستجو کرتا تھا ۔
لیکن اس کے لیے جس مراقبے اور مکاشفے کی ضرورت ہے ، اس کی ہمت نہ تھی ۔
میرا حال یہ ہے کہ درویشی کا ظرف نہ تھا ، اور دنیا داری کا سلیقہ نہپیں ۔
سو ساری زندگی رسے پر ڈولتے گذر گئی ۔
لیکن نا معلوم کو جاننے کا ایسا چسکا ہے کہ میں کبھی ڈرتے ڈرتے آہستہ آہستہ اور کبھی تیز تیز بے خوف اندر کی غار میں چھلانگ لگا لیتا ہوں ۔
کبھی کچھ ہاتھ آتا ہے کبھی خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑتا ہے ۔
لیکن سفر کی اپنی ایک لذت تو ہے ہی ۔ کبھی کبھی چھپ چھپ کر سب سے چوری چوری نماز پڑھنے اور اس کے نام کا چپکے چپکے ، اندر ہی اندر ورد کرنے کا بھی ایک مزہ ہے ۔ 
اس عشق کی طرح جسے چھپانے کا لطف ہوتا ہے ۔

عشق کی تشہیر بھی ایک مزہ رکھتی ہے ۔ 
اور اس کا اخفاء بھی اپنی ہی ایک لذت رکھتا ہے ۔

تمنا بے تاب "رشید امجد"

No comments: