Sunday, April 15, 2018

وطنی



مقام کی تعریف تو قیام سے مشروط ہے، مگر جس طرح پودے زمین پر ہی نہیں، بحر میں بھی پنپتے ہیں اور انکی جڑیں پانی کے بہاؤ کے ساتھ ڈولتی رہتی ہیں. اسی طرح ہم میں سے کچھ سیلِ رواں کو اپنا ٹھکانہ مانتے ہیں، جمود سے باغی ... مسلسل سفر، مسلسل حرکت! ایک لامتناہی ہجرت کا مضمون.

اس شام مغرب کے بعد، جب چودھویں کا چاند اپنے جوبن کی رعنائی کے ساتھ طلوع نہیں ہوا تھا، میں ہاتھ پانی میں ڈبوئے دریائے سندھ کے لمس کو محسوس کیے گئی. پیچھے سے پڑنے والی متواتر آوازوں کو ان سنی کرتے ہوئے مین نے اپنی تمام حسیات اپنے سامنے اس قدیم دریا پر مرتکز رکھیں. اس کی سرگوشیوں میں حکایات تھیں. اسکی روانی میں سبق. اسکے لمس میں تاریخ. ہم دونوں کا آپس کا تعلق کوئی نہیں جانتا، اور نہ ہی سمجھ پائے. 

میانوالی سے آگے، عیسٰی خیل کی سنگلاخ چٹانوں کے قریب کالا باغ کا علاقہ ہے. یہاں دریائے سندھ قدرتی ڈیم کی گود سے اترتا ہے. اپنے انجام سے بےخبر، اپنے سفر کی طوالت سے بےپروا، سندھ ایک شریر بچے کی معصومیت کے ساتھ کالاباغ کے دامن میں مچلتا، ہمکتا جاتا ہے. کنارے پر پھیلا بوہڑ کا تاریک جنگل، جس کے درخت اب شاخوں اور جڑوں کی تخصیص سے بےنیاز ہیں، اس منظر کا خاموش گواہ ہے. 
'یہ درخت کتنے پرانے ہیں؟' میں نے نواب آف کالا باغ کی حویلی کے ملازم سے پوچھا. 
ہزار سے دو ہزار سال کا تخمینہ تھا. 

میرے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی.
سوچو، ہم میں سے کسی پر گواہی کی ذمہ داری ہو ... صدیوں پر پھیلے وقت کی گواہی کی ذمہ داری. کیا اسکا بوجھ ہمارے کندھے جھکا نہیں دے گا؟ کیا ہم درک کی وقعت سمجھتے ہیں؟

سندھ سے میرا پہلا تعارف اس ملاقات سے تیس برس پہلے ہوا تھا.
گلگت سے آگے، شاہراہ قراقرم کی پتھریلی مچان سے میں نے دریا کی پہلی گونج سنی تھی. میں اپنی ماں کی ٹانگوں سے لپٹ گئی تھی. مجھے آج تک اس جھاگ اڑاتے شورش زدہ پانی کی شدت یاد ہے. میری کمسنی کو اسکی آواز میں دھمکی سنائی دی تھی. وہ دھمکی کہتی تھی کہ دریا ادھر گہرائی میں سے اچھل کر پہاڑ پر آ دھمکے گا. ہمیں ڈبو دے گا. کم سنی، ناتجربہ کاری، اور گہرائی کا نہ ہونا، یونہی سہما دیتا ہے انسان کو. دوسرے کی گہرائی ہمارے لیے خوف کی دوزخ بن جاتی ہے. 
خیر ... دریائے سندھ ادھر، گلگت بلتستان میں دریائے کابل کا دیباچہ، ایک غضب ناک شہنشاہ کی جلالت کے ساتھ قراقرم سے بھڑتا گزرتا ہے. اسکی ہیبت، اسکا جوش، دیکھنے والی آنکھ کی پتلی، اور وقت کے لمحے پر ثبت ہو جاتا ہے. شاید جلال کو اسی لیے جمال کے پردے میں رکھنے کی تلقین کرتے ہیں بڑے بزرگ، کہ غیض و غضب کا نقش انمٹ ہوتا ہے. 

پنجند اور سندھ کے اتصال کے مقام پر آکر، سندھ ٹھہر سا جاتا ہے. اسکی طبیعت کا ہیجان اب سکون کا سانس لیتا ہے. مختلف میلان ملتے ہیں تو اپنی تندی کو قابو میں رکھنا آتا ہے. اپنی وسعت جانچنا آتا ہے. خوش بخت اس لمحے کی عطا سنبھال لیتے ہیں، باقی اپنا غرور پال لیتے ہیں. 

میں نے سندھ کو لینس ڈاؤن پل پر خصوصی طور پر چلائی گئی ریل گاڑی سے عبور کیا ہے. پُل کی بنیادوں کو سہلاتا دریا، اپنی گہرائی کی بازگشت اوپر تک سنا دیتا ہے. وہاں اسکے مزاج میں ادھیڑ عمری والا پُر سوچ سکون ہے. یا شاید یہ دھرتی کی حلاوت ہے جو دریا کے سینے میں، اسکی روانی میں اتر آتی ہے. 
میں نے لاڑکانہ کے مالٹوں کے باغ میں، خیرپور کے دامن میں پھیلے نخلستان میں، بھٹ شاہ کی فضا میں، دریائے سندھ کی اس تاثیر کو برابر چکھا ہے. لمبا سفر کرنے والے کا بدن تو خستہ ہو جاتا ہے، لیکن اسکے کردار کی چاشنی بھی پھر اپنی مثال آپ ہوتی ہے. کون کتنی مشقت سے کتنے جتن سے اپنا جوہر کشید کرتا ہے، بات تو سب اپنی لگن کی ہے.

میں نے سندھ کو بحیرہ عرب کی گود میں اترتے دیکھا ہے. کراچی کے آسمان میں اسکی نیلاہٹ کو جھلکتے دیکھا ہے. اس کے دامن کی وسعت کو اس شہر کی غریب پروری میں دیکھا ہے. 

سندھ کا سفر مجھے اپنی روح کا سفر لگتا ہے. اس دریا کے رنگ میں مجھے اپنی ذات کا انگ نظر آتا ہے. وابستگی محسوس ہوتی ہے. اس دریا کے پہلو میں مجھے ہمیشہ حالتِ حضوری نصیب ہوتی ہے. مجھے گھر ملتا ہے. وطن کا احساس ملتا ہے.


Image: A glimpse of Indus, through my cellphone.

No comments: