Sunday, June 24, 2018

Likheyo, Mian ji Maharaaj



**The writing prompt had been the accompanying image.**



میاں جی،
موری ارج سنو،
لکھیو موری ویدا!

لکھیو تم میرے پی کے نام
مورے من کے سب گیت
پت رکھیو، مہاراج!
ماہی بن سکھلاوت ہیں
ماہی گیر بن نہ پاؤں،
تم بتاؤ، جو چَھب دکھلائیں پے ہاتھ نہ آئیں
ان شبدوں کو کاہے قید کر لاؤں؟

نیل گگن تک جائیں، کونجیں سن کُرلائیں
ہردائی میں جو گونجے، پریتم سن نہ پائیں

لکھیو، میاں جی مہاراج
ساون کے جھولے میں بٹا ہے، اس رسن کا جال
جو سانس سانس پہ سمرن ہے، اس مالا کا حال 

میاں جی،
موری ارج سنو،
لکھیو موری ویدا.

Mian ji, 
mori arj suno,
likheyo mori veda

likheyo tum moray pee kay naam,
moray mun kay sab geet
Pat rakhio, maharaaj!
Maahi bun sikhlawat hain 
Maahi-gir bun na paoon, 
Tum batao, jo chabh dikhlaein par hath na aein 
un shabdon ko kaahay qaid kar laoon? 

Neel gaggan tak jaein, koonjain sun kurlaein
Hirdai main jo gonjay, preetam sun na paein

Likheyo, Mian ji maharaajsaawan kay jhoolay main bata hai, us rasan ka jaal 
jo saans saans pe simran hai, us maala ka haal

Mian ji, 
mori arj suno,
likheyo mori veda!


Monday, June 18, 2018

اڑتا نہیں دھواں!


**The writing prompt had been: A line picked from any of Gulzar's verses as the opening sentence.

Following is what I wrote.**


‏چنگاری اک اٹک سی گئی میرے سینے میں ... ایسی برفاب خنکی تھی اسکی نگاہوں میں. ہمارے درمیان الفاظ کا رشتہ تو کچھ عرصے سے ویسے ہی کسی قضا فرض جیسا بوجھل ہو چکا تھا، آج یوں محسوس ہوا گویا نظر کا تعلق بھی پل صراط بن گیا ہو.

یہ رشتے، بندھن ویسے کیا ہی گرہیں ہیں. ہم امید کا بل دے دے کر باندھی جاتے ہیں. توقع قربت کا حاشیہ بنے، کسی گرانڈیل پروہت کی ناپاک گرفت کی طرح کب سانس گھونٹ دے، گرہ لگاتے ہوئے کب یہ خیال آتا ہے.

کب خیال آتا ہے کہ خوابوں کا بیوپار کرتے کرتے کہیں ہم آنکھوں میں ریگزار نہ بسا لیں.

اتنا سوچ لیں تو کیا اپنی امیدوں کو خود پا بہ گل نہ کر لیں؟ آس کے پنکھ پنکھیرو ہوا میں اڑانے کا شوق مئے ناب کیطرح مدہوش نہ کردیتا، تو کون آزادی گروی رکھنے پہ یوں مصر رہتا؟

نجانے یہ شکستِ ذات کے لمحہ کی بازگشت ہے یا محض کانوں میں فشارِ خون کی گونج، مگر سنائی یہی دے رہا ہے کہ بندھن باندھنے کے لیے جتنا ظرف چاہیے ہوتا ہے، اسکی آبیاری ہم نہیں کرتے. بارِ امید سہنا، ہم جیسے نوتونگر خداؤں کے بس کی بات نہیں. نہ ہمیں اپنی خدائی کو دوسرے کی توقعات کا تسمہ باندھنا آتا ہے، اور نہ ہی دوسرے خدا کی بارگاہ میں اپنی بےشرط بندگی کا نذرانہ پیش کرنا.

ہمارے مطالبے ہماری قید بن جاتے ہیں.

سوچتے سوچتے میری آنکھیں جلنے لگیں.
میں نے پھر اس کی طرف دیکھا.

.... تھوڑا سا آ کے پھونک دو، اڑتا نہیں دھواں!



