Friday, August 24, 2018

نعرۂ مستانہ


اسکی آنکھوں کے سیاہ حجرے میں جب میں اعتکاف بیٹھا، تو دل کے ہر معبودِ دگر، ہر خداوندِ کہن سے ابراہیم آ بھڑا. 
ان نگاہوں کے میخانے نے جب میری بادہ پیمائی کا بھرم توڑا تو اب جام میسر آئے نہ آئے، میری مستی کی چھلکن کم ہو کے نہ دیتی.
اسکی چشمِ ناز کی جنبش جب میری ہستی کا کُل مول ٹھہری، تو میں اسکے دربار میں بک کر یوسف بن گیا.

لوگ کہتے ہیں وہ زندگی کا در پار کر گیا. میرا محبوب، نیست کی چادر اوڑھ گیا. میں پاؤں زمین پر مار کر پھر سے ناچ اٹھتا ہوں. میرے اندر کا اکتارہ ایسے گونجتا ہے کہ لوگ میرے گھنگرو بنے وجود کو حیرت سے تکتے ہیں. جو مجھے اور بدیع العجائب، دونوں کو بھا گیا، اس نے مجھ خاک نشین کو کیونکر ہمنشینِ رب نہ بنا دیا؟

جس کی فرقت تک خدائی نواز دے، ایسے محبوب کے مسلکِ عشق کی خیر!

No comments: