About This Blog

Tuesday, October 10, 2017

اے عشق ازل گیر و ابد تاب






روزِ گذشتہ نظر محمد (ن م) راشد کی برسی تھی. جدید اردو ادب میں راشد کا مقام کچھ ایسا ہے کہ اردو کا دامن خود آگے بڑھ کر "حسن کوزہ گر" سے لپٹتا ہے، خود اسکی نظر اتارتا ہے، بلائیں لیتا ہے. اور کیوں نہ لے! حسن کوزہ گر نے اردو نظم کے عاشق اور محبوب کو باہم یوں ملایا ہے کہ مجازی رفعت کی منزلیں طے کرتا حقیقی کی سطح پر معتبر ہو گیا. 
تخیل کا اسیر ایک غمزدہ دیوتا، جس کا وجود ایک کہربا رات سے پیوست ہے ... جس کی قدرت جہاں زاد کی آنکھوں کی تابناکی سے جڑی ہے.


This is a thread documenting a few of my favourite Noon Meem Rashid poems. Please add to this whatever this magician of a poet fascinated you with. He is the poet of exile. You can feel the grief, the longing, the calling of a distant love chanting like wind chimes in his words. You can hear the echo of his yearning borne by the beautifully knitted Persian and Urdu. And you can always find yourself swept away by the charisma of the lover who knows the art of adoration



************************************************************

کونسی الجھن کو سلجھاتے ھیں ھم؟

لب بیاباں، بوسے بے جاں
کونسی الجھن کو سلجھاتے ھیں ھم؟
جسم کی یہ کار گاھیں
جن کا ہیزم آپ بن جاتے ھیں ھم!
نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ھم سائے
کہ جیسے دزد شب گرداں کوئی!
شام سے تھے حسرتوں کے بندہ بے دام ھم
پی رھے تھے جام پر ھر جام ھم
یہ سمجھ کر، جرعہ پنہاں کوئی
شائد آخر، ابتدائے راز کا ایما بنے

مطلب آساں، حرف بے معنی
تبسّم کے حسابی زاو یے
متن کے سب حاشیے،
جن سے عیش خام کے نقش ریا بنتے رھے!
اور آخر بعد جسموں میں سر مو بھی نہ تھا
جب دلوں کے درمیاں حائل تھے سنگیں فاصلے
قرب چشم و گوش سے ھم کونسی الجھن کو سلجھاتے رھے!
کونسی الجھن کو سلجھاتے ھیں ھم؟
شام کو جب اپنی غم گاہوں سے دزدانہ نکل آتے ہیں ھم!
زندگی کو تنگنائے تازہ تر کی جستجو
یا زوال عمر کا دیو سبک پا رو برو
یا انا کے دست و پا کو وسعتوں کی آرزو
کونسی الجھن کو سلجھاتے ھیں ھم؟

رقص

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے 
زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں 
ڈر سے لرزا ہوں کہیں ایسا نہ ہو 
رقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگی 
ڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پا لے مرا 
اور جرم عیش کرتے دیکھ لے! 
اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے 
رقص کی یہ گردشیں 
ایک مبہم آسیا کے دور ہیں 
کیسی سرگرمی سے غم کو روندتا جاتا ہوں میں! 
جی میں کہتا ہوں کہ ہاں، 
رقص گہ میں زندگی کے جھانکنے سے پیشتر 
کلفتوں کا سنگ ریزہ ایک بھی رہنے نہ پائے! 
اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے 
زندگی میرے لیے 
ایک خونیں بھیڑیے سے کم نہیں 
اے حسین و اجنبی عورت اسی کے ڈر سے میں 
ہو رہا ہوں لمحہ لمحہ اور بھی تیرے قریب 
جانتا ہوں تو مری جاں بھی نہیں 
تجھ سے ملنے کا پھر امکاں بھی نہیں 
تو مری ان آرزؤں کی مگر تمثیل ہے 
جو رہیں مجھ سے گریزاں آج تک! 
اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے 
عہد پارینہ کا میں انساں نہیں 
بندگی سے اس در و دیوار کی 
ہو چکی ہیں خواہشیں بے سوز و رنگ و ناتواں 
جسم سے تیرے لپٹ سکتا تو ہوں 
زندگی پر میں جھپٹ سکتا نہیں! 
اس لیے اب تھام لے 
اے حسین و اجنبی عورت مجھے اب تھام لے!


AND, OF COURSE, Hassan Kooza Gar

مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا 
حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!


Sunday, September 3, 2017

A Glimpse Into Iqbal's Letters to The Women He Adored


This is the Iqbal we normally are not aware of.




Read out only two excerpts here. There were more. Some depict even more neediness... to the extent that it pierces through your heart!

Sunday, July 23, 2017

کوچہ گردوں کی وحشت تو جاگے



توڑ دیں گے ہر اک شے سے رشتہ، توڑ دینے کی نوبت تو آئے
ہم قیامت کے خود منتظر ہیں، پر کسی دن قیامت تو آئے

ہم بھی سقراط ہیں عہدِ نو کے تشنہ لب ہی نہ مر جائیں یارو
زہر ہو یا مے آتشیں ہو، کوئی جامِ شہادت تو آئے

ایک تہذیب ہے دوستی کی، ایک معیار ہے دشمنی کا
دوستوں نے مروت نہ سیکھی، دشمنوں کو عداوت تو آئے

رند رستے میں آنکھیں بچھائیں، جو کہے بن سنے مان جائیں
ناصحِ نیک طینت کسی شب، سُوئے کوئے ملامت تو آئے

علم و تہذیب، تاریخ و منطق، لوگ سوچیں گے ان مسئلوں پر
زندگی کے مشقت کدے میں، کوئی عہدِ فراغت تو آئے

کانپ اٹھیں قصرِ شاہی کے گنبد، تھرتھرائے زمیں معبدوں کی
کوچہ گردوں کی وحشت تو جاگے، غمزدوں کو بغاوت تو آئے


- ساحر لدھیانوی

Tuesday, March 14, 2017

مستاں



اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔ ہاں مگر چناروں کی اس وادی سے انسیت میں گندھے کچھ ہی احساس تھے، اور ھر روز عصر کے قریب دور اس تنہا کٹیا کی کوکھ سے بلند ہوتی دھویں کی کمزور لکیر ان میں سے ایک تھی۔
میری تبدیلی اس پہاڑی علاقے میں میری اپنی درخواست پر ہوئی تھی، بالکل ویسے جیسے کوئی دونوں ہاتھوں میں کلہاڑی تھام کر بصد شوق اپنے پاؤں پر دے مارے۔  ڈاک کا محکمہ ہمارے ہاں اتنا ہی زندہ رہ گیا ہے، جتنا اپنی پود میں سے باقی رہ جانے والا خاندان کا کوئی بزرگ۔ ہر سانس اس خدشے کے ساتھ کھینچتا ہوا کہ کہیں زور زیادہ لگ گیا تو یہی سانس آخری نہ بن جائے ۔۔۔ دوائیوں کے جال میں جکڑی لمحہ بہ لمحہ معدوم ہوتی زندگیاں ہم سب نے دیکھی ہیں۔ ایسے کسی دھندلے پڑتے رستے کو اپنی منزل بنا لینا کہاں کی عقلمندی ہے؟ مگر اس وقت تو میرے سر پر جنون سوار تھا۔ میں بھاگ جانا چاہتا تھا۔ ہر یاد سے، ہر  جذبے سے، ہر حقیقت سے۔ 
اب صورتحال یہ تھی کہ جس خاموشی میں چھلانگ اس لئے لگائی تھی کہ وہ میری سب شوریدہ سوچوں کو نگل جائے  وہ اب ہر سوچ کی تصویرکشی کے لئے جیسے کینوس بن گئی تھی۔ ہر خیال، ہر سوچ کی گونج اس خاموشی میں پہلے سے بھی بڑھ کر تھی اور قطرہ قطرہ میری روح سلب کر رہی تھی۔  خود سے فرار کے متلاشی کو آپ آئینے کے سامنے کھڑا کر دیں تو وہ کتنے سکھ میں ہو گا؟ بس اتنے ہی سکھ کی کیفیت میں میں تھا۔ 
اس روز دفتر کی رسمی کاروائی بھی نمٹانے کا یارا نہ تھا۔ وحشت روز سے بھی کچھ سوا تھی۔ سو ڈیڑھ بجے ہی ڈاک دفتر کو تالہ لگا کر باہر نکل آیا۔ اس ویرانے میں در آنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ یہاں ڈاک کی سلطنت کا میں مختارِ کل تھا۔ میں ہی پوسٹ ماسٹر، میں ہی ڈاکیا، میں ہی چوکیدار۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی نے کبھی ایسی خدائی کا حال نہیں لکھا جہاں مسجود تو ہو، کوئی ساجد نہ ہو ۔۔۔ جہاں خالق ہو، مگر خلق نہ ہو۔ دوئی نہ ہو تو یکتائی کی پہچان کیسے ہو؟ سچ پوچھیں تو یہیں آ کر میری خدا سے لگی برسوں کی ضد میں کچھ کمی آئی  تھی ۔۔ اس تنہا ذات کا دکھ کچھ کچھ سمجھ آنے لگا تھا۔ نارسائی کا روگ تو بلیک ہول ہے، ثابت بندہ نگل جانے والا روگ۔ تو وہ جو ازل سے اکلاپا کاٹ رہا ہے، اس کا درد تو میرے آپکے دکھوں سے کہیں بڑھ کر ہوا نا؟ بندے کو کہتا ہے یہ راہ پکڑ، مجھ سے آن مل۔ میں یہ دوں گا، وہ دوں گا، بس پریتم آن مل! بندہ کہتا ہے، چل ہٹ، ابھی وقت نہیں ھے میرے پاس۔ پھر کسی دن آؤں گا، دنیا سے فارغ ہو لوں تو آؤں گا۔ ادھر دنیا کسی شاطر بیسوا کی طرح اپنی طرح داریوں کا جال یوں بچھائے رکھتی ہے کہ خدائی کی  راہ پکڑنے والا دن کسی روز نہیں آتا۔ خدا ماضی میں کہیں پیچھے رہ جانے والی محبت کی طرح پیچھے رہ جاتا ہے۔ زندگی آگے نکل جاتی ہے۔ آپ نے بھی تو ایسی پیچھے رہ جانے والی کتنی محبتیں کی ہوں گی۔ ایسی محبت رات کے پچھلے پہر جاگ اٹھنے والے داڑھ کے درد کی طرح تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر آپ اس درد کے گرد طواف کرتے زندگی نہیں گزارتے۔ درد اٹھا ہے، تھم بھی جائے گا، آپ خود کو یہی بتاتے ہیں۔ خدا پھر وہیں یاد کے بوسیدہ طاق میں دھرا رہ جاتا ہے۔ 
بات کہاں سے کہاں نکل گئی. سو میں بتا رہا تھا اس دن کی وحشت کا حال جب کھلے آسمان تلے بھی سانس گھٹ رہا تھا۔ میں اضطرابی کیفیت میں بن دیکھے بس اونچے نیچے پہاڑی رستوں پہ لڑھکتاجا رہا تھا۔ اندر کا دھواں پاگل کئے دے رہا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد عنبر کی ہنسی کی آواز کان میں گونجتی، اور مانو جیسے ہر بار حد نظر تک ہر منظر سرخ آندھی میں گم ہو جاتا۔ معلوم نہیں اس دیوانگی میں کتنی دیر گزری تھی کہ میں نے اپنے آپ کو بابا ہوجا کے ساتھ بیٹھے پایا۔ بابا ہوجا ایک ملنگ تھا۔ دیوانہ مجذوب جس کو غیر ضرورتمند لوگوں کے بالکے ڈر کر پتھر مارتے تھے، اور ضرورتمندوں کے بالکے ڈر کر روٹی پکڑانے آتے تھے۔ ضرورت کی اپنی منطق، اپنی سائنس ہوتی ہے۔ خوف کے اپنے ضابطے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کسی انسان کی اصل دیکھنی ہو تو اسکے سب لفظ، سب گیان، سب خوشی غمی چھوڑ دو، صرف اس کے خوف دیکھو، اپنے خوف سے وہ کیسے بھڑتا ہے، وہ دیکھو! سو، بابا ہوجا وہ تھا ۔۔۔ کسی کے خوف کا دارو، کسی کے خوف کی وجہ۔ ملنگ آدمی تھا۔ عموماً  اپنے آپ میں ہی مگن رہتا تھا۔ ہر منگل کی شام بابا دربار لگاتا تھا۔ دربار کیا تھا، ایک قصہ گو کی منڈلی تھی۔ سارا گاؤں ہی اکٹھا ہو جاتا اور بابا اپنا "مستاں ہو جا، مستاں ہو جا” کا جاپ چھوڑ کر ایک اور ہی منظر بن جاتا۔ کبھی کوئی بولی بولتا، کبھی کوئی نامانوس سی بھاشا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کہانی پھر بھی ساری سمجھ آ جاتی۔ وہ جیسے اوپیرا کا کہتے ہیں ناں؟ بابا ہوجا کا اپنا اوپیرا تھا۔ چہرہ کہانی سناتا جاتا، لفظ سمجھ میں نہ آنے والی تال دیتے۔ لوگ کبھی ہنس پڑتے، کبھی تالیاں پیٹتے، اور کبھی سسکیاں بھرتے ناک پونچھتے جاتے۔
میرا دل نہیں لگتا تھا اس تماشے میں کہ میں منطق کا آدمی ہوں۔ ہوجا کا ٹیلنٹ اپنی جگہ، میں کبھی اس محفل میں شریک نہ ہوا تھا۔  دن میں بابے ہوجا کا دفتر مختلف جگہ لگتا تھا۔ کبھی کمیٹی کے دفتر کے باہر، کبھی رمجو صراف کی دکان کے ساتھ، کبھی بسم اللہ ٹی سٹال کی دیوار کے ساتھ۔ آج وہ یہاں پہاڑی اترائی پر آسن جمائے بیٹھا تھا۔ لیکن میں یہاں کیوں بیٹھا تھا؟  کچھ دیر اپنے تذبذب پر  قابو پانے کو میں یونہی بےمقصد سامنے پھیلے چناروں کے جنگل کو دیکھے گیا۔ ہوجا پہاڑی پتھر سے ٹیک لگائےخاموش بیٹھا تھا۔ لیکن اس کی گہری نگاہ میرے اوپر ہی جمی تھی۔ اس کے گندے بوریے کی باس اور نگاہ کی تیزی، دونوں میں شدت کی کاٹ تھی۔ معلوم نہیں اس لمحے کی تاثیر تھی یا میرے لاشعور کی کارستانی، مگر مجھے اس خاموش دوپہر میں، پتھریلے رستے کے بیچوں بیچ گھنے درخت کے سائے تلے چپ سادھے بابا ہوجا کے پاس بیٹھے کوئل کی کوک کی طرح متواتر کوکتی ایک مدھم "مستاں ہو جا۔ مستاں ہو جا” سنائی دیئے جا رہی تھی۔ ابھی بھی، یہ منظر بیان کرتے ہوئے میں واضح طور پہ وہ آواز سن رہا ہوں!
میرے اندر خوف سوڈے کی بوتل کے اندھے ابال کی طرح اٹھا۔ میں نے بھاگنے کو اپنی ٹانگیں سمیٹیں کہ بابا ہوجا کا ھاتھ میرے کندھے پر آ رکا۔ "بھاگتا رہے گا تو جیئےگا کب؟” کھنک داراور بڑی جوان آواز تھی بابے ہوجا کی۔ میں نے ٹیڑھی آنکھوں سے پھر اسکا جائزہ لیا۔ ہوجا ہلکا سا ہنسا۔ "میں بتیس کا نہیں ہوں، تو ہے۔ میں کسرت نہیں کرتا، تو کرتا ہے۔ میں مرضی کے ٹھکانے پہ نہیں، تو ہے۔ میں دیوانہ، تو ہوشمند ہے ۔۔۔ تجھے مجھ سے کیا خوف ہے؟ اتنے جی دار وجود میں کتنے اندیشوں کی بستیاں بسائی ہوئی ہیں تو نے پگلے! ایسے کون جیتا ہے؟”
میری سانس میں زرا سانس آئی ۔ بازو کو ہلکا سا جھٹک کے میں نے ہوجا کی شکل کو پہلی بار بغیر نظر چرائے دیکھا۔ لمبے بالوں کی لٹیں منہ پر جھول رہی تھیں اور گرد اور دھوپ کے رنگ کاٹ تلے اصلی رنگت کہیں دب چکی تھی۔ ہاں آنکھیں ایسی چمکدار تھیں کہ یک دم خیال بچوں کے قنچوں کی طرف جاتا۔ مقناطیسی قنچے۔ بدرنگی، بےڈھنگی مونچھوں تلے ہوجا کے ہونٹ مسکرائے، آنکھیں ویسی ہی رہیں۔ "تیرا مسئلہ یہ ہے بابو تجھے لگتا ہے ہر الجھن ایک مسئلہ ہے اور ہر مسئلے کا کوئی حل ہے۔ تو حل تلاشتا پھرتا ہے۔ کھوج، ٹرک کی بتی ہے اور تو اس کے پیچھا لگا نمانا۔”
"ہر الجھن مسئلہ ہے تبھی تو حل ڈھونڈتا ہوں۔ جس چیز کا حل ہو، وہ تو مسئلہ نہیں ہوتی!” میں بوکھلا کر خوامخواہ دفاعی انداز اختیار کر گیا۔
ہوجا نے ہنکارہ بھرا، میرے چہرے پر جمی نظر  اتنی دیر میں پہلی بار ہٹائی اور چادر جھاڑ کے کھڑا ہو گیا۔ وہ اگے پھیلے چناروں کے سبز جنگل کو دیکھ رہا تھا۔ "تو ڈاک بابو ہےنا۔ تیرا دھیان صرف چٹھی پر ہے۔ اسکی ٹکٹ، اس کے لفافے پر ہے۔ تو مکتوب نگار کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ وہ مجلس آرائی کو رنگ رنگ کا سندیسہ بھیجتا ہے، کبھی تیرا دل لبھانے کو، کبھی تجھے بلانے کو۔ کبھی کیسا کبھی کیسا مکتوب بھیجتا ہے۔ تو ہونقوں کی طرح لفافے کی ٹکٹ اور مہر کے چکر میں ہی رہ جاتا ہے۔ گاڑی ہر بار نکل جاتی ہے۔ تیری ہر وحشت کسی نوبیاہتا بیوہ کی طرح واپس خالی ہاتھ تیرے صحن میں آ بیٹھتی ہے۔ کبھی خط لکھنے والے کی طرف تو نظر کر۔ کبھی تو کوئی مسئلہ نہیں، سندیسہ سمجھ کے دیکھ۔ مورکھ کبھی تو خود پر سے مان کم کر۔ کبھی تو مستاں ہو جا!”
"خود پہ مان کی کیا بات ہے اس میں؟ اللہ نے دماغ دیا ہے، نہ سوچوں کچھ؟ پاگلوں کی طرح بس نعرے لگاتا پھروں؟” میں باقاعدہ تپ گیا تھا۔ 
بابے ہوجا کو پتہ نہیں میرے تپنے پر اتنی ہنسی کیوں آئی۔ بے ساختہ جو ہنسنا شروع ہوا تو ہنستے ہنستے دوہرا ہو گیا۔ نیچے بھیڑوں کے غلے کو ہنکارتے سنبل خان نے حیرت سے اوپر کی طرف ہمیں دیکھا اور پھر اپنی چھڑی لہرا کر آوازہ لگایا۔ ہوجا نے آگے سے اونچی آواز لگائی "مستاں ہوجا سنبل خاناں!”
"پاگل” میں بڑبڑایا۔
"دیکھ بابو۔” ہوجا میری طرف پلٹا۔ "یہ جو ساری حیاتی ہے، یہ جو سب ہست اور نیست کی گیم ہے۔ تو میں، ہم سب اس کے مہرے ہیں۔ تم سب چھوڑ دو۔ اپنے منطقی دماغ سے سوچو اور مجھے بتاؤ شظرنج کا مہرہ کتنا گیم کو سمجھ سکتا ہے؟ گیم بورڈ، مہرے کی بساط سے بڑی چیز ہے۔ جب تک مہرے کو اپنی حیثیت کا ادراک نہیں ہو گا مہرہ کبھی ادھر، کبھی ادھر بھٹکتا پھرے گا۔ ہر بار پٹے گا۔ کیوں کہ وہ مہرہ ہے۔ وہ کھلاڑی نہیں ہے۔”
"بہت اعلیٰ۔ پھر حل کیا ہے؟ دماغ نکال کر عجائب خانوں میں حنوط کروا دیئےجائیں؟ سوچ، خیال سب پر پابندی ہے۔ تیرا کھلاڑی جس تفکر تفکر کی رٹ لگائے رکھتا ہے، وہ سب ڈھکوسلا ہے؟"
"دل ٹوٹنے تو دے، مورکھ!
دل ٹوٹے گا نہیں تو رستہ کہاں سے بنے گا، روشنی کے جھانکنے کو درز کہاں سے ملے گی؟