چنگاری اک اٹک سی گئی میرے سینے میں
تھوڑا سا آ کے پھونک دو اڑتا نہیں دھواں

- گلزار


Image: paintinting by Henrik Aarrestad Uldalen

Monday, June 4, 2018

سوں تیری سوہنیاں


[part i of this story can be found here: Aath pehr ki mazdoori]


“اس وحشت سے بھاگا کیوں پھرتا ھے؟“
“کیا کھو گیا ہے تیرا؟“
“کس کی کھوج میں بولایا ہوا ہے؟“

کرخت آواز ایک اینٹ کی طرح اسکی سماعت سے ٹکرائی۔ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ سُن سا ہو کر رہ گیا۔ ایک ڈیژا وو سا ہوا تھا۔
اسے یوں محسوس ہوا گویا یہ آواز اس نے پہلے بھی کہیں سنی تھی۔ جیسے یہ لمحہ کبھی پہلے بھی کہیں اسی طرح اندھی گولی کی مانند آ ٹکرایا تھا۔ زماں اور مکاں کی اس قید سے زرا پرے، جیسے یہ پورے کا پورا منظر اسی طرح بیتا تھا، گلبرگ کے اس مشہور کمپیوٹر سینٹر کے باہر؛ گرد اڑاتے، بلبلاتے مئی کی چلچلاتی گرم دوپہر میں ۔۔۔ جیسے وہ پہلے بھی اس کھردری آواز سے خار آلودہ ہوا تھا۔

دھوپ سے چندھیائی نگاہ جو اٹھی تو سامنے کھڑا شخص دِکھا. عجیب الہئیت سا شخص۔ اس کے چہرے پہ عمر کے بہت سے دور، مغرب کے وقت باہم ملتے صبح اور شام کی طرح مدغم ہو رہے تھے؛ سر پر نماز والی ٹوپی کسی گناہگار کے نامئہ اعمال کے سے رنگ کی تھی؛ کندھے پر دھرا ایک ڈبیوں والا رومال ماضی کی کسی گنجلک پہیلی سے جیسے ابھی بھی پیوست تھا۔ اسکی نظر بے ارادہ اسکے سراپے پر پھسلتی چلی گئی. بے ڈھنگی، بد رنگی سی ملگجی شلوار قمیض اس کے بے ہئیت سے جثے پہ اتنی ہی مس فٹ تھی جتنا اسکی چمچماتی گاڑی کی چمکیلی سطح پر اسکا عکس۔

ناگواری کی لہر اس کے اندر سے اٹھی، اور شمال سے اٹھنے والی آندھی کی طرح ذہن کو بے طرح گدلا کر گئی۔

"جاہل!"
"ہٹو آگے سے!"

اپنی آنکھوں پہ دھوپ کا بیش قیمت چشمہ واپس ٹکاتے ہوئے اسکی آنکھیں ان قنچے جیسی آنکھوں سے چار ہو گئیں. ایک لمحے کو یوں لگا جیسے اسکا پاؤں بجلی کی ننگی تار کو چھو گیا ہو. کرنٹ کی ایک شوریدہ لہر تھی جو اسکے رگ و پے میں بلند ہوتی پتنگ کی ڈور کی طرح پھر گئی. کاٹ دار.

جیسے اُسکی نگاہ کی اِسکے ذہن میں بننے والے سوچ کے مد و جزر تک رسائی ہو، وہ شخص زیرِلب مسکرایا.

"الجھ کیوں گیا ہے؟ پُٹھے پاسے رخ نہ موڑ. تیرا رستہ اُدھر نہیں جاتا!"

بنا سوچے اسکے منہ سے پھسلا، "کدھر؟"

وہ شخص قریب جھک آیا. پسینے کی تیز ہمک اسکی حسیات کو جھنجھوڑ گئی. سرکش بُو کے ناگوار احساس کی بُکل مارے پیچھے پیچھے ایک سازشی سرگوشی بھی تھی:

"جدھر کی جوت تجھے بے کَل رکھتی ہے، سسیے بے خبرے!"

وہ خاصا نفیس آدمی بالکل ششدر رہ گیا. "وٹ دا ..."

ایسے جیسے اُس نے سنا ہی کچھ نہیں، وہ ذرا سا پیچھے ہوا. کندھے پر پڑا رومال اتار کر جھاڑا اور ٹوپی پھر سے سر پر جمائی. اور پھر اِس کے بھونچکے چہرے کو بغور دیکھتے یوں مسکرایا کہ اگر کوئی حلیوں کی نظر آنے والی حقیقت سے نظر چرا سکتا تو یہی کہتا کہ اس جوگی کی مسکراہٹ ہمدردی سے لبریز تھی.

حقیقت کا مسئلہ یہی ہے. کوئی منظر کو حقیقت مانتا ہے. کوئی ناظر کو. اور کوئی نظر کو. ہم ممکن کی قید میں اتنے محدود ہیں کہ حقیقت کا تعارف بس اتنا ہی منقسم ہے.

"مت دیکھ تماشا اتنی دیر. اتنی دیر میلہ دیکھنے رک گیا تو بھنبھور لُٹ جائے گا!"

اس کے ہاتھ میں تھامے فون کی ہلکے سے ارتعاش سے لرزش ہوئی … ایک لحظے کو جیسے کوئی سحر ٹوٹا، سب معمول کو لوٹ آیا. اس نے فون کی جانب دیکھااور ہاتھ پھر سے گاڑی کے دروازے کی طرف بڑھایا.

