About This Blog

Tuesday, May 31, 2016

Qaaf say Kalaam



جنوب سے شمال کی جانب سفر شروع کریں تو پہاڑوں کی ہئیت کے ساتھ ساتھ انکی طبیعت بھی رنگ بدلتی محسوس ہوتی ہے.


جہاں قامت بڑھتی ہے وہاں ہیبت برسات میں پھیلتی کھمبیوں کی طرح ان پہاڑوں کے ویران سینوں پر واحد تمغہ بنکر اگتی ہے.


پھر ہوتا یوں ہے کہ قامت بڑھتے بڑھتے یہ بنجر چٹانیں آسمان کی بدلیوں سے سرگوشیاں کرنے لگتی ہیں. جانے ان مدھر سرگوشیوں میں ایسی کونسی امرت رچی ہوتی ہے کہ سنگلاخ چٹانیں سبزے سے سجنے سنورنے لگتی ہیں.


اس مقام پر آکر پہاڑوں کی اٹھان آسمان سے جا ملتی ہے. میٹھی سرگوشیاں بھیگے بوسوں میں بدل جاتی ہیں اور محبت کی یہ پھوار ان پتھروں پر بارش کی صورت برستی کیسا گداز بخش دیتی ہے. درشت نقوش ملائمت میں ڈھلنے لگتے ہیں اور ہیبت کی کوکھ سے حُسن جنم لیتا ہے. جیتا جاگتا، زندگی کی دھڑکن سے گونجتا حُسن. ایسا حُسن جو خراج میں صرف تسلیم مانگتا ہے. بے طلب بندگی کا سرشار اظہار سوالتا ہے.


پہاڑ کی طرف اٹھتی حیران نگاہ کا نظارہ ہیبت نہیں، رعبِ حُسن بن جاتا ہے. پتھر کا باجبروت بادشاہ، اپنے تمام تر شاہانہ جاہ کے ساتھ حُسن کے خراج کا سوالی بنتا ہے. اپنا شاہی جواہر سے مرصع وادیوں کا تھال آگے بڑھاتا ہے اور عشق کا سوال کرتا ہے.


یہاں، شمال کی اس حد پر، محبت کی پھوار سے شرابور، حُسن کی دولت سے مالا مال، عشق کی کمائی سے سرشار پہاڑ، بزرگی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں. برف کے دوشالے میں گُندھی، ملائمت بھری پُرسوز بزرگی ...


پہاڑوں کی اس حد پر پہنچو تو دیکھنا، انکا بڑا پن انکے قد سے بھی کس قدر سوا ہو گیا ہوتا ہے!




Picture by Leenah Nasir  

No comments: