About This Blog

Showing posts with label Ishq. Show all posts
Showing posts with label Ishq. Show all posts

Sunday, July 28, 2019

Reality




It was not my usual path. The road is out of way for any school, office traffic in the early morning hours. I don't recall how did I end up taking that way to work. 


The old man sat head bent, on the sidewalk outside a crumbling, deserted cinema; with a shabby sack and an armload of shabbier, dim, old, used stuffed toys. No customers, no chance of a sale. Just a gloom ridden background, and an equally fragmented foreground. 

The visual was quite out of a painting, if you ask me. Or perhaps it could have been a Majid Majidi film. Who knows how to define reality, really?

I slowed down driving past him ... just to be sure that he was ok. The old man raised his head slightly from the resting position at his knees and asked, "chahiyain?" 

No, I shook my head. 

He went back to his earlier posture. 

I drove a few meters ahead but couldn't manage any further. Reversing the car, I stopped in front of him again. He looked up, this time only his eyes talking. 'What now?' They seemed to ask.

I suggested a deal. 

When his hand reached for the bill in my hand, he didn't hold it. He touched it and keeping his touch there, without taking the bill from me, he sobbed, "Allah Madina dikhaey! Allah Madina dikhaey!"

The bill shook between our fingers.

I had a difficult drive on my way ahead. I had a difficult day getting over that moment. Quite honestly, I'm still struggling. 

Who purchases Madina on a deserted street outside a forlorn cinema at 8 in the morning, with a grimed, crumpled note? 

Who knows how to define reality, really?


(This is the story of a happening on March 22nd, 2019. It had been in my drafts folder since then, when I had shared it in my online book club. Putting it here now.) 

Wednesday, June 5, 2019

ورتھ وائل ٹرانزیکشن



ابھی شعبان کا نصف ہی ہوا ہوتا ہے کہ لاہور کی سڑکوں پر رمضان کے آثار دِکھنے لگتے ہیں. جگہ جگہ گداگروں کے جھنڈ کے جھنڈ. کوئی چوراہا، کوئی ٹریفک سگنل، کوئی اسپتال، کوئی خریداری کا مرکز ... کسی جگہ مانگنے والوں سے مفر نہیں. اور مسئلہ صرف یہیں تک رہتا تو شاید کوفت سنبھالی بھی جاتی، بات تو اب یوں ہے کہ سوالی سوال کم کرتا ہے دھونس سے زچ زیادہ کرتا ہے.
اب تو پھر باقاعدہ روزے شروع ہو گئے تھے. ایک تو مئی کی چلچلاتی گرمی، اوپر سے دفتر کی چخ چخ. اور پھر یہ زارا کی افطار پارٹیز کے چونچلے. نیند یوں بھی پوری نہیں ہوتی، پیٹ خالی اور پھر سڑک پر یہ گداگروں کی غنڈہ گردی ... زید نے جھنجلا کر پھر سے ہارن بجایا. اشارے پر رکی اگلی گاڑی والے نے شیشہ نیچے گرایا اور ہاتھ باہر نکال کر ایک نازیبا اشاره کیا. اس نے جواباً ایک ننگی گالی بکی. اشارہ جیسے اسی گالی کا منتظر تھا، جھپاک سے سبز ہو گیا. زید کا پاؤں ایکسلریڑر پر جا ٹکا.

سپیڈ ہی تو زندگی ہے.
----

ولید چچا لاہور چھوڑ کر ایبٹ آباد میں کیوں بن باس لیے بیٹھ گئے، سارے خاندان میں ہر بڑی محفل میں یہ کہانی دعوت کے منیو کا حصہ سمجھی جاتی ہے. پچھلے سولہ سال سے اس منیو آئٹم کا ذائقہ ہر قصہ گو کے تخیلاتی ذوق اور ہمدردی کے رخ کے ساتھ بدلتا رہتا ہے. کوئی بھنے اُلو کھا لینے کے نقصانات بتاتا، کوئی دادا کی کمائی کسی بد دعا کا ذکر کرتا، کوئی اپنا صبر دادی پر پڑنے کی داد مانگتا ... غرضیکہ جتنے منہ، اتنی کہانیاں.

فاخرہ چچی کہتی تھیں انہوں نے اکثر اس لڑکی کو جرمنی میں ٹرین میں دیکھا ہے جسکی وجہ سے ولید چچا دربدر ہوئے. آئدہ پپھو کہتیں چچی سدا کی جھوٹی ہیں، وہ لڑکی گلبرگ میں ہی رہتی ہے. اعلیٰ تعلیمیافتہ نوجوان کس طرح کسی لڑکی کے پیچھے جوگ لے بیٹھا، زارا کو یہ ساری کتھا کریدنے میں بڑا مزہ آتا.

سسپنس سے ہی تو زندگی میں رومانس پیدا ہوتا ہے.
----

اسلام آباد تبدیلی کے بعد یہ میرا پہلا رمضان تھا. ہفتہ تو جیسے تیسے کاٹ ہی لیتا، ویک اینڈ کے لیے البتہ میں خاصا پرجوش ہوتا. شہر سے دور. کھوکھلے قہقہوں اور مصنوعی سوشل سرکلز سے پرے. فطرت کے قریب. جمعہ کی سہ پہر ڈرائیو کے دوران میں سوچ کر ہی سرشار ہو گیا.

مزے کی بات بتاؤں؟

میں جس دوست کے پاس رہنے جا رہا تھا آپ میں سے کوئی بھی اسے نارمل نہ سمجھے.
سٹینفورڈ کا گریجویٹ، ایک قصبہ نما شہر میں جوتوں کی دکان کھول کر بیٹھ جائے تو آپ کیا سمجھیں گے؟ بندہ لیکن کمال تھا.
دکان کے اوپر تین کمروں کا فلیٹ تھا. ایک کمرے میں خود رہتا تھا، ایک میں کتب خانہ بنا رکھا تھا، اور تیسرے، بڑے کمرے میں چار بچے رہتے تھے. بچے ہمہ وقت دکان کے ملازم بھی تھے، اسکے شاگرد بھی اور لے پالک اولاد بھی. فجر کے بعد صبح نو بجے تک کتب خانے میں حساب اور انگریزی کا مدرسہ چلتا تھا. اس کے بعد دکانداری. ظہر سے عصر کے درمیان دکانداری کا وقفہ ہوتا تھا اور وہ ان سب کو لیکر کوئی اسلامی ادب پڑھتا. میرا تعارف ابن عربی اور مارٹن لنگز سے انہی بچوں کے سبب ہوا. کلیم کی عمر 17 برس تھی اور اس نے اس سال میٹرک کا امتحان دینا تھا. نوید 15 برس کا تھا. شہزاد 14 کا، اور کاشف 11 سال کا. سب سے چھوٹے کاشف کو چھوڑ کر باقی تینوں بچے اس نے سڑک سے لاوارث حالت میں اٹھاۓ تھے. نوید اور شہزاد نے تو آنکھ ہی اسکی گود میں کھولی تھی. نوزائدہ تھے جب اسے فجر سے واپسی پہ کوڑے کے ڈھیر سے ملے تھے. کلیم کا باپ مرگیا تھا اور سوتیلی ماں اپنے دونوں بچوں کو لیکر اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی. ان تینوں کی کُل کائنات "جفت ساز" کی یہ چھت ہی تھی. کاشف البتہ لاوارث نہ تھا. فقیروں کا لڑکا تھا. اسکی ماں اسے ساتھ لیکر میونسپل کمیٹی کی ڈسپنسری کے باہر بھیک مانگتی تھی. میرے دوست کی آتے جاتے نظر پڑتی رہتی. ایک دن وہ اس کی ماں سے سودا کر آیا. ماہانہ وظیفہ لگادیا بچے کا جو ماں باپ کے حوالے کر کے اس نے بچے کو اپنی کفالت میں لے لیا. کاشف کو اب دو سال ہو چلے تھے یہاں اور ان سب بچوں میں سے سب سے ہوشیار یہی تھا. میں سوچ کر مسکرا دیا. اب کی بار میں نے اس کے لیے بچوں کا سپیس انسائیکلو پیڈیا لیا تھا. انگریزی میں چالو نہیں ہوا تھا لیکن فزیکس کی طرف اسکا بہت رجحان تھا.

اللہ جانے ولید کے ہاتھ نہ لگتا تو اب تک کیا بن گیا ہوتا. ایسے کتنے ہی بچے ہوں گے اس ملک میں، سڑکوں پر رُلتے، ہماری آنکھوں کے سامنے خاک ہوتے، اور ہم اپنی ڈربی ریس میں اندھادھند دوڑی چلے جا رہے ہیں. سفر کا ہوش نہیں، راستے کا پتہ نہیں اور انجام کی فکر نہیں. مجھے جھرجھری آ گئی.

یہ تو بھلا ہو ارم کا. اس نے مجھے ولید سے ملوا دیا. سال پہلے میں ایک کورس کے سلسلے میں یورپ گیا تو میری ملاقات وہاں ارم اور اسکے شوہر سے ہوئی. انتہائی نفیس لوگ. ایک آرٹسٹ، ایک معاشیات کا ماہر، دونوں اپنے اپنے شعبوں میں پڑھاتے تھے. 6 ہفتے کے دوران ہم اس طرح گھل مل گئے کہ ایک گھر کے فرد لگتے. وہیں مجھے ولید کے بارے میں معلوم ہوا. ارم کی جڑواں بہن ریما، ولید کی یونیورسٹی میں کلاس فیلو تھی. دونوں کی اچھی دوستی تھی. گریجویشن کے بعد ریما کی شادی ہوگئی اور ولید نوکری کے لیے یورپ چلا گیا. ریما کی شادی نہ چل سکی. جسم پر مار پیٹ کے داغ، دامن پر طلاق کا داغ اور کردار پر کیچڑ کے داغ ... دو سال کے اندر اندر لڑکی داغی ہو گئی. ولید انہی دنوں پاکستان لوٹا تھا. گھر میں شادی کا موضوع گرم رہتا تھا. اس نے ریما سے شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا. ولید کا خاندان تعمیراتی سامان کے کاروبار میں ملکی سطح پر ایک جانا مانا نام تھا. گھر میں تو سمجھو ایک بھونچال آ گیا. ایک عورت جو طلاق یافتہ بھی ہو، ایک بچے کی ماں بھی ہو، اس کو کیسے وہ اپنے لاڈلے ہونہار بیٹے کی دلہن بنا دیتے. 'اسکی امی نے کہا، میرے بیٹے میں کوئی نقص ہوتا تو میں آپکی طلاق یافتہ بیٹی سے اس کی شادی کا سوچتی بھی. وہ لنگڑا ہے؟ کانا ہے؟ معذور ہے؟' ارم کی آواز کہانی سناتے ہوئے کانپ رہی تھی.

ہم عیبوں کی بارٹر ٹریڈ کرنے والے لوگ ہیں. اس لیے بحیثیت مجموعی ہم ناخوش رہتے ہیں. خوبیاں ڈھونڈیں تو دوسروں میں خوبیاں دِکھیں نا. ہم ڈھونڈتے ہی کمیاں ہیں. اور خود ہماری ذات میں کوئی کجی ہمیں نظر نہیں آتی، سو حساب کبھی برابر بیٹھتا ہی نہیں. ہم اپنے اپنے زعمِ برتری کی صلیب اٹھائے تنہا پھرتے رہتے ہیں.

ریما کیا چاہتی تھیں؟ میں نے ارم سے پوچھا.
'عزت. وہ اتنا تھک گئی تھی وقعت کے ترازو میں اہل پائے جانے کے لیے تُلتے تُلتے کہ اس کو ولید کے نام سے وحشت ہونے لگی تھی.' سال ڈیڑھ سال یہ تماشا چلتا رہا. ولید کے لیے ریما اور والدین کی رضا دونوں اہم تھے. پہلے والدین نہیں مانتے تھے پھر آخر ریما نے انکار کر دیا. وہ ولید سے، اس پورے قضیے سے کوئی واسطہ نہ رکھنا چاہتی تھی. ولید کے والد نے کہا وہ آئیندہ ریما کا نام اپنی زبان پر نہیں لائے گا. ولید مان گیا. حالات اپنے حق میں دیکھ کر انہوں نے اس کا رشتہ اپنے کسی جاننے والے کی بھتیجی سے طے کرنا چاہا تو بات بگڑ گئی. ولید اس پر تیار نہیں تھا. "اگر یہ شادی نہیں کرنی تو ابھی اس گھر سے دفع ہو جاؤ!" انہوں نے شرط رکھی. جانتے تھے حکم عدولی اسکی سرشت میں نہیں. سو اس نے ان کی شرط مان لی. اسی رات گھر چھوڑ دیا.

اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی ارم کے شوہر اسد نے ولید کی سُن گُن رکھی تھی. گنجلک تعلق داری کے باوجود وہ دل سے ولید کو پسند کرتا تھا. اس نے مجھے پتہ دلوا دیا.

"مل اسے جا کر. اور کچھ نہیں تو دنیا کو ایک مختلف لنز سے دیکھنے کا موقع ملے گا."

اور یوں میں ایبٹ آباد ولید سے ملنے چلا آیا تھا.

نامور خانوادے کا چشم و چراغ، فارن کوالیفائیڈ، دکان میں جوتوں پر جھاڑن مارتا نظر آئے تو حیرت تو بنتی ہے نا؟ مزے کی بات یہ ہے کہ میں کتنی ہی مرتبہ یہ منظر دیکھ چکنے کے باوجود حیران ہوتا، اور ولید میری حیرت سے ہر بار محظوظ ہوتا.

"ڈو یو نو، وٹ ایکچوئیلی بودرز یو؟"

(do you know what actually bothers you?)

ایک دن اس نے مسکراتے ہوئے مجھ سے پوچھا تھا.
وٹ؟

(What?)

میں نے کندھے اچکائے.
"دی آئیڈیا دیٹ یور کانسپٹ آف بائینری ڈیفینیشن آف سکسیکس کڈ بی رانگ. دی پاسیبلیٹی دیٹ دئیر کڈ بی آ ہول ورلڈ یٹ ان نون ٹو یو. دیٹ بودرز یو."

(The idea that your concept of binary definition of success could be wrong; the possibility that there could be a whole world yet unknown to you; that bothers you. )
پھر وہ دھیمے سے مسکرایا. "خود کو عاجز سمجھنے سے گھبراتے ہو. اپنے علم کی محدودیت کو قبول کر لینے سے خائف ہو... نہ ڈرو. حیرت اور عاجزی تو ایمان کی بڑی گہری سہیلیاں ہیں. بڑے کام کی چیزیں ہیں."
میں خاموشی سے پشاوری قہوے کی چسکیاں لیتا گیا.

کچھ ماہ پہلے ایک دن اسی موضوع پر پھر بات چھڑ گئی. میں اسکے طرززندگی کو غیر معقول گردان رہا تھا. وہ مجھے ایسے پچکار رہا تھا جیسے کسی بچے سے مخاطب ہو. میں مزید چڑ رہا تھا.
"دیکھو، میں تمہاری بات سمجھ رہا ہوں. اور تم جانتے ہو کہ میں دل سے تمہارے خلوص کا قائل ہوں، اس لیے اس موضوع پر تم سے مکالمہ ہو پاتا ہے. ورنہ اب میں اس بارے میں کسی بحث میں نہیں الجھتا...
تم سمجھتے ہو میں زندگی ضائع کر رہا ہوں. ایسا تم اس لیے سمجھتے ہو کیونکہ  
  Productive life تمہاری اور میری پروڈکٹو لائف
 کی تعریف بہت مختلف ہے. تم کارپوریٹ لائف یا کنزیومراسٹ سوسائٹی کی ریٹ      
ریس  
(rat race)
 کو پروڈکٹیوٹی گردانتے ہو. میں نہیں گردانتا."

"تم کس چیز کو پروڈکٹوٹی کی معراج مانتے ہو؟"

"شکر کی توفیق کو. 'لعلکم تشکرون' کے ایجنڈا کو."


میں بھونچکا رہ گیا. ولید میرے تاثرات سے بے نیاز بولتا چلا گیا ... "سو آئی ڈو وٹ کیپس میں موسٹ الائینڈ ود دیٹ ایجنڈا
(So I do what keeps me most aligned with that agenda). آسائش، امارت، تونگری، اگر شکر کی توفیق کے پیمانے ہوتے تو ایمان لانے والوں میں ہر دور میں امراء سب سے پہلے ہوتے. یہ سب بے معنی سوشل سٹینڈرڈز ہیں. جسٹ ڈو وٹ میکس یو موسٹ گریٹ فل، موسٹ مائینڈ فل آف یور بلیسنگز، موسٹ اویئر آف بینگ الائیو.
 (Just do what makes you most grateful, most mindful of your blessings; most aware of being alive!)"

اور پھر اس دن کے بعد میں نے دوبارہ کبھی اسکی چوائس آف لائف پیٹرن پر اعتراض نہیں کیا تھا. میں نناوے کے چکر میں پھنسا ایک دنیادار... میں نے کونسا شرابِ تشکر چکھی تھی جو اسکے سرور پر شک کرتا.

(binary-ism)یوں انجانے میں ہی میرے بتانِ بائینریـازم
  میں تریڑ پڑنے لگی. وہ کیا بھلی بات کہہ گئے ہیں جمال احسانی:

یہ بات تیرے عشق نے سمجھائی کہ دنیا
کچھ اور ہے محروم و میسر کے علاوہ

میں گہرائی نہیں رکھتا. میرے دکھ سکھ، لاگ لگاؤ، وسوسے اور یقین نما گمان، سب چھلکتے پھرتے ہیں. سو اب جہاں گہرائی کا امکان نظر آ رہا تھا، میں نے ڈیرے ڈال دیے تھے. کچھ نہ کچھ فیض ہاتھ لگ ہی جائے گا. امید بھی تو ایمان کا ہی ایک درجہ ہے نا!

عین مغرب کے وقت میں جفت ساز پہنچا. افطار کا دسترخوان لگ رہا تھا. حاجرہ بی بی ایک فالتو بندے کو دسترخوان پہ دیکھ کر بالکل بدمزہ نہ ہوئیں. بڑی کام کی خاتون ہیں حاجرہ بی بی. شروع میں ہی ولید کو مل گئی تھیں. انکا شوہر موچی تھا. ولید نے اسکو دکان پر ملازم رکھ لیا اور بی بی کو گھرداری سونپ دی. بی بی کچھ سال بعد بیوہ ہوگئی، لیکن یہاں انکی روزی روٹی کا وسیلہ یوں جڑا تھا کہ آج تک قائم تھا. بی بی کی بیٹی کی شادی پچھلے سال ہی ہوئی تھی. بیٹا نسٹ میں پڑھ رہا تھا.


انہوں نے بڑے پیار سے مجھے پوچھا. کھجور اور شربت سے روزہ کھولا. تازہ چپاتی اور اروی گوشت کا مزہ ہی اور تھا. تھوڑی دیر بعد میں پاؤں پسارے نیند سے چور تھا. بچے سب خوشی خوشی اپنی کتابیں لیکر جا چکے تھے.
بس کاشف کا انسائیکلو پیڈیا رہ گیا تھا.

"کاشف نظر نہیں آیا. گھر گیا ہے ملنے؟" میں نے پوچھا.

"گھر نہیں گیا. گھر والوں کے ساتھ گیا ہے." ولید نے رسان سے جواب دیا.

"کہاں؟"

"لاہور."

"ہیں؟" میں اٹھ بیٹھا تھا. "کیوں؟"

"رمضان میں جاتا ہے ہر سال."

"لاہور ہے یا مکہ مدینہ جو رمضان میں ثواب کمانے جاتا ہے خاندان؟"

ولید مسکرا دیا.

"ثواب نہیں کمانے جاتا. بس کمانے جاتا ہے. عید سے پہلے. ہر سال یہ ایک مہینہ کاشف گھر والوں کے ساتھ لاہور جاتا ہے."

عجیب مصیبت ہے ولید سے کوئی جواب اگلوانا. اب میں نے سیدھا سوال پوچھا، "کیا کرتے ہیں لاہور جا کر؟"

"بھیک مانگتے ہیں." اسی سکون سے جواب آیا.

چند لمحے خاموشی سے رینگ گئے.

"تم جانے دیتے ہو؟" میں نے بے یقینی سے پوچھا.

ہم کھلے آسمان تلے، چھت پر چارپائیوں پر لیٹے تھے. ولید نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے لمبا سا ہنکارا بھرا.

"کیوں؟ "، میں نے پوچھا.

وہ میری طرف کروٹ لے کر بتانے لگا.
"بہت سی وجوہات ہیں... اول، وہ اس کے والدین ہیں، اور میری پسند، ناپسند سے زیادہ انکی رضا کا وزن ہے. میں اس کا استاد ہوں. میں اسکے لیے کیسے رشتوں کو آزمائش بنا دوں؟ جو استاد علم حاصل کرنے والے کا ادب کر نہ سکے، وہ خاک استاد ہوا!

دوم، میرا کام اس بچے کو اجازت دینا، نہ دینا نہیں ہے. میرا کام اس کو اپنا فیصلہ خود کرنے کی سٹیج تک پہنچنے کے لیے شعور فراہم کرنا ہے. وہ میں اپنے تئیں کر رہا ہوں.
اور سوم، میرا اندازہ اگر غلط نہ ہوا، تو یہ کاشف کا آخری ایسا پھیرا ہے." اندھیرے میں بھی اسکے لہجے میں مسکراہٹ کی جھلک دِکھ رہی تھی.

"تمہیں کیسے پتہ ہے؟"

"اس لیے کہ اب کی بار وہ صرف اس لیے گیا ہے کیونکہ اس سے انکار ہو نہیں پا رہا تھا. اس کا دل نہیں مان رہا تھا. دماغ نہیں اجازت دے رہا تھا. لیکن ابھی اپنی رائے، اپنی دلیل پر بھروسا نہیں تھا اسے. مجھے ہے. اگلے سال خیر سے بارہ برس کا ہوگیا ہو گا. میرے رب کا کرم شاملِ حال رہا تو اگلے سال یہ اپنے بہن بھائیوں کو بھی روک لے گا."

"اتنا یقین؟" میں اسکے فخریہ لہجے پر مسکرا اٹھا تھا.

"بات میرے یقین کی نہیں، اللہ کی رضا کی ہے. اور اللہ کی رضا سے مجھے بڑی امید ہے. کاشف ماشاء اللہ بہت روشن ہے. اللہ بھاگ لگائے گا اسے.
تمہیں پتہ ہے میں نے اسکے ساتھ جانے سے پہلے ایک گفتگو کی. آداب کے بارے میں."

"مانگنے کے آداب؟"

"نہیں. سوالی کو جواب دینے کے آداب. بات رولز آف بزنس سمجھنے کی ہے نا. سو میں نے اس سے کہا، بیٹے جو مرضی کرو. لیکن کرو طریقے سے. سلیقہ نظر آنا چاہیے."

"مانگنے کا سلیقہ؟" میں ہنس پڑا.

"ٹرانزیکشن کا سلیقہ. مانگنے کے آداب کے بارے میں وہ مجھے سکھائے گا واپس آ کر. 
ابھی میں نے بریفنگ دی ہے. سو دیٹ ہی انڈرسٹینڈز  
(So that he understands)
کہ جس سے وہ انگیج کر رہا ہے اپنی ٹرانزیکشن میں، وہ ورتھ وائل   (worthwhile)
 ہے بھی یا نہیں."

"واہ ... کیا شاہانہ اپروچ ہے! گداگری میں بھی آپ نے ریونیو ماڈل بنا لیا ہے." میں نے اسکی ڈگری کے حوالے سے چوٹ لگائی.

ولید کی آنکھیں اندھیرے میں چمک اٹھیں.

"بس اسے ورتھ وائل ٹرانزیکشنز کی پہچان ہو جائے!"

"اینلائیٹن می!" (Enlighten me!)

ولید چارپائی پر چوکڑی مار کر بیٹھ گیا.

