Sunday, December 18, 2016

اک بانکپن سے جینا اک بانکپن سے مرنا

ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرنا
ان کا بھی کام کرنا اپنا بھی کام کرنا

ہاں کس کو ہے میسر یہ کام کر گزرنا
اک بانکپن سے جینا اک بانکپن سے مرنا

جو زیست کو نہ سمجھیں جو موت کو نہ جانیں
جینا انہیں کا جینا مرنا انہیں کا مرنا

تیری عنایتوں سے مجھ کو بھی آ چلا ہے
تیری حمایتوں میں ہر ہر قدم گزرنا

ساحل کے لب سے پوچھو دریا کے دل سے پوچھو
اک موج تہ نشیں کا مدت کے بعد ابھرنا

اے شوق تیرے صدقے پہنچا دیا کہاں تک
اے عشق تیرے قرباں جینا ہے اب نہ مرنا

ہر ذرہ آہ جس کا لبریز تشنگی ہے
اس خاک کی بھی جانب اے ابر تر گزرنا

دریا کی زندگی پر صدقے ہزار جانیں
مجھ کو نہیں گوارا ساحل کی موت مرنا

رنگینیاں نہیں تو رعنائیاں بھی کیسی
شبنم سی نازنیں کو آتا نہیں سنورنا

اشکوں کو بھی یہ جرأت اللہ ری تیری قدرت
آنکھوں تک آتے آتے پھر دل میں جا ٹھہرنا

اے جان ناز آ جا آنکھوں کی راہ دل میں
ان خشک ندیوں سے مشکل ہو کیا گزرنا

ہم بے خودان غم سے یہ راز کوئی سیکھے
جینا مگر نہ جینا مرنا مگر نہ مرنا

کچھ آ چلی ہے آہٹ اس پائے ناز کی سی
تجھ پر خدا کی رحمت اے دل ذرا ٹھہرنا

خون جگر کا حاصل اک شعر تر کی صورت
اپنا ہی عکس جس میں اپنا ہے رنگ بھرنا



No comments: