Monday, November 20, 2017

Letter To The Past



عزیزساعت گم گشتہ

پچهلے دس برس میں کتنی بار میں نے خود کو تمہاری گرفت میں پایا، شاید حساب لگانا ممکن نہیں. شاید تم وقت کی وہ کروٹ ہو جس کی قید میں زندگی رہن ہوتی ہے ۔۔۔ تا بہ ابد۔ یا پھرایسی خوش بخت نادر گھڑی جوحیات کے جبر مسلسل میں سر اٹھائے تنہا آزاد کھڑی ہوتی ہے. کون جانے حقیقت؟

٢٠٠٧ء کا آغاز تھا. شہر تھا کراچی اور زندگی کا یہ باب فصل گل سے نہیں موسم زوال سے عبارت تھا۔ میری گود میں چند ماہ کا ایک بچہ تھا اور میری ماں نے نئی نئی خاک کی چادر اوڑھی تھی۔ یوں سمجھو میرے قدموں تلے جنت اتری تھی اور میرے سر کے اوپر آسمان گر گیا تھا۔ جیسے سرکس کا کھلاڑی بے پناہ داد کی گونج میں اپنے فن کی معراج کو چھونے کو چرخی سی چھلانگ لگائے مگر کمر سے بندھا رسا ٹوٹ جائے ۔۔۔ پٹاخ ۔۔۔

میری ماں تو میرے لیے کمر کا رسا بھی تھی، چرخی بھی، فن بھی، اور میری معراج بھی.

زندگی جیسے کسی مہیب بلیک ہول میں معدوم ہوتی آواز کی بازگشت میں ڈھل گئی تھی. تم گواہ ہو.

اس دن میں روز کی طرح عصر پڑھ کر گھر سے تھوڑی ہی دور سی ویو پر چلی آئی تھی۔ شوہر کو وہاں کا ماحول پسند نہیں تھا سو مجھے اکیلے ادھر جانے کی اجازت تو تھی مگر گاڑی سے اترنے کی نہ تھی. میری دوستی سمندر سے تھی۔ اسکی لہروں کے مد و جزر کو پارکنگ سے ہی دیکھتے رهنے سے میرے اندر کی شورش تھمنے لگتی۔ شاید ہم نوائی اسے ہی کہتے ہیں۔ انسان ہم سفر کے بغیر تو زندگی جی لیتا ہے، ہم سخن کے بنا نہیں۔ ہم زبان نہ ہوتے ہوئے بھی میرا دل سمندر کے نمکین غم کو پہچان گیا تھا. زبان کی ضرورت تو وہاں پڑتی ہے جہاں گفت محتاج بیان ہو. یہ بات اسی روز سمجھ آئی تھی مجھے۔ تم گواہ ہو.

چونکہ گھر سے فاصلہ زیادہ نہ تھا اور میں کسی خریداری کے لیے نہ نکلی تھی سو بٹوہ یا کوئی رقم ساتھ نہ تھی. گاڑی رش سے ذرا پرے لگائے میں خاموشی سے سمندر کا شور سن رہی تھی۔ بیٹا ساتھ والی سیٹ پر اپنے کیری کوٹ میں سو رہا تھا۔ اتنے میں میں نے اسے اپنی طرف اتے دیکھا۔ ایک ہی لمحے میں میرا دل ڈوب گیا. میرے پاس ایک دھیلا نہیں ہے دینے کو اور یہ ٹلتے نہیں ہیں کچھ لیے بغیر. کوئی کہاں یقین کرتا میری بات پہ ۔ وہ پینتالیس پچاس برس کا خواجہ سرا اپنے رنگین سراپے کے ساتھ کھڑکی سے آ لگا ۔ میں نے گاڑی کے ریز گاری والے خانے سے پندرہ روپے اکٹھے کیے اور مٹھی اگے کر دی. میری ہمت نہیں تھی کسی بحث مباحثے کی.

“واہ ایسی نئی چم چم گاڑی میں بیٹھی میم ہے، شریفان تو پانچ سو لیے بغیر نہیں جائے گی۔“ شریفان چمک کر بولا اور ہاتھ سے پیسے نہ اٹھائے.

“میرے پاس پیسے نہیں ہیں.“ میں نے ہوم ورک نہ کر کے انے والے بچے کی سی شرمندگی سے کہا۔

“تیرے پاس نہیں ہیں پیسے تو پھر کس کے پاس ہوئے یہاں پیسے؟ صدقه دے اپنا شریفان کو. اتنی پیاری بیٹی ہے تیری ۔۔۔ سب رنگ روپ تیرا ہے اسکا. اسکا بھی صدقه دے ۔ شہزادہ آئے گا بیاہنے تیری بیٹی کو.“ اسکی زبان کی روانی، اسکے ہاتھوں کی لوچ، اسکے لہجے کی ترنگ، اسکے انداز کی شوخی ۔۔۔ میں کچھ دیر کو بول ہی نہ پائی۔ پھر میں نے کھڑکی کا شیشہ مزید نیچے گرایا اور پندرہ روپوں والی مٹھی پھر اگے بڑھائی۔

اب کی بار میں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، لجاجت سے مخاطب کیا.

“میری بہن، میرے پاس اس وقت واقعی کچھ نہیں ہے. صرف یہ ہیں.“

یک لخت دیومالائی کہانیوں کے طلسم ہوشربا کی طرح منظر تبدیل ہو گیا. اچانک میرے سامنے رنگ و روغن سے مرصع بلند آہنگ بازاری پن والی ایک کریہہ صورت نہ تھی. اب وہاں ایک ڈھلتی عمرکا سنجیدہ مرد تھا۔ رنگ جسکے چہرے پر لگے تو ہوئے تھے مگر اب اس چہرے کا حصہ نہ رہے تھے۔ اس چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی. ایسی سنجیدگی جو سیلاب زدہ زمین میں اترنے والی زرخیزی کی طرح، صرف غم سہہ لینے کے بعد جنی جاتی ہے. چند لمحے خاموشی سے سرک گئے۔ میں اور شریفان ایک دوسرے کو یوں ہی دیکھے گئے۔ پھر میں نے شریفان کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھے۔ میری سسکی سینے کے اندر گھٹی اتنی ہی زور آور تھی جتنا سمندر کی تہہ میں کوئی زلزلہ۔

شاید ہم نوائی اسے ہی کہتے ہیں۔

شریفان نے ہاتھ بڑھا کر میری پھیلی ہتھیلی میں سے ریزگاری چن لی۔ پھر اسکا ہاتھ دوبارہ اگے بڑھا اور میرے سر پر ٹک گیا. میرا وجود بے آواز سسکیوں کے ساتھ لرزتا رہا اور شریفان کا بھاری ہاتھ میرے سر پر بوسہ دیے گیا بالکل ویسا جیسا میری نگاہ سمندر کے چہرے کو دیے جاتی تھی.

زبان کی ضرورت تو وہاں پڑتی ہے جہاں گفت محتاج بیان ہو.

میں نے بہت دھیمی آواز سنی، اتنی دھیمی کہ اگر اس وقت تمام حسیات بیدار نہ ہوتیں تو شاید میں اسے اپنا وہم سمجھتی. شریفان کی مدھم سرگوشی تھی، “میری دھی، رب تجھے خوش رکھے.“

تم اس دعا کی گھڑی ہو. تم گواہ ہو.

پھر شریفان اگے کو لپک گیا
۔
چند ثانیے توقف کے بعد میں نے بھی گاڑی گھر کو موڑ لی.

میں اس دن کے بعد سمندر سے غم بانٹنے نہیں گئی۔ ضرورت نہیں رہی. دکھ سانجھا گیا تھا! 

اے عزیزساعت گم گشتہ، شاید تمہارا طول ہی اتنا بے انت ہے کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔

الله تمہارے دامن کی وسعت کو قائم رکھے. آمین

Image courtesy: http://www.georgegaldorisi.com/the-future

Thursday, November 16, 2017

But The Fact Is ...



Some nights I stay up with a passion ... as if the few hours would make for an endless night, in which I'd sort out every worry that plagues my heart, every fear that claims my mind. Man is naïve like that. 

Our wishes are not horses. 

Our trades are barters, and yet we understand it not. 

Another endless night is drawing to a closure. I don't have any solution yet again. This is an ongoing thing. 

My heart aches like the wings of an injured bird that has miles of journey left in a direction it has no clue of.

Wait! I tell it. I tell it every night. Night after night.


While I run through my day pretending my heart is not like the aching wings of an injured bird. Pretending that I can carry the mountains Hercules would've shied away from. I don't know if all those quoting this line understand what it means: 'I walk around like everything is fine, but deep down inside my shoe, my sock is sliding off.'
I wonder because whenever I hear it, I feel the need to fix my socks. I know how the sliding sock feels.  


So I stay up at night. To sort out every worry. To tell the injured bird with aching wings to have faith. To find solutions. To wait.

But wishes are not horses. 




Image: Stone age painting of men riding horses found in the Bhimbetka rock shelters in India.
Photo credit: Wikimedia