اقبال یونہی نہیں کہتا


تُو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ​

جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں


جو تو ٹوٹنے ہی نہ دے گا، اس کی حفاظت کا خوف تیری زندگی کا مالک ہو گا۔ اپنے خدا کو دیکھ جانی! شرم کر۔ 

غم سنبھال۔ کہ کچھ گہرائی پال سکے۔ گہرائی آئے گی، تو اس میں کچھ سمانے قابل بھی ائے گا۔ کب تک سایوں کی طرح ٹو-ڈی زندگی جیے گا؟

ہوجا نے زمین سے ایک پتلی چھڑی اٹھائی اور ڈھلتے سورج کی روشنی سے کھیلتے سائے کے گرد لکیربنانی شروع کر دی۔ "تمہیں پتہ ہے کھوکھلے پن کی سب سے بڑی نشانی کیا ہوتی ہے؟” ہوجے کا ٹریک پھر بدل چکا تھا۔
"کیا ہوتی ہے؟”
"کھوکھلا پن ابلتے جذبات کے لبادے میں چھپتا ہے۔ چھلکن، جتنا بھرپور ہونا ظاہر کرتی ہے، اتنا ہی کھوکھلےپن کی پسندیدہ نقاب ہے۔ جس بات پہ تیرا خون جوش مارے، ہر اس بات پہ جو تجھے غصے سے بےقابو کر دے، ایک سیکنڈ کو رک کے دیکھ لے کہ یہ چھلکن ہے یا ابلتا خالی پن۔” میری طرف چھڑی بڑھا کر ہوجا بولا، "شطرنج کے مہرے کو جب تک اپنی حیثیت کا ادراک نہیں ہوگا، وہ خود کو کھلاڑی سمجھے بیٹھا رہے گا۔ نتیجتاً ہر بار جب کھلاڑی کا ہاتھ اس کو اپنی گیم میں اپنی مرضی سے چلائے گا، مردود مہرہ اپنی خوش نصیبی پہ نازاں ہونے کی بجائے خود اپنی مرضی کرنا چاہے گا۔ مہرہ، مہرہ ہے۔ مہرہ ڈوور نہیں ہے، ڈن اپون ہے۔ مہرہ سبمٹ کرنے، سرنڈر کرنے کو جب تک اپنی معراج نہیں مانے گا۔۔۔ مہرہ عبد نہیں بن پائے گا۔ کھوتیا، جہاں معبود ہو اور عبد خود کو عبدیت کے مقام سے خود محروم رکھے، معبود کی شان کو اس سے فرق پڑے گا یا کمبخت عبد کے بھاگ سوئے رہیں گے؟”
"عبد کے بھاگ۔” میں بےساختہ بولا۔
"ڈاک بابو۔ تیرا میرا رب جو ہے نا وہ اکیلا ہے۔ اسے تیرے میرے اقرار کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ہے۔ اس نے میلہ سجا دیا ہے۔ وہ تماشا ہے۔ تماشابین ہے۔ تو میں پارٹ آف دا گیم ہیں بس! ہر خط کی مہر کریدنے نہ بیٹھ جایا کر۔ ہر الجھن خط ہے ،مکتوب نگار کو پہچان، اس نے رابطہ کیا ہے۔ ناز کر۔ سرور میں رہ ،شکر کر ،مسئلہ نہ بنا۔ مسئلہ صرف وہ ہے جسے تو مسئلہ بنا لے، باقی سب تو رابطے کی سبیلیں ہیں۔ یاد کی چوکھٹیں ہیں۔ انکو اپنی سولی نہ بنا، وہ رابطہ کرتا ہے، اس کا تار پکڑ۔”
میرا دل بھر آیا۔  بہت سارے برسوں کی تھکن جیسے اس ڈھلتی دھوپ کی تھکن سے بھی سوا ہو گئی ہو۔ 
ہوجا نے میرے ہاتھ میں ڈھیلے سے پکڑی چھڑی واپس لی اور میری پسلی میں چبھوئی۔ 
"تو اس کٹیا کے دھویں کو دیکھ بابو۔ وہ تیرے لئے زندگی کا استعارہ ہے۔ اس سرمئی لکیر سے تجھے زندگی کا تعلق محسوس ہوتا ہے۔ جو تو سمجھتا نہیں ہے وہ بات یہ ہے کہ سب منظر، سب رشتے، سب حقیقتیں صرف وہ ہیں جو تیرا گمان تجھے کہے۔ تیرا گمان اس کٹیا سے اٹھتے دھویں کو زندگی کہے گا تو وہ تجھے ہمیشہ زندگی کی علامت لگے گا۔ تیرا گمان تجھے یہ دھواں عذاب کی علامت کے طور پہ دکھائے تو تو ہمیشہ اس میں عذاب ہی کا احساس پائے گا۔ عنبر کی اپنے خیالوں میں گونجتی ہنسی کو تو اپنے لیے تمسخر کا چابک بنا لے، یا اسکی آگے بڑھ جانے کی چائلڈ لائک ایکسائٹمنٹ کا اظہار۔ تیری مرضی ہے۔  بس مہرے کا اختیار یہیں تک ہے۔ اور یہی وہ اختیار ہے جو اتنا بڑا ہے کہ سیانے سے سیانا مہرہ سنبھال نہیں پاتا۔”
میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتا رہ گیا.
تم کون ہو؟
مجھے کسی کنویں کی تہہ سے اپنی آواز سنائی دی.
بابا ہوجا کی قنچہ آنکھیں پہلے سے زیادہ دمک اٹھیں۔ وہ آگے بڑھا اور میرے کان میں سرگوشی کی "مستاں ہو جا!”
پس منظر میں کٹیا سے اٹھتی دھویں کی لکیر بلند ہو چلی تھی۔


**یہ کہانی لینہ ناصر کی جانب سے دانش ویب سائٹ کے لیئے لکھی گئی**

Sunday, December 18, 2016

اک بانکپن سے جینا اک بانکپن سے مرنا

ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرنا
ان کا بھی کام کرنا اپنا بھی کام کرنا

ہاں کس کو ہے میسر یہ کام کر گزرنا
اک بانکپن سے جینا اک بانکپن سے مرنا

جو زیست کو نہ سمجھیں جو موت کو نہ جانیں
جینا انہیں کا جینا مرنا انہیں کا مرنا

تیری عنایتوں سے مجھ کو بھی آ چلا ہے
تیری حمایتوں میں ہر ہر قدم گزرنا

ساحل کے لب سے پوچھو دریا کے دل سے پوچھو
اک موج تہ نشیں کا مدت کے بعد ابھرنا

اے شوق تیرے صدقے پہنچا دیا کہاں تک
اے عشق تیرے قرباں جینا ہے اب نہ مرنا

ہر ذرہ آہ جس کا لبریز تشنگی ہے
اس خاک کی بھی جانب اے ابر تر گزرنا

دریا کی زندگی پر صدقے ہزار جانیں
مجھ کو نہیں گوارا ساحل کی موت مرنا

رنگینیاں نہیں تو رعنائیاں بھی کیسی
شبنم سی نازنیں کو آتا نہیں سنورنا

اشکوں کو بھی یہ جرأت اللہ ری تیری قدرت
آنکھوں تک آتے آتے پھر دل میں جا ٹھہرنا

اے جان ناز آ جا آنکھوں کی راہ دل میں
ان خشک ندیوں سے مشکل ہو کیا گزرنا

ہم بے خودان غم سے یہ راز کوئی سیکھے
جینا مگر نہ جینا مرنا مگر نہ مرنا

کچھ آ چلی ہے آہٹ اس پائے ناز کی سی
تجھ پر خدا کی رحمت اے دل ذرا ٹھہرنا

خون جگر کا حاصل اک شعر تر کی صورت
اپنا ہی عکس جس میں اپنا ہے رنگ بھرنا



Wednesday, November 30, 2016

On Returning From Exile



Have you ever come across a stage in life where you find yourself out of every conflict ... in an ethereal kind of state. No drama bothers you, no stone causes ripples in your calm waters. You select your battles with consideration, and you fight those battles honestly. You accept the outcomes and embrace yourself for the next day. 
Everyday. 
Day after day. 

And, still ... even after adopting the example of flowing clear waters, you still feel the foggy feeling of a silent crawl at the back of your neck. 
It's the feeling akin to the muffled awareness of slowly growing blind in the eyes. The awareness comes with a silent acknowledgement of an impending dark: a dark that echoes in your heart whispering fear of the unknown, unpromising future. 

You understand the panic of a drowning man, don't you?
Now, in your mental eye, super impose this sense of panic over the untroubled ethereal calm mentioned above.

You'll get a muted sense of being eaten away, while still fighting your selected battles with your best mettle, still wearing the aura that Jigar beautifully describes as بیگانہِ غم

The strength required to fight your battles honestly, doubles over with such baggage. The sense of being caught in your quiet personal anguish, while you keep on that mask of a gracious warrior in your day to day dealings, it saps the soul. 

This is the kind of state I was going through. 

Music didn't make much sense. Reading didn't interest. Communication, mostly, seemed pointless. Praying, too, felt like a soulless exercise of the rituals; and this is from where I had first identified that foggy feeling of a silent crawl. There are few parameters that define the native state of your soul. Being out of depth while praying, was my indicator of having steered into a foreign land. 

Ghulam Farid had said:
کیہ حال سناواں دل دا 
کوئی محرم راز نہ مِلدا

Here, even my own person was not a mehram of the state of exile the soul seemed to be going through.

Then one morning while listening to Quran at the car radio, I came across an ayat that consumed that bubble of gnawing discomfort like a strong acid. No trace of it remained.

The ayat, belonging to Surah Hashr, read: 



But those who before them, had homes (in Medina) and had adopted the Faith,- show their affection to such as came to them for refuge, and entertain no desire in their hearts for things given to the (latter), but give them preference over themselves, even though poverty was their (own lot). And those saved from the covetousness of their own souls,- they are the ones that achieve prosperity.


I listened, savored, and soaked myself in that last sentence. And those saved from the covetousness of their own souls,- they are the ones that achieve prosperity. I basked in it.
You see, all of us - sons and daughters of Adam, are almost always aware of our light and dark sides. We are the only ones, other than the Almighty, who know ourselves. Know, as in the REAL know. So if I know myself, as I think I do, I found tidings in it for myself. Tidings that disintegrated every invisible thread of the thickening web of gloom. Tidings that met me with the warmth of a dearest friend and assured me of having been found. 

Do you understand the mightiness of the sense of having been found?

Have you ever experienced the sense of being lost? Because only then you'd recognize the sense of having been found. 


That night I came across a post by Asmaa Hussein, an author I am ever grateful to Facebook for having introduced me to. The post, it fueled the ongoing resurrection of the soul into its native land. It said:
(For perspective, Asmaa's husband was killed in Egypt in August 2013, when they both were lovingly parenting a nine months old daughter)

After my husband Amr was killed, I approached the Quran with an urgency I had never felt before. I was like a lost traveler in the desert on the brink of death because I hadn’t drunk water in days. So when I took that first sip of water and experienced how it quenched my thirst, I didn’t ever want to stop drinking. The Quran was that sip of water – it quenched the thirst of my heart, it eased the pain and lightened the weight that was pressing down on my shoulders, it made me understand that I wasn’t alone, and that there were generations upon generations of righteous people before me who went through immense trials and who succeeded through their patience and faith.
There were days that I didn’t want to put the Quran down. I didn’t want to stop reading it, not even to eat or to sleep. I stopped watching TV completely. I literally only watched 2 things in the entire year after Amr was killed: I watched Frozen with my daughter (which somehow sneaks into your life even when you’re trying to avoid it), and one episode of Chopped on the Food Network.
I made the decision to cut it out of my life because I refused to numb my emotions with mindless entertainment. I wanted to feel everything. I wanted to intimately know my grief because I felt that without truly knowing it, I could never fully emerge from it. I completely immersed myself in the Quran. While I read it, I felt connected to the rich history of those who were tested before me and who rose in status with their patience and overcame that which had hurt them…
There was Aasiya, who was exposed to torture at the hands of her husband, Pharoah and his henchmen. She cried out to Allah “My Lord, build for me near You a home in Jannah.”
It taught me to ask Allah for the same for my family, a home near Him in Jannah – it taught me about the necessity of tearing myself away from the torture that was inflicted upon my heart in this world, and to set my eyes on the lasting home of paradise.
There was prophet Yunus, who cried out to Allah from beneath three darknesses – the darkness of the belly of the whale, the darkness of the ocean, and the darkness of the night, saying: "There is no deity except You; exalted are You. Indeed, I have been of the wrongdoers.” And Allah (swt) responded to his calls and freed him from the belly of the whale, cured what ailed his body, and returned him to his people who, in his absence, had accepted the truth.
It taught me that no matter how deep the darkness in my chest was, how lost I was among the people, and how alone I felt, if I just reached out in dua to Allah, He would hear me, He would see me, and He would help me.
And there was Maryam who gave birth to Isa, completely alone – she was in so much pain that she wished that she was dead, she wished she was just someone who was long forgotten. But instead of reprimanding her, Allah swt sent her words of comfort. It was said to her, “do not grieve.”
It taught me that even though I had my weak moments where my patience crumbled, and when I said or did things contrary to what true patience entails, Allah (swt) could and would forgive me if I actively sought His forgiveness. And it helped me forgive myself, too – because if Maryam (as) had this very human, momentary break in her patience, but she’s still known to this day as the best of all women in humankind, then surely I also still had a chance to patch up the cracks in my patience too.
Allah swt says about the Quran: “O mankind, there has to come to you instruction from your Lord and healing for what is in the chests and guidance and mercy for the believers” (10:57).
Search anywhere and everywhere, but you won't find anything better than Allah's words to soothe your heart and lift your sorrows.
O Allah, let the Qur’an be joy of our hearts, the light of our chests, the remover of our sadness and the pacifier of our worries.

Jazak Allah khairun kaseera, Asmaa.

You know what is the most beautiful thing about exile?

It is that on return, you don't exist outside the state of gratefulness. 





Saturday, October 22, 2016

Towards Solomon's Mountain


Without Solomon every bird is a bat in love with darkness. Listen, oh mischievous bat, try to become his friend. Do you want to stay in your cave forever? If you go even three feet towards Solomon's mountain, others will use that as a yardstick to measure their lives. Suppose your leg is gimpy, and you have to hop, what's the difference? Going toward Solomon, even by limping, the leg grows whole.

- Rumi 




Image: K2's shadow over China, Photographer unknown. 

Saturday, September 24, 2016

We're The Winners




Ye jo aadhay teetar, aadhay bataer loag hotay hain na, inka almiya pata hai kia hai?

Inki koi jarr nahi hoti. No soil owns their roots. 

Ye Rab ko talaashtay phirrtay hain, apnay jhootay sachay aqeedoN main; Apni jhooti sachi aqeedatoN main; Apnay kachay pakkay iqraar o inkaar main; Apnay adhooray muaamlaat main; Apnay reya-kaar ikhlaas main. 

In jaisay adh aashiq, adh munafiq loagon ki tragedy ye hai kay apni mehroomi ka idraak nahi. Apni tahi-daamni ki na khatam honay wali siyaahi jab inhain qatra qatra nigal rahi hoti hai, tou ye kaheen na kaheen koi aisa roag paalnay ki koshish kartay hain jisay apni naik niyyati ki justification bana sakain, Fi sabeel lillah ka tag laga kar khud ko surkh roo kar sakain. Khuda ko remind karwa sakain kay, hum Teray hain. 

Second hand mohabbat ki statement hai inki poori kithha.

Phir kisi kisi din, Fi sabeel lillah ka marked roag ka balloon suddenly blows up in their face. Achanak apni hi reya-kaar, badbudaar saans ki humak soonghnay ko milti hai aur ghin aa jati hai. Apni gharz say, apnay dhong say. Khud say. 




Hum jaisoN ki koi jarr nahi hoti. No soil owns our roots. 

Hamari na dunya hai, na deen. We're the winners of the game of loss. 




Thursday, July 28, 2016

ماسٹر بالی ـ کھیل تماشا، اشفاق احمد

(Under development)

This is going to be my first story upload at the blog which is audio only. I shall be uploading it in parts. Insha Allah.




The story is by the inimitable Ishfaq Ahmed, and it's an extract from his novel "Khel Tamasha".

I shall be, in all probability, sticking with narrating chapters related to Master Bali's character only.
*fingers crossed*









Sunday, July 10, 2016

بیادِ الفاظ


اس بستی میں جہاں وہ رہتی تھی برسوں پہلے الفاظ کو دفنا دیا گیا تھا.
جنازہ کب پڑھا گیا، تدفین کہاں کی گئی، اسے کچھ خاص اچھی طرح یاد نہ تھا. ہاں مگر الفاظ زندہ نہ تھے، اسکا ادراک اسے خوب تھا.