"جب ہم کسی سے بھیک مانگتے ہیں نا، یا
سوال کرتے ہیں، کوئی حاجت پیش کرتے ہیں، یا کوئی درخواست کرتے ہیں، تو دراصل ہم مرتبوں کے باہمی فرق کو ایکنالج   
(acknowledge)
کر رہے ہوتے ہیں. ہم اصرار کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم من چاہی نعمت کے کم تر مقام پر ہیں اور دوسرا برتر مقام پر ہے. دوسرے کی برتری اس مقام پر ہم سے اس قدر زیادہ ہے کہ وہ اپنی برتری میں عطا کر دینے کے درجے تک پہنچا ہوا ہے، اور یہ کہ عطا کر دینے سے اسکی شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی. اور ہم اس سے یہ یقین رکھتے ہیں کہ جب ہم اپنا ہاتھ اس کے آگے پھیلائیں گے تو وہ ہماری ضرورت پوری کرے گا.

یہ ہے پہلا باب.

اب جس سے سوال کیا گیا ہے وہ اس یقین کو کس طرح سرہاتا ہے. اسکی قدرت اور ظرف دونوں کا امتحان ہوتا ہے یہاں. بہت سے لوگ عطا کی قدرت نہیں رکھتے، پر ظرف رکھتے ہیں. بہت سے ایسے ہیں جو قدرت رکھتے ہیں مگر ظرف سے محروم ہیں. بہت سے دونوں سے محروم ہیں."

"اور انکا کیا وہ جو دونوں قدرت اور ظرف رکھتے ہیں؟" میں نے بیچ میں ٹوکا.

"ان سے تو سوال کیا ہی نہیں جاتا. انہوں نے بِن کہے اپنے ذمے عطا لے رکھی ہوتی ہے. سوال تو آزمائش ہے. امتحان ہے. بے خبر کو ہوشیار کرنے والی گھنٹی ہے. جاگو! خبردار ہو! تم سے امید لگائی گئی ہے، تمہیں قابل سمجھا گیا ہے.
اب جو قدرت نہیں رکھتا پر ظرف رکھتا ہے، وہ قابلیت کے اس دعوت نامے پر عاجزی سے دوہرا ہو جائے گا. عطا کرنے کا موقع ہو، اور عطا کی توفیق نہ ہو، بھلا اس سے بڑی اور کیا کم نصیبی ہو سکتی ہے؟ آپ مالک کی نقل کر سکتے تھے، نہیں کر پا رہے. وائے محرومی! سو وہ کسرِ نفسی سے خود کو اس سچویشن سے منہا کرتا ہے. معذرت طلب کرتا ہے. شرمسار ہوتا ہے. اپنے چھوٹا پڑ جانے پر نادم ہوتا ہے. اسے برتر مانا گیا، صرف یہی احساس عاجزی کا سوتا بن جاتا ہے."

"جو قدرت رکھتے ہیں مگر ظرف سے محروم ہیں، وہ کیا کرتے ہیں پھر؟"

"فیل ہو جاتے ہیں. دے کر بھی فیل ہو جاتے ہیں، روک کر بھی فیل ہو جاتے ہیں. جو نخوت سے عطا کر دیتے ہیں، سوالی کا سوال پورا کر دیتے ہیں، وہ اس پوری ٹرانزیکشن کو اور اسکا پروٹوکول سمجھے بغیر، اس سچویشن میں اپنے کردار کو سمجھے بغیر موقع ضائع کر دیتے ہیں. وہ یہ درک کر ہی نہیں پاتے کہ انکو دینے کی توفیق دیکر، اوپر والے نے ان پر نوازش کی ہے، بندگی کا در کھولا ہے. وہ اپنی بےنیازی کی دھن میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ کس وقت تکبر کی پٹڑی پر چڑھے، انہیں پتہ ہی نہیں چلتا. سو انکا دینا بھی انکی چارج شیٹ کا حصّہ بن جاتا ہے.

رہ گئے وہ جو جھڑک کر دینے سے انکار کر دیتے ہیں، انکا لہجہ انکے تکّبر کی گواہی بن جاتا ہے."

"ہمممم ... اچھا اب وہ والی ٹائپ رہ گئی جو قدرت سے بھی محروم ہے اور ظرف سے بھی. اسکا کیا ہوتا بنتا ہے؟"

"میرے والا حال!" ولید عجیب سے پر تاسّف انداز میں مسکرایا. "جو لوگ کسی بھی ٹرانزیکشن میں نہ دینے کی قدرت رکھتے ہیں نہ ظرف، وہ دوسرے انسان کے لیے سب سے بڑی آزمائش بنتے ہیں. اور وہ انسان جو دوسرے انسان کے لیے آزمائش بن جائے، اسکا کیا بننا ہے؟ یہ شیطان کا وعدہ تھا انسان کو رب کی راہ سے بھٹکانے کا. اگر اپکا طرزعمل ایسا ہو کے آپ کی وجہ سے کوئی شکرانے کی کیفیت سے دور ہو جائے، آپکی وجہ سے رب سے ناخوش ہو جائے، تو بندیا توں تے کھیہ کھٹی فیر دنیا اچ، لخ لعنت ایہو جے جیون تے."

"کیا مطلب؟" کچھ نیند کا غلبہ تھا کچھ یہ احساس کے بات کی نوعیت بدل گئی ہے، میں نے ہونقوں کی طرح پوچھا.

"بات بہت سادہ ہے یار ... بات یہ ہے کہ جب کوئی سوال کرے یا آپ سے امید باندھ لے تو اس نے آپ کو ایک مرتبہ عطا کر دیا ہے. اب اگر آپ میں اس مرتبے کے مطابق دینے کی استطاعت نہیں ہے یا حالات اجازت نہیں دیتے تو  
short coming 
آپ کے
 end 
پر ہے. اس بات کا احساس سر کو جھکا دینا چاہئیے. اگلے نے آپ کو داتا مانا ، آپ کی پہنچ آپ کو داتا بننے کی اجازت نہیں دیتی. فائن. عاجزی سے، شرمساری سے اپنا آپ چھوٹا پڑنے پر معذرت طلب کر لینی چاہئیے. محدود ثابت ہونے والے کے پاس شرمندہ ہونے کے علاوہ کیا چارہ ہے؟ شیطان آدم کو سجدہ کرنے کے معاملے پے چھوٹا پڑ گیا تھا پھر اکڑ گیا اپنے ظرف کی تنگی پر. دے سکنے کی سکت ہونا، نہ ہونا قابلِ گرفت نہیں ہے، دے سکنے یا نہ دے سکنے کو اپنی انا کی تسکین کے لیے استعمال کرنا قابلِ گرفت ہے.

جو دیتے ہوئے شکر گزار نہ ہو، اور منع کرتے ہوئے شرمسار نہ ہو، ایسی ٹرانزیکشن ورتھ وائل نہیں. یہ سمجھایا تھا میں نے کاشف کو.

اتنا سمجھ لے گا تو انشاء اللہ ورتھ وائل ٹرانزیکشنز کرنے والے رب کو بھی پہچان لے گا."

ہم دونوں کے درمیان خاموشی بوگن بیلیا کی بیل کی طرح پھیل گئی.

"کاشف کو سمجھ آ گئ ہیں یہ باتیں؟" چند لمحوں بعد میں نے پوچھا.

"شاید." وہ چادر اوڑھ کر لیٹ گیا. "علم کے اولین اسباق میں سے ایک توقف ہے. سمجھ، دانائی، ہوشمندی، قیام کے ساتھ مشروط ہیں. اگر آگے بڑھنے کوسرپٹ بھاگے گا نہیں، تو انشاء اللہ کامیاب رہے گا.

ٹھہراؤ شرط ہے بندگی کی. اور بندگی ہی تو زندگی ہے."

"عجیب بندے ہو!" میں نے پیار سے اس کھچڑی سر والے ولید کو دیکھا جس کو سمجھنا میرے بس سے باہر تھا.

ولید ہنس پڑا. "تم اگر انسانوں کا کھوج لگانے کی خواہش کو ایک لمحے کو سائڈ پر رکھ چھوڑو تو تمہارا بوجھ بہت ہلکا ہوجائے گا. کریدنے کے لیے کائنات کا نظام ہے. انسان کو کیا کھوجنا؟"

"انسان کو نہ کھوجوں تو پھر کیا کروں؟"


"انسان سے صلہء رحمی کرو، اسکی ذات سے بےنیاز ہو کر. معبود نے جس تخلیق کو عبد کا سٹیٹس دے دیا، تم میں کون ہیں اس میں ٹوہ رکھنے والے؟ اپنا کام تو صرف بندگی ہے. ان کنڈیشنل سبمشن ہے.
(unconditional submission)
سبمٹ کر دینے سے ہی تو زندگی میں رومانس پیدا ہوتا ہے."

میں ایبٹ آباد کے تاروں بھرے آسمان کو دیکھتا رہا. نوری سال کے فاصلے پر دمکتے ان تاروں کی روشنی کیا اتنا سفر کرپاتی ہے جتنا قیام کا مرتبہ سمجھ لینے والی روح؟ کیا یہ تارے اتنے ہی روشن ہیں جتنی معبود کے سامنے سپردگی سے سرشار روح؟

کیا میری روح اس ورتھ وائل ٹرانزیکشنز والے رب کو کبھی پہچان پائے گی؟

کون جانے! کون جانے.





** لینہ ناصر کی یہ کہانی پہلے ہم سب ویب سائٹ پر چھپ چکی ہے**

Saturday, September 1, 2018

Which, then, of your Sustainer's powers can you disavow?


I am amongst those Muslims whose association with Islam has been more by chance than by choice. 
I have spent years (upon years) parroting the same short verses; managing an annual Ramzan marathon through the Quran least aware of the chance of communication the Book offered generously. And in my ignorance finding this enough: enough to claim having responded to the divine call: "Read in the name of your Lord."

Then somewhere along my dark years, between 2006 and 2009, I came across a reference of Muhammad Asad's The Message of The Quran. I laid my hands on the electronic version and was hooked to it. The commentary, for the first time in my life, seemed to prove to me that the Book is grand. That it's pages hold more than my intellect can grasp. And this realization was humbling. 

To be honest, my understanding of life has been that submission makes one more self aware. 

Around 2013, I began searching for a hard copy of The Message. Couldn't manage to lay my hands on any. Even Amazon turned me down saying that it had gone out of print. 

Years slipped by. Yearning silently. Craving quietly. One day forgetting the desire completely, and the next night waking up for midnight prayer and staying up all night longing to feel the words of Allah on paper my hands could touch. 

In the Ramzan of 2017, I followed Nouman Ali Khan's lectures for the first time. I hadn't followed him before. 

That seemed to be the crack, the kind Quran calls "Falaq". 

It was @DramaMama page that presented an introduction of Abdel Haleem's The Quran, the same year. The translation as I understood was exactly how I wished for my child to get acquainted with Quran.

Charged over these two new additions of "rizq" I had availed in 2017, both through facebook, for the first time in my life I looked forward to build a relation with Quran which went beyond the literal translation of a foreign text. This scripture with its claim of being the divine book, seemed to make a demand that it be studied with the maximum degree of mindfulness and aliveness, so that it could be appreciated befittingly. So that one could engage in the window of communication that benevolently opened through its words! 

While in quest of my favourite translations of the scripture, I got a chance to take part in two Quran comprehension courses this year: First with @hast.o.neest in January, and then with @Bayyinah institute in April. 

I remember documenting my take away from the Hast o Neest course by borrowing botanist Robin Kimmerer's explanation of the experience of flying: 

"Between takeoff and landing, we are each in suspended animation, a pause between chapters of our lives. When we stare out the window into the sun’s glare, the landscape is only a flat projection with mountain ranges reduced to wrinkles in the continental skin. Oblivious to our passage overhead, other stories are unfolding beneath us. Blackberries ripen in the August sun; a woman packs a suitcase and hesitates at her doorway; a letter is opened and the most surprising photograph slides from between the pages. But we are moving too fast and we are too far away; all the stories escape us, except our own." 

This learning to look for stories, meanings unfolding while we are in a suspended animation, had been my take away of the course. 

And now, after having explored resources in every corner of the city, and having dejectedly given up on the idea of ever finding the treasures my heart secretly desires, one fine Friday I walk into Readings to get books for some friends. I'm picking, piling, moving ... and lo and behold!

Abdel Haleem's The Quran sits there. Like a majestic lord. I grab the copy and ask if they've another copy. This was the only one, they tell me. 

I almost danced my way out of the shop.

Cometh the next day. On Saturday, I walk in to Ferozesons to explore what more could I pick for the friends. The basement, the area of my interest echoed with the noise of too many restless children. I decide to wait it out and go to explore the Quran section upstairs instead.

