Tuesday, August 7, 2018

This Is What Starting Small Looks Like


Want to make $1 million in sales?
Start small: sell a $10 item to one customer.

Want to create a podcast?
Start small: record a voice memo on your phone.

Want 1,000 true fans?
Start small: do something that gets you one true fan.

Want to build a profitable startup?
Start small: build a basic web app in a weekend and get 10 users.

Start small.
Show up every day.
Keep refining your craft.
Take risks and get uncomfortable.
And most importantly:

“Embrace feedback as a gift.” – Seth Godin

Repeat these steps for days, months, and years, and you’ll become the person you aspire to be.



text source: Justin Jackson

Sunday, August 5, 2018

Survival





"In the years that I've known you there's been one remarkable transition."

Reluctance dripped from his anxious voice. Like the waft rising of his mug of coffee, he left the sentence hanging in air; as if embarrassed for blurting out involuntarily.

The conference had come to an end. The meetings had been done. The work part of the trip was over. They were now left with a moonless October night, spread out on an open terrace of a rented accommodation. There were a little few hours before their early morning flight back, urging them to face harsh Koh-e Chiltan mountains in the distance and play with the restless what-ifs at hand.

She turned her head towards him, leaving the star filled sky on its own for a while. 
"And what'd that be?" she asked gently.

"You were always the nucleus. Always the gravitational force holding a gathering in its place. You filled eyes, even when they hadn't been looking for you. You didn't leave room for anyone else to be noticed. It was impossible to not find you in the heart of anything. Everything!"
He looked away, as if seeking inspiration to carry on. Once again leaving the sentence hanging in the air, heavier this time.

"And ...?" 
Her smile was not visible in the pale streetlamp light barely offering them respect, but the gentleness of it drizzled in her voice. Her nail traced the rim of her empty mug, as if in sync with Nusrat's 'Mittar Pyare Nu Haal Mureedan Da Kehna' she could listen to even while sitting there.

"Your irises black as space, rendered one weightless. Do you know that? You made people fall."
His voice rose a few notches, and surrendering to the chaos inside he stood up with a jerk. A few moments silently crunched under his steps as he paced the length of the terrace. Her gaze followed him like a dutiful sentinel. 
His back towards her, he dropped his voice to a wistful whisper, "you made me fall!"

She kept looking at the shape of his shoulder weighed down by his honesty they both had meticulously managed to avoid before. Work ethics were supreme, and mutual respect even more, so they never stepped in what could have caused difficulty for the other. 
This time when she spoke her voice wasn't laced with a smile.

"Are you recovering now?" She paused tentatively, "is that what the transition is about?"

He whirled towards her, his coffee spilling a little over his dark dinner jacket.

"You've done it on purpose, right? You knew it! You knew it all along!"

Her eyes assessed his face and moved to caress the formless dark at his back. His pain was disarming.

"What's the transition?"

"How could you do this? You've taken back your gravity. You make yourself invisible in a room. You no longer fill eyes. You no longer allow free fall. The black hole of these irises is now the Eridanus Supervoid. You are no more in my plane!"
His voice cracked.

Her lips pressed, she kept looking ahead as if making out the harsh features of the mighty Koh-e Chiltan.

"Survival has a cost." Her voice was clipped.


Artwork: Francoise Nielly

 

Sunday, July 29, 2018

I Have Questions.



Our words are only a modest garment we wrap our emotions in, to be *seen*. Sometimes grief is dressed as a joke, sometimes loss is garbed as a rebuke, sometimes joy walks out wearing indifference.

Have you ever wondered about the dynamics of words and emotions, when we communicate?

What worth would you assign to being heard, against learning how to employ the best words?

How many of your words carry the soul of your emotions? How much of that soul is conveyed, over the sound of the word, to the listener? How much of that soul, them listeners are capable to receive? Is that in alignment with your expectation?

The raging emotions, the echoing stillness of a spiritual void, can both be dressed in the same garments ... how well equipped are you to identify each?

Do you think communication is a matter of sharing a language? Or, is connection actually only the identification of similar spiritual frequencies? 
Is it a matter of sharing the same wavelength of sight and blindness?

Hey, can you see this colour?


Have you ever wondered how people may remain hamsafar without ever experiencing hamnawaee?

Are words tools to construct your bridge of connection?

Do you know the pain of building bridges only to learn that the other end is a marshland, where no journey could be made?

What garment do you choose to dress that pain?

Friday, July 13, 2018

راحت کے انتظار کا روگ



 کہانی شروع معلوم نہیں کہاں سے ہوئی تھی لیکن جب ہماری پہلی ملاقات ہوئی تو میری عمر ٢٣ برس تھی. فیضان کو اسکول داخل کرائے ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا تھا، اور ہم دونوں ماں بیٹا اس تجربے سے نڈھال تھے. اگر ابا میاں کی ناراضگی کا ڈر نہ ہوتا تو شاید اس پہلے دن کے بعد میں وہاں قدم بھی نہ رکھتی جب تعارفی امتحان کی لیے لیجائے جاتے ہوئے فیضان  اس قدر بلک بلک کر رویا تھا کہ قے سے اسکے نئے جوتے اور ایڈمیشن آفس کا قالین لتھڑ گئے تھے. ابا میاں کی طبیعت تھی ہی ایسی. انکا ڈر ایسا ہی تھا. دیمک کی طرح کھا جانے والا. 

میں نے گھر کی ملازماؤں کو، آس پڑوس کی رہنے والی کتنی ہی پڑوسنوں کو، رشتے داروں کو، اشاروں کنایوں میں اپنا تمسخر اڑاتے دیکھا تھا. عرفان کی خود ساختہ جلا وطنی میری موجودگی ختم نہیں کروا سکی تھی، میری اولاد بھی ابا میاں کو انکی اولاد واپس نہیں دلوا سکی تھی. یہ ایسی شکست تھی جسکے بطن سے صرف خوف ہی جنم لیتا ہے. سانس لیتا، ڈھرکتا، ہر ہر سانس میں گونجتا خوف. 

خوفزدہ انسان سے ملے ہیں آپ کبھی؟ ایسے خوفزدہ انسان سے جو اپنے خوف کے اظہار سے بھی خائف ہو؟ خوف کی وجہ کا بیان ممکن نہ ہو، تو ایک ڈرے ہوئے انسان کے پاس اظہار کی عیاشی نہیں رہتی. بہادری کا نقاب اوڑھنا پڑتا ہے. میں نقاب اوڑھتی تھی. بھنچی ہوئی مٹھیوں کے ساتھ کھل کر مسکراتے ہوئے. 

ہماری پہلی ملاقات ہوئی تو میری عمر ۲۳ برس تھی. مجھے یہ نقاب اوڑھتے ہوئے چھے برس ہوگئے تھے. سترہ سال کی دلہن کو چھوڑ کر سہاگ بدیس سدھار جائے تو پھر سولہ سنگھار تو ویسے ہی نہیں کر سکتی تھی. اسکا کمال یہ تھا کہ اس  نے مجھے اس نقاب کے باوجود دیکھ لیا. آپ میں سے یہ کتنے لوگوں کے ساتھ ہوا ہے کہ کوئی اپ سے مخاطب ہو اور آپکو اچانک یقین آ جاے کہ وہ نہ صرف آپکے لفظ سن رہا ہے بلکہ وہ آپکی بات سمجھ رہا ہے، آپکو دیکھ رہا ہے. شفاف. مجھے راحت جبیں سے بات کرتے ہوے یہی محسوس ہوا تھا. اس کے گہرے سانولے چہرے پہ اسکی اندر کو دھنسی ہوئی آنکھیں دمکتی تھیں. چہرے پہ پہلی نظر میں صرف وہ آنکھیں ہی دکھتی تھیں. انکی چمک اسکے ناک میں سجے چاندی کے لونگ سے بھی زیادہ تھی. بس صرف اسکا قہقہہ تھا جو اسکی آنکھوں سے بھی زیادہ گونجدار تھا. 

اس روز میں چھٹی سے کوئی گھنٹہ بھر پہلے ہی اسکول پہنچ گئی تھی. دل عجیب بیقرار تھا. سستا سا پرائیوٹ اسکول تھا. گھر کے باقی بچے تو گاڑی میں قدرے دور واقع بڑے اور مہنگے اسکول میں جاتے تھے، مگر فیضان کا حساب ابا میاں باقی بچوں کے ساتھ نہ رکھتے تھے. "یوں بھی،" انہوں نے مجھے دلیل دی، "تمہاری تسلی رہے گی اگر قریب کا کوئی اسکول ہوا تو." میں نے کیا اعتراض کرنا تھا. 
چوکیدار وغیرہ کوئی تھا نہیں سو میں گیٹ کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی. راحت وہاں پہلے سے کھڑی تھی. کچھ دیر وہ مجھے خاموشی سے دیکھتی رہی اور پھر اپنا چھلی کا بھٹا میری طرف بڑھا دیا. یہ ہماری پہلی ملاقات تھی. 

وہ بھٹا آج ۲۵ سال بعد بھی کبھی کبھی میرے ہاتھ میں آنچ دے اٹھتا ہے.

راحت جبیں مجھ سے پانچ سال بڑی تھی. اسکی تین بیٹیاں تھیں اور وہ ہمارے محلے کی نہ تھی. اسکا تعلق میاں چنوں سے تھا. میرا میکہ بھی پنجاب میں رہ گیا تھا. میکہ کیا تھا ... ماموں اور چچا کے عسرت زدہ گھر تھے جنکے درمیان گِلی بنے میرا یتیم بچپن گزرا تھا. ہم دونوں ہی حیدرآباد کی گرد اڑاتی دوپہر میں اپنی اپنی یاد کے سبز پنجاب کا سایہ اوڑھ لیتے. 

راحت محنت کش تھی اور پراندے بنا کر بیچتی تھی. چند دن میں ہی ہم آپس میں گھل مل گئے. اگرچہ ہم دونوں ہی اپنے اپنے گھر والوں کا زیادہ ذکر نہ کرتے تھے، پر پھر بھی کچھ باتیں شاید صوت اور سماعت کے تعلق کی محتاج نہیں ہوتیں. راحت کے لفظ کروشیے کی نئی نئی بنت کی بات کرتے اور اس کے جسم پر روز کوئی نیا نیل اسکے میاں کے چھوٹے پن کی کہانی سناتا. اس کے اونچے قہقہے میں مجھے اسکے آنسوؤں کی نمی بگھو دیتی. شاید یہی انکہے دکھ کی سانجھ ہمارا رشتہ بن گئی. 

ایک روز فیضان کو لے کر اسکول سے واپس گھر پہنچی تو ماحول میں عجیب کشیدگی تھی. چھوٹا دیور عزیز کڑے تیور لیے مجھے بلانے آیا. ساس، امی جان کے کمرے میں کچہری لگی تھی. 
"پوچھیں ان سے. آج بھی اسی کے ساتھ اسکول سے بڑی سڑک تک آئیں ہیں." وہ گرجا. 
امی جان نے اسے باہر جانے کو کہا اور اسکے بعد مجھے بہت رسان سے بتایا کہ راحت کو اسکا میاں آج سے آٹھ سال پہلے ایک کوٹھے سے بھگا کر لایا تھا. وہ ایک کسبی ہے اور ایک شریف عزتدار گھرانے کی بہو ہونے کے ناطے میں اس سے دور رہوں. "عزیز کا خون بہت گرم ہے. وہ پہلے ہی اپنے سب دوستوں کے آگے شرمندہ ہے کہ اسکی بھابھی ایک رنڈی کی سہیلی ہے." امی جان نے اپنے پان کی گلوری منہ میں رکھ کر بات جاری رکھی. "آج تو میں نے سمجھا بجھا لیا ہے، آئیندہ تمہیں اسکے ساتھ دیکھ کر وہ غیرت میں آ کر کیا کر بیٹھے، میں کچھ نہیں کہہ سکتی. تم بھی نہیں چاہو گی کہ بات عرفان کے ابا تک پہنچے." 

میرے کان سن ہو گئے. 

سہاگن وہی جو پیا من چاہی، یہ تو سب بتاتے ہیں. مگر جو پیا من نا چاہی گئی ہو، اس روگن کا حال کوئی نہیں لکھتا. معلوم ہے کیوں؟ کیونکہ ایسے روگ کو لفظ سمو ہی نہیں سکتے. بےوقعتی صرف برتی جاتی ہے، بیان نہیں کی جاتی. 

سو، یہ میرا روگ تھا: انتظار کا روگ. اور اس روگ کی پاداش میں میری زندگی رہن رکھی گئی تھی. فیصلہ سنا دیا گیا تھا. 

اگلے دو دن میں نے فیضان کو اسکول سے چھٹی کرائی. تیسرے دن صبح وقت سے پہلے ہی اسے اسکول چھوڑ آئی. میں راحت کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی. امی جان کے جملے پورا دن میرے کانوں میں رہ رہ کر گونجتے رہے. چھٹی کے وقت تک میں خوف سے نڈھال ہو چکی تھی. 

وقت گزرنے کے بعد اسکول پہنچی، یقین تھا کہ اب تک اسکول خالی ہو گا. صحن میں جھولے پر فیضان ہاتھ میں فراسٹ جوس کا ڈبہ لیے بیٹھا چسکیاں بھر رہا تھا. "امی دیکھیں، راحت خالہ نے مجھے جوس لیکر دیا."
میں نے بھونچکا ہو کر اسکی انگلی کے اشارے کی سمت دیکھا. راحت اپنی بیٹیوں کے ساتھ درخت کے نیچے بیٹھی میرا انتظار کر رہی تھی. مجھے دیکھ کر اسکی چمکیلی آنکھیں مزید روشن ہو گئیں. "فیضان اکیلا تھا"، اس نے جیسے وضاحت دی اور مسکراتے ہوئے اٹھی. اس سے پہلے کے وہ میری طرف آگے بڑھتی میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، فیضان کا ہاتھا تھاما اور اسے باقاعدہ گھسیٹتے ہوئے گلی کو دوڑ لگا دی. 