بستی کیا تھی، صدیوں پہلے کے کسی اہم تجارتی راستے کا ایک پڑاؤ تھی. اب تجارت کی نوعیت بدلی تو تجارتی راستے کی دھول اڑاتی سڑک کی بجائے لوگوں نے ریل، جہاز کے سفر اپنا لیے. یہ کم وسائل کا سخی خطہ آہستہ آہستہ ضرورت کے کنڈے سے سرکا تو یاداشت سے بھی محو ہونے لگا. جیسے صرف ہار جانے والی ہستیوں کا خاصہ ہے، وقت کائی کی بدہئیت بُکل مارے یہاں آ دھمکا اور اداسی کی بھوری باریک مٹی تہہ در تہہ در و دیوار سے لپٹتی گئی. نیستی کی خاموش چاپ کو دم سادھے محسوس کرتے بستی والے زندگی کے بوجھ سے نڈھال رہنے لگے.

نیست جیسی ہست آپ نے کبھی دیکھی ہے؟ اس میں کچھ بھی مکمل نہیں ہوتا. نہ موت کی یخ بستگی نہ زندگی کی حدت. بس تو ایسا ہی موسم تھا اس بستی میں. بے حس و حرکت خنکی کا.
امتحان کئی طرح کے ہوتے ہیں. محنت جاری رہے تو آزمائش بھی ہتھیار ڈال دیتی ہے. صبح شام کائی زدہ در و دیوار کو دھول مٹی سے جھاڑتی وہ ایسی ہی باتیں سوچتی رہتی. سوچتی ہی رہتی، کہہ نہ سکتی تھی. الفاظ مر چکے تھےکبھی کبھی وہ سناٹوں سے ہولا کر بستی سے چلے جانے والوں کے نام پوسٹ کارڈ لکھتی. اونہوں ... لکھنے کو تو الفاظ چاہئیے ہوتے ہیں نہ. وہ تصویر کشی کرتی. سورج کی صورت بناتی، مسکراتا کھلکھلاتا سورج، کبھی پھلوں پھولوں سے لدے باغوں کی. کبھی جھاگ اڑاتے، شور مچاتے وحشی دریاؤں کی. تصویریں بنا کر وہ کتنی ہی دیر انہیں دیکھتی رہتی. نقش کے خد و خال پر انگلی پھیر کر وہ ان صورتوں سے وابستہ الفاظ کی آواز کا مزہ لیتی. سماعت زندہ ہو، مگر محروم ہو تو زندگی اپنے رنگ کھو دیتی ہے.

جو جواب اسے موصول ہوتے، انکے دامن میں موجود الفاظ کو دیکھ کر وہ خوشی سے ناچ اٹھتی. اکثر الفاظ اسے بستی چھوڑ دینے کا کہتے. ایسے الفاظ کو بے تحاشہ چومنے کے بعد وہ دیمک سے اٹی کیاری میں گڑھا کھود کے دبا دیتی.بستی کے اپنے الفاظ مر چکے تھے اور ان باغی الفاظ کو بھی مر جانا چاہئیے تھا. بستی کا کوڈ آف کنڈکٹ یہی کہتا تھا، بِنا الفاظ.

ایک دن اس نے اِدھر اُدھر سے کوشش کر کے چند ہتھ گاڑیاں جوڑیں اور سائیوں میں ڈھلتے، تھکے وجودوں کے آگے لا کھڑی کیں. مگر الفاظ چونکہ مر چکے تھے، کوئی اسکی بات نہ سمجھا. خاموش نگاہیں ٹُکر ٹُکر اسکا چہرہ دیکھے گئیں. کسی آنکھ میں کوئی کرن نہ لپکی، کوئی ستارہ نہ دمکا.
اسکی آنکھیں بھر آئیں. آہستگی سے وہ ہتھ گاڑیاں واپس چھوڑ آئی. اپنی سامنے ان تاثرات سے عاری دھندلے چہروں کو دیکھتے ہوئے اس نے زندہ، مگر زندگی سے عاری سب سائے نما لوگوں کی گھٹڑیاں اکھٹی کیں اور اپنے کندھوں پر لاد لیں. سائے خاموش رہے. کندھوں پر اتنا وزن لاد لینے کے بعد وہ اب نقش گری نہ کر سکتی تھی. سو بستی میں جوابی پوسٹ کارڈ آنا ختم ہوگئے. اس دن کے بعد دیمک زدہ کیاری میں کچھ نیا دفن نہ ہوا.



 Image by Leenah Nasir 

Tuesday, May 31, 2016

Qaaf say Kalaam



جنوب سے شمال کی جانب سفر شروع کریں تو پہاڑوں کی ہئیت کے ساتھ ساتھ انکی طبیعت بھی رنگ بدلتی محسوس ہوتی ہے.


جہاں قامت بڑھتی ہے وہاں ہیبت برسات میں پھیلتی کھمبیوں کی طرح ان پہاڑوں کے ویران سینوں پر واحد تمغہ بنکر اگتی ہے.


پھر ہوتا یوں ہے کہ قامت بڑھتے بڑھتے یہ بنجر چٹانیں آسمان کی بدلیوں سے سرگوشیاں کرنے لگتی ہیں. جانے ان مدھر سرگوشیوں میں ایسی کونسی امرت رچی ہوتی ہے کہ سنگلاخ چٹانیں سبزے سے سجنے سنورنے لگتی ہیں.


اس مقام پر آکر پہاڑوں کی اٹھان آسمان سے جا ملتی ہے. میٹھی سرگوشیاں بھیگے بوسوں میں بدل جاتی ہیں اور محبت کی یہ پھوار ان پتھروں پر بارش کی صورت برستی کیسا گداز بخش دیتی ہے. درشت نقوش ملائمت میں ڈھلنے لگتے ہیں اور ہیبت کی کوکھ سے حُسن جنم لیتا ہے. جیتا جاگتا، زندگی کی دھڑکن سے گونجتا حُسن. ایسا حُسن جو خراج میں صرف تسلیم مانگتا ہے. بے طلب بندگی کا سرشار اظہار سوالتا ہے.


پہاڑ کی طرف اٹھتی حیران نگاہ کا نظارہ ہیبت نہیں، رعبِ حُسن بن جاتا ہے. پتھر کا باجبروت بادشاہ، اپنے تمام تر شاہانہ جاہ کے ساتھ حُسن کے خراج کا سوالی بنتا ہے. اپنا شاہی جواہر سے مرصع وادیوں کا تھال آگے بڑھاتا ہے اور عشق کا سوال کرتا ہے.


یہاں، شمال کی اس حد پر، محبت کی پھوار سے شرابور، حُسن کی دولت سے مالا مال، عشق کی کمائی سے سرشار پہاڑ، بزرگی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں. برف کے دوشالے میں گُندھی، ملائمت بھری پُرسوز بزرگی ...