Guess what?

Muhammad Asad's The Message of The Quran sits there in an empty rack. Like a king. I am in disbelief. It has been 5 years of looking for it. Five years. I grab the copy and rush to the counter. 'From where did you get this?' They ask me. The copy has no price tag, no bar code. It is not even listed in their system. They look at me dumbfounded, I return the look. They put an arbitrary price tag at it calculated by taking an average of most Quran translations they have. 

And just by a sheer inexplicable stroke of luck, within 24 hours I have both the copies of Quran I had exhausted all my means to find for years!

I almost cried my way out of the shop. 



Friday, August 24, 2018

نعرۂ مستانہ


اسکی آنکھوں کے سیاہ حجرے میں جب میں اعتکاف بیٹھا، تو دل کے ہر معبودِ دگر، ہر خداوندِ کہن سے ابراہیم آ بھڑا. 
ان نگاہوں کے میخانے نے جب میری بادہ پیمائی کا بھرم توڑا تو اب جام میسر آئے نہ آئے، میری مستی کی چھلکن کم ہو کے نہ دیتی.
اسکی چشمِ ناز کی جنبش جب میری ہستی کا کُل مول ٹھہری، تو میں اسکے دربار میں بک کر یوسف بن گیا.

لوگ کہتے ہیں وہ زندگی کا در پار کر گیا. میرا محبوب، نیست کی چادر اوڑھ گیا. میں پاؤں زمین پر مار کر پھر سے ناچ اٹھتا ہوں. میرے اندر کا اکتارہ ایسے گونجتا ہے کہ لوگ میرے گھنگرو بنے وجود کو حیرت سے تکتے ہیں. جو مجھے اور بدیع العجائب، دونوں کو بھا گیا، اس نے مجھ خاک نشین کو کیونکر ہمنشینِ رب نہ بنا دیا؟

جس کی فرقت تک خدائی نواز دے، ایسے محبوب کے مسلکِ عشق کی خیر!

Saturday, October 22, 2016

Towards Solomon's Mountain


Without Solomon every bird is a bat in love with darkness. Listen, oh mischievous bat, try to become his friend. Do you want to stay in your cave forever? If you go even three feet towards Solomon's mountain, others will use that as a yardstick to measure their lives. Suppose your leg is gimpy, and you have to hop, what's the difference? Going toward Solomon, even by limping, the leg grows whole.

- Rumi 




Image: K2's shadow over China, Photographer unknown. 

Friday, December 11, 2015

Hik Nuktay Ich Gal Mukdi Ay




He alone ... is the Observer,
He alone is the observed!
There is none ... but He ... 
in the World of Existence. 

- Ibn al- Arabi

Thursday, April 23, 2015

Ja Namazi, Dekh Li Teri Namaz!




Do din bhi agar meri si halat ho jaye
Maalom shab e gham ki haqiqat ho jaye
Bejurm o khata mujh ko mitanay walay
Allah karay tujh ko mohabbat ho jaye

Ab sabr karo nala e paiham na karo
Jab mein he nahi hoon to mera gham na karo
Yeh apni ruswai hai apne haaton
Lillah meri laash pe maatam na karo

Wo un ko mera marg e nagahan nadeeda nadeeda
Sub ke hoonton pe tabassum tha mere qatl ke baad
Jaanay kya sooch ke rota raha qaatil tanha
Wo un ko mera marg e nagahan, nadeeda nadeeda

aur jigar bey chain laikin guftugu sanjeeda sanjeeda
ajab masti bhari aankhein magar tarseeda tarseeda
sar e baali tabassum lab pe dil ranjeeda ranjeeda
manaya ja raha hai mera gham posheeda posheeda

tamasha dekhiye mayree lehad se sar nahi uth'ta
mujhe khud he mita baithe hein, aur khud he pasehmaan hein
manaya ja raha hai mera gham posheeda posheeda

yeh kab se aa gayeen tabdeeliyan khayalon mein
huzoor kab se ghareebon kay khairkhuwah howay
manaya ja raha hai mera gham posheeda posheeda

dam-e-akheer qayamat yeh dha raha hai koi
ke mout aanay ko hai, aur ja raha hai koi
mere khuda, mujhe thori si zindagi day day
udaas mere janazay se ja raha hay koi, dekho
manaya ja raha hai mera gham posheeda posheeda

sabr-o- qaraar chheena, surat dikha ke tu ne
barbad ker dia dil, dil mein sama ke tu ne
basti ujaar dali, basti basa ke tu ne
aray apna bhi dil dukhaya, mujh ko mita ke tu ne
ab, manaya ja raha hai mera gham posheeda posheeda

bohot badnaam hoga hashr mein tu naam ke badle
unhein shohrat se kya matlab, jo hein Allah ke bande
yeh niyyat chor meri bandagi, dekhein jahan walay
mazaa jab hai ke dunya per na ho zahir tere sajde
Khuda ki tu ibadat ker magar posheeda posheeda

sajdoN ka sila jannat maange
Allah se yeh ujrat maange
karta hai ibadat ka souda
zahid na hoa mazdoor hoa
bus! Khuda ki tu ibadat ker magar posheeda posheeda

kya ibadat hai teri jab ke tu yaksu he na tha
Rabb to mojood tha, ay shaikh wahaan tu he na tha
dil hai behatka hoa bekaif nazar aata hai
tu ibadat mein bhi dunya ki khabar rakhta hai

aik din Majnu ka aisa haal tha
yaad e Laila mein sarapa choor tha
khaak e sehra chhanta phirta tha wo
wahaane Laila her ghari karta tha wo

hoshiyari dekheiye deewane ki
sair karne chal dia veeranaey ki
aadmi aik parh raha tha wahan namaaz
dil mein kuch rakhta na tha sooz o gudaaz
ker raha tha wo namaz e Haq adaa
majnu us ke samnay ho ker chala
khatam ker ke phir namaaz us ne kaha
tujh ko doon is fail ki mein kya saza
aa gaya meri ibadat mein khalal
samnay se tu gaya mere nikal
bola Majnu ke mein ne Laila ki qasam dekha nahi

bola Majnu ke mein ne Laila ki qasam dekha nahi
warna samnay sajde ke mein aata nahi
bola Majnu ishq e Laila mein sarapa choor tha
aur dekhne se mein tujhe majboor tha
per tu Khuda ke samnay kaisa juhka
apni aankhon se raha tu dekhta
mujh ko to hai ishq fani zaat ka
tujh ko to hai ishq hai Maula zaat ka
kia isi ko kehte hein sooz o gudaaz
kia isi ko kehte hein sooz o gudaaz
ja namaazi dekh li teri namaaz
bus! Khuda ki tu ibadat ker magar posheeda posheed

kia isi ko kehte hein sooz o gudaaz
ja namaazi dekh li teri namaaz
khuda ki tu ibadat ker magar poshida poshida

le ke tasbeeh aur musallah aik aabid chal diya
dhoondne Allah ko sehra mein wo rehne laga
aik hiran bhi saath mein us ke wahaan rehne laga
aur usi sehra mein wo bhi dorne phirne laga

aik din zahid ne pocha yaar ye kya baat hai
arsa e muddat se tera aur mera saath hai
tujh ko bethe dekhta hoon aur na sotay dekhta
ja baja phirta hai tu aur ya ke rehta hai khara

sun ke bola yeh hiran! ta'ajub ki kya baat hai
aashiqo ke wastay kya din hai aur kya raat hai
mere andar mushk hai mein is liyeh rehta hoon mast
tere ander ishq hai tu is liyeh rehta hai mast

mushk ki khushboo se hardam doorta phirta hoon mein
apni aankhon se Khuda ko dekhta rehta hoon mein
Us se milne ka tareeqa aa tu mujh se seekh le
ishq mein hasti mita de phir tu Allah dekh le

Khuda ke waste zahid na ker numa'ishi sajde
Khuda ki tu ibadat ker magar posheeda posheeda

jahan tak ho sakay mazloom ko ronay nahi dete
aur kisi nadaar ko bhooka kabhi sonay nahi dete
bakar e pardaposhi khalq per khone nahi dete
khabar is haath ki us haath ko honay nahi dete
sakhi khairat karte hein magar posheeda posheeda

tumhare samnay betha hoa hoon sakht mushkil mein
musafir jaisay aa jata hai wehshatnak manzil mein
bayaan karte hoay darta hoon jo kuch hai mere dil mein
buri kuch aur to baatein nahi hein teri mehfil mein
magar yeh chupke chupke guftugu posheeda posheeda

aur kisi ghar ki taraf takna kabhi phir mur ke ghabrana
kaheen per chandni ko dekh ker saaye mein chupp jana
qamar aik he na kya laakhon sitaro ne na pehchana
ajab andaaz se waday pe unka raat ko aana
dabay paaon nazar behki howi posheeda posheeda

manaya ja raha hai mera gham posheeda posheeda


Poet: Ustad Qamar Jalalwi



Ja namazi, dekh li teri namaz!


Thursday, February 26, 2015

Crux




حاصل عمرم سه سخن بیش نیست

خام بدم ، پخته شدم ، سوختم


مولانا رومی



The summary of my life exceeds naught three sentences:

I was raw. I stewed. I cindered.




Compromised translation: mine.

Wednesday, July 16, 2014

Recipe

کر لے دل دی صفائی جے دیدار چاہیدا
تو جہان توں کی لینا، تینوں یار چاہیدا


Kar lay dil di safai jay Deedaar chahida
Tu jahaan toN ki lena,tenu Yaar chahida!




لوڑ ہے تیری نہ تیرے کم دی
نیت باجھ نماز کس کم دی؟


Tere hundiya sundya mehbooba tera mujrim haa je mein hova 
Tere hundiya sundya mehbooba tera mujrim haa je mein hova 

sab zaat safat amanat teri nahi kuch mera sab tera 
mein te jadun da vich quran de parya tera shahrag de vich dheera 
har pase sohne yaar da chehra mein te veekhya char chafeera 
jadyaar da sab kuj yaar deewane fir mein vich kuj nai mera

Tere hundiya sundya mehbooba tera mujrim haa je mein hova 
So teri sohniya tu hi eh hovay shirk ayan je mein hova 
Kiddhe awal nai mein akhir nahi ,kidhe batan nai mein zahir nai 
har pase sohniya dina tu dise mera nishan je mein hova 

Sohna sare jahan tu yaar mera,Ohno deen akha ke emaan akha
Ohdi zid na nid na misl kidre,Benishan akha ke nishan akha 
Sorat vich zahir batin besurat ,lamakan akha ke makahan akha
Akha rooh ,misaal ke jism akha ya deewanya kamil insan akha 

Eh khuda ghulzar tu ,bhaag o bahar o ban vi tu
Har jaga roshan vi tu soraj vi tu te chan vi tu
Sari kainaat da fankaar tu ,te fun vi tu
Tu hi tu eh sohniya har tan vi tu te maann vi tu

har pase sohniya disna tu dise mera nishan je mein hova 
Kuj nai har cheez jogi kuj nahi eh khuda tere siwa bas hoor doja kuj nai

Nehaan vi tu ,aya vi tu nasheen vi tu nishan vi tu 
Sahib e la-makan vi tu ,makeen vi tu makan vi tu 
Raaz tu ,nayaz tu, ghaib tu, mojood vi tu 
Dhair tu ,haram vi tu abad vi tu te mabood vi tu

Gham us jayi faza de vich kul di ik sada vi tu
Aap « fayakoon »tu ,Banda vi tu khuda bi
Dar khashr da rakhye dil vich kuon jad mein hi nahi fir dar kahda ?
Un had ddi te had disdi nahi ,had lagdi ta je mein hovaa

Jis dawa kitta mein wala oh pal vich hun iblees gya
Ohne yaar nu vakhrya samjya si mein ki samja je mein hova ?
Kadhi ganj shakar ban jana eh ,kadhi khuwaja piya ban ana eh 
Nit naye tu roop watana eh , mein pharya ja je mein hova 

Jithe hai ikko zaat haq di eh ,meri zaat koi nai te safat koi nai
Wallah khaak numani ne bholna ki ,bina yaar bhole hondi baat koi nai
Baqi yaar mera mein te haan faani ,meri hoor is tu karamat koi nai
Tenu fir deewanya ki d sa meri sift ki eh jidhi zaat koi nai