وہ گنگنایا

اُس بے پرواہ دی اِس عادت
ساڈا حال تباہ کر چھڈیااے
جد وعدہ کر کے نہیں آندا
سانوں تارے گنائی رکھدااے

'جانے دیں مجھے، میں وہ نہیں ہوں جسے آپ ڈھونڈ رہے ہیں.' آواز میں اب طمطراق نہ تھا، الجھن تھی.

'جھلیا، ڈھونڈ تو تو رہا ہے، ڈھولن ماہی کو. جھوک رانجھن کی طلب تو تجھے بےکل رکھتی ہے. اپنی پکار کی بازگشت سہہ سکتا تو اندر کا خالی پن اتنا گونجتا نہ ہوتا تیرا.'

اسکے ماتھے پر دمکتے پسینے کی بوندیں اب باقاعدہ برس رہی تھیں.

'آپ مجھ سے کیا چاھتے ہیں؟' لہجے میں لجاجت سی جھلکی.

وہ مزدور فقیر قہقہہ لگا کر ہنسا یوں جیسے کوئی لطیفہ سن لیا ہو .

'ابے او ناکارہ! تُو دے کیا سکتا ہے کسی کو؟ ہے کیا تیرے پاس؟ تیری سب سے بڑی مصیبت ہی یہ ہے … تجھے درک ہی نہیں اپنی غربت کا.
تُو مجھے ایک فالتو سانس جتنی ہوا دے سکتا ہے؟ میرے اس پسینے کو واپس موڑ سکتا ہے؟ تُو مجھے میرے متعین رزق سے فالتو ایک لقمہ دے سکتا ہے؟ بتا! تُو مجھے کچھ نہیں دے سکتا میرے بابو. مسئلہ یہ ہے کہ تیری غربت تیری کثرت کے پردے میں چھپی ہے، میری عسرت کی طرح ننگی نہیں ہے.
تُو جو دیتا ہے، جو دے گا، وہ کسی کے لیے نہیں، تیری اپنی ڈیوٹی کی ادائیگی کے لیے ہے. تیری دینے کی اہلیت تیری آزمائش ہے.'

وہ بولتے بولتے چپ ہوا. اس نے نظریں گھما کر ارد گرد دیکھا. کیا اس پاس دنیا کو یہ بےتکا میل ملاپ دکھائی دے رہا تھا. عمارت کے نوجوان چوکیدار کو اس طرف متوجہ دیکھ کر اس نے بیساختہ سکون کا سانس لیا.

'ڈر سے جان چھڑا لے. یہ تجھے اگے نہیں بڑھںے دیگا. ابلیس کو اپنی برتری چیلنج ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو وہ کبھی راندۂ بارگاہ نہ ہوتا.'

زن سے کوئی گاڑی پاس سے گزری. غبار کا بادل سا اٹھا.

'ڈر سے جان کیسے چھڑاتے ہیں؟' اسکی آواز جیسے کسی کنویں کی تہہ سے آئی.

'ہستی کو مارکے.' وہ رسان سے بولا.

'نیستی میں بڑا سکھ ہے. لامحدودیت ہے. غربت امارت کے جھگڑے نہیں ہیں. قدر و جبر کا فساد نہیں ہے. کھو جانے کا اندیشہ نہیں ہے. کسی اور کا انتظار نہیں ہے.'

اسکا کھردرا ہاتھ اسکے کندھے پر آ ٹکا، اس نے قریب جھک کراسکی مضطرب آنکھوں میں جھانکا.

'اور سب سے بڑی آزادی یہ ہے کہ تیرا واحد حوالہ ہی تیری برات ہے. بس. ابھی تیری روح ہست کے بار تلے عاجز آئی ہوئی ہے. نیست کی بے وزنی کے لیے تڑپتی ہے. تیرا نشان بے نشانی کی کھوج میں ہے. تُو راستے کی رکاوٹ بننا بند کر دے. سب خیر ہوجائے گی.'

'آپ کون ہیں؟'

کھڑ کھڑ کرتا ایک رکشہ ساتھ آ رکا. وہ جواب دئیے بغیر دلچسپی سے سواری کو اترتے دیکھتا رہا اور پھر ایک آخری بھرپور نظر اس پر ڈال وہ لپک کر رکشے میں جا بیٹھا.
رکشے کے ریڈیو پر نصرت کی آواز اپنے مخصوص سوز کے ساتھ گونج رہی تھی:

جتھے ہے ہکو، ذات حق دی اے
میری ذات کوئی نئی، تے صفات کوئی نئی
بھلا خاک نمانی نے بولنڑا کی
بنا یار بولے ہوندی آواز کوئی نئی
باقی یار میرا، میں تے ہاں فانی
میری ہور اس توں کرامات کوئی نئی
تینوں فیر دیوانیاں کی دساں
میری صفت کی اے؟ جیہڑی ذات کوئی نئی

سوں تیری سوہنیاں تویوں ای ایں
ہوے شرک عیاں جے میں ہواں