پہاڑوں کی اس حد پر پہنچو تو دیکھنا، انکا بڑا پن انکے قد سے بھی کس قدر سوا ہو گیا ہوتا ہے!




Picture by Leenah Nasir  

Monday, May 16, 2016

Mah-e Mir, a Drive & a Dialogue: دشتِ ہلاکت کی آوارگی





دشتِ ہلاکت کی آوارگی 


They were on their way back after watching Mah e Mir, the movie. 

Aay: You've been touched, haven't you?



Ell: Haan, shayad.

Aay: Aisa kion hota hai kay kabhi kabhi hum screen kay samnay say uth kar bhi screen ki girift main rehtay hain?

Ell: Bohat sari reasons ho sakti hain. *pause* Ye gumaan kay screen kay parday pe jo aks lehraya, us main qaid shabeeh tou hamari apni thi, could be one of the reasons.

Aay *turns toward Ell*: Parday pe jo aks lehraya, us main qaid shabeeh apki thi? Zuhra ya Doctor Kaleem. Hai na? 

Ell *Laughs, shakes head*: Aisa nahi kaha main nay. Tumhain pata hai iss movie ki sab say khoobsurat baat kia hai? The boldness. The fierce, raw genuineness with which the movie makers created something not for the hoards of audience, garoh-e aam kay liay nahi hai. Pehchaan'nay wali aankh kay liay hai ye daawat-e nazaara.

Aay: Ell, mujhay Dr. Kaleem ka character samjhaein. 

Ell: Kia bataoon Doctor sahab ka? 
*hums* apni aag main khud jal jaey, tu aisa parwana bun ja!
Doctor sahab ki dressing note ki thi tum nay? Hudood, qayood, nashist, barkhaast, har har angle of personality say qadghan tapak rahi thi. Control. Hold. Reigning in.
Jamal ka character, on the other hand, fiercely untamed. Wild. Without any holds. Uskay garebaan say lay kar uskay pareshaan baalon tak, chaos ruled. Haey, art piece hai poora ye film!
*laughs abruptly* halankay, chaos kay, wehshat kay uuzdahay ko Doctor sahab sambhalay bethay thay apni necktie ki knot main. Jamal bechara tou beh raha tha flow kay sath, Doctor sahab was riding over the dragon. 


Aay: Apko lagta hai Doctor Kaleem itna mazboot character thay?


Ell: Mazboot character kia hota hai jaanaaN? Mazboot tou Nawab tha, mazboot tou Naina Kanwal thi. Doctor sahab mazboot nahi, deep character thay. Wo jo alaao ander liay phirtay thay, jo bhatti hama waqt deo-malaee kahaniyon kay aag ugaltay saanp ki tarah ander kundli maray bethay thi, uski hiddat ka halka sa shaiba tak bahir walon ko nahi ho raha tha. 

*leans head against the head-rest* yehi deep logon ki kaamyaabi hai, yehi unka almiya.

Aay: Kaamyaabi almiya kesay bun sakti hai?

Ell: Har individualistic kaamyaabi has the tendency to become an almiya. Ye tou phir wehshat ka maamla hai. Da'aymi individual roag.
Zuhra kay liay pata hai kion tarpay Doctor sahab? Kisi aik fleeting moment main Zuhra ki nigah Doctor sahab ki gehrai ki teh say ja takrai ho gi. Phir wo nigah kisi khali kunwain ki teh say uth'ti baazgasht ki tarah khali nahi loti ... Wo nigah Doctor sahab ka dil bhi baandh kay lay aee girah main. 


Aay: Ye sab waqaee itna depressing, itna blue, itna akela hai jitna ab soch kay lag raha hai? Doctor sahab looked like a calm person. Zuhra as well, though *chuckles* I wish Huma Nawab nay itna bura salook na kia hota us character kay sath. Bohat powerful character tha. Mujhay tou bechara Jamal suffering lag raha tha.


Ell: *laughs* Huma Nawab nay waqaee wesay Zuhra kay character kay sath dushmano wali ki hai... but kia farq parta hai? The character was so strong, we're still talking about her.

*pause* pata hai, aik bar Ishfaq Ahmed ki baat parhi thi ... Jo loag gham - aik khas threshold ka gham - seh jatay hain na, tou un kay wajood main shaanti utar aati hai. Like a golden halo you can feel an aura of calm around them. Us peace ki, haan, aik qeemat hoti hai jo obviously naazir ki aankh nahi jaanch paati. 

Weekend's traffic mad rush halts at the traffic light. Quiet follows in the car. 

Aay: Ell, aik baat poochoon?


Ell: Hm. Why would you even ask?


Aay: Whom are you waiting for?


Ell *smiles*: Kia zaroori hai koi intezaar main hi ho?

Dekho Aay, har koi itna deep nahi hota kay apni wehshat, apnay chaos ko zaat kay kisi teh-khanay main qaid kar paey. Aisay insan kay paas do soortain hoti hain: ya tou Jamal ki tarah chhalak chhalak jaey, ya apna sara focus, sari energy apni chhalkan ko contain karnay pe laga day ... Apnay chaos ko apni zaat ka fuel bananay main zindagi invest kar day. Self recharging, you know?
Halka painda hona, for containing an expanding cosmos, aik azaab hai; specially agr apko apni wehshat ka uryaan hona pasand na ho.


Aay: Ell, wehshat share bhi tou ki ja sakti hai na?


Ell *shakes head*: Nah darling! Wehshat tou shadeed infaraadi gift hai. Ap ki qismat glorious ho tou tou apko apni depth jaanchnay wali nigah mil jati hai. Phir ap wehshat baant'tay nahi ho. Ap wehshat pehanchaantay ho. Believe you me, it's divine. To recognize, to be recognized.
Haan, magr hotay ap akelay hi ho. Sulgan apni individual hi rehti hai. 


Aay: Bano Qudsia, Ishfaq Ahmed. They shared the wehshat. No?


Ell: Did they? *laughs* meri jaan, wehshi ko sakoon say kia matlab? Jogi ka shehar main thikana kia?
Ishfaq yunhi phir baabon ko dhoondtay phirtay thay?
Mujhay lagta hai, and of course I could be entirely wrong, wehshat ka unwaan badal jata hai. But jesay resham kay kapray ki intrinsic quality mulaimat hai, wehshi ki intrinsic quality uska iztaraab hai. Ander bharakti aag ka alaao hai. So talab ka unwaan badal jaey ga, dhuwaan uthay ga. Phir bhi uthay ga.



Car comes to a stop. And so does the conversation.