Thursday, July 28, 2016

ماسٹر بالی ـ کھیل تماشا، اشفاق احمد

(Under development)

This is going to be my first story upload at the blog which is audio only. I shall be uploading it in parts. Insha Allah.




The story is by the inimitable Ishfaq Ahmed, and it's an extract from his novel "Khel Tamasha".

I shall be, in all probability, sticking with narrating chapters related to Master Bali's character only.
*fingers crossed*









Sunday, July 10, 2016

بیادِ الفاظ


اس بستی میں جہاں وہ رہتی تھی برسوں پہلے الفاظ کو دفنا دیا گیا تھا.
جنازہ کب پڑھا گیا، تدفین کہاں کی گئی، اسے کچھ خاص اچھی طرح یاد نہ تھا. ہاں مگر الفاظ زندہ نہ تھے، اسکا ادراک اسے خوب تھا.

بستی کیا تھی، صدیوں پہلے کے کسی اہم تجارتی راستے کا ایک پڑاؤ تھی. اب تجارت کی نوعیت بدلی تو تجارتی راستے کی دھول اڑاتی سڑک کی بجائے لوگوں نے ریل، جہاز کے سفر اپنا لیے. یہ کم وسائل کا سخی خطہ آہستہ آہستہ ضرورت کے کنڈے سے سرکا تو یاداشت سے بھی محو ہونے لگا. جیسے صرف ہار جانے والی ہستیوں کا خاصہ ہے، وقت کائی کی بدہئیت بُکل مارے یہاں آ دھمکا اور اداسی کی بھوری باریک مٹی تہہ در تہہ در و دیوار سے لپٹتی گئی. نیستی کی خاموش چاپ کو دم سادھے محسوس کرتے بستی والے زندگی کے بوجھ سے نڈھال رہنے لگے.

نیست جیسی ہست آپ نے کبھی دیکھی ہے؟ اس میں کچھ بھی مکمل نہیں ہوتا. نہ موت کی یخ بستگی نہ زندگی کی حدت. بس تو ایسا ہی موسم تھا اس بستی میں. بے حس و حرکت خنکی کا.
امتحان کئی طرح کے ہوتے ہیں. محنت جاری رہے تو آزمائش بھی ہتھیار ڈال دیتی ہے. صبح شام کائی زدہ در و دیوار کو دھول مٹی سے جھاڑتی وہ ایسی ہی باتیں سوچتی رہتی. سوچتی ہی رہتی، کہہ نہ سکتی تھی. الفاظ مر چکے تھےکبھی کبھی وہ سناٹوں سے ہولا کر بستی سے چلے جانے والوں کے نام پوسٹ کارڈ لکھتی. اونہوں ... لکھنے کو تو الفاظ چاہئیے ہوتے ہیں نہ. وہ تصویر کشی کرتی. سورج کی صورت بناتی، مسکراتا کھلکھلاتا سورج، کبھی پھلوں پھولوں سے لدے باغوں کی. کبھی جھاگ اڑاتے، شور مچاتے وحشی دریاؤں کی. تصویریں بنا کر وہ کتنی ہی دیر انہیں دیکھتی رہتی. نقش کے خد و خال پر انگلی پھیر کر وہ ان صورتوں سے وابستہ الفاظ کی آواز کا مزہ لیتی. سماعت زندہ ہو، مگر محروم ہو تو زندگی اپنے رنگ کھو دیتی ہے.

جو جواب اسے موصول ہوتے، انکے دامن میں موجود الفاظ کو دیکھ کر وہ خوشی سے ناچ اٹھتی. اکثر الفاظ اسے بستی چھوڑ دینے کا کہتے. ایسے الفاظ کو بے تحاشہ چومنے کے بعد وہ دیمک سے اٹی کیاری میں گڑھا کھود کے دبا دیتی.بستی کے اپنے الفاظ مر چکے تھے اور ان باغی الفاظ کو بھی مر جانا چاہئیے تھا. بستی کا کوڈ آف کنڈکٹ یہی کہتا تھا، بِنا الفاظ.

ایک دن اس نے اِدھر اُدھر سے کوشش کر کے چند ہتھ گاڑیاں جوڑیں اور سائیوں میں ڈھلتے، تھکے وجودوں کے آگے لا کھڑی کیں. مگر الفاظ چونکہ مر چکے تھے، کوئی اسکی بات نہ سمجھا. خاموش نگاہیں ٹُکر ٹُکر اسکا چہرہ دیکھے گئیں. کسی آنکھ میں کوئی کرن نہ لپکی، کوئی ستارہ نہ دمکا.
اسکی آنکھیں بھر آئیں. آہستگی سے وہ ہتھ گاڑیاں واپس چھوڑ آئی. اپنی سامنے ان تاثرات سے عاری دھندلے چہروں کو دیکھتے ہوئے اس نے زندہ، مگر زندگی سے عاری سب سائے نما لوگوں کی گھٹڑیاں اکھٹی کیں اور اپنے کندھوں پر لاد لیں. سائے خاموش رہے. کندھوں پر اتنا وزن لاد لینے کے بعد وہ اب نقش گری نہ کر سکتی تھی. سو بستی میں جوابی پوسٹ کارڈ آنا ختم ہوگئے. اس دن کے بعد دیمک زدہ کیاری میں کچھ نیا دفن نہ ہوا.



 Image by Leenah Nasir