راحت جبیں مجھے آوازیں دیے گئی مگر میں نے ایک نہ سنی. "آئیندہ تمہیں اسکے ساتھ دیکھ کر وہ غیرت میں آ کر کیا کر بیٹھے، میں کچھ نہیں کہہ سکتی،" کی گونج میں ہر آواز دب گئی. جب ہم گھر پہنچے تو فیضان اور میری دونوں کی حالت ابتر تھی. 

مگر خوشی اس بات کی تھی کہ ہم دونوں زندہ تھے. کم از کم آج کوئی غیرت مجروح نہیں ہوئی تھی. 

اس شام ابا میاں کو فالج کا دورہ پڑا. تین دن ہسپتال میں رہ کر وہ چل بسے. یہ گھر ابا میاں کی جنبشِ ابرو پر چلتا تھا. مانو سب تلپٹ ہو گیا. عرفان ابا میاں کے جنازے پر بھی نہ آئے.

ابا میاں کے چالیسویں تک گھر کی سب عورتوں کا باہر نکلنا بند ہو گیا. کبھی کبھی مجھے لگتا سوگ کی رسمیں بنانے والے کبھی کسی دکھ سے گزرے نہیں ہیں. دکھ تو رگوں میں بہتا ہے ... دورانیے کی قید سے بےنیاز. یہ عام تعطیل نما نمائشی غم تو عجیب بھونڈا مذاق ہے. 

خیر، فیضان کا اسکول جانا بھی چھٹ گیا. 

ابا میاں کے چالیسویں کے بعد امی جان نے فیصلہ کیا کہ اب ہم حیدرآباد نہیں رہیں گے. امی جان کا سارا میکہ کراچی رہتا تھا، ہم بھی وہیں اٹھ آئے. زندگی کا ایک اور نیا دور شروع ہو گیا. حیدرآباد پیچھے رہ گیا.

چار سال بعد سب سے چھوٹی نند شگفتہ نے ایف اے پاس کیا تو حیدرآباد کے پرانے ہمسائے سے اسکے لیے رشتہ آیا. بات چیت آگے بڑھی اور ہم رسم کرنے انکی طرف گئے. واپسی پر گلی کا نکڑ مڑتے ہوئے میں بےطرح ایک برقعہ پوش عورت سے ٹکرا گئی. 
"اندھی ہی رہنا!" امی جان بڑبڑائیں. ادھر میں گنگ ہوئے ٹکر ٹکر اس نقاب پوش عورت کی آنکھیں دیکھے جا رہی تھی. 
"راحت جبیں!" میری آواز گلے میں ہی گھٹ گئی. راحت ہنسی. اب اس ہنسی میں پہلے والی آب تاب نہ تھی. "مجھے پتہ تھا ایک دن تم ضرور آؤ گی. میں نے بڑی راہ دیکھی ہے تمہاری."
اچانک پھوٹ پڑنے والی خوشی خوف کی گرفت میں آ گئی. میں نے گھبرا کر پہلے امی جان کی طرف اور پھر بے اختیار پیچھے مڑ کر دیکھا. عزیز کا چہرہ دیکھ کر میرا خون خشک ہو گیا. وہ غیرت میں آ کر کیا کر بیٹھے؟ 
میں نے راحت کا استخوانی ہاتھ جھٹکا، "معاف کرو بی بی. میں تمہیں نہیں جانتی!" اسکی آنکھیں جو اب پہلے سی روشن نہ رہی تھیں، تاریک ہو گئیں. امی جان نے مجھے آگے کو دھکیلا اور ہم دونوں اس کے پاس سے گزر گئے. میری سینے میں ایک مزید پھانس اور پشت میں پھر سے ہیرے کی دو انیاں گڑ گئیں. 

ہم کراچی لوٹ آئے. 

میں آپکو بتاؤں کہ رہن رکھی گئی زندگی کا احوال کوئی کیوں نہیں لکھتا؟ اس لیے کہ ضبط کی حکایت نہ رنگین ہوتی ہے نہ حسین. بے رنگ تسلسل کا ایک بہاؤ. لوگ ہیجان زدہ جذبات کی رنگارنگی سے محظوظ ہوتے ہیں. میرے جیسی زندگیاں تو بس ہست کے کینوس پر کسی دھندلے پسِ منظر جیسی حیثيت رکھتی ہیں. کیا جینا، کیا دوستیاں نبھانی! 
میں خود کو خود ہی صفائیاں دیتی رہی. 
محبت سے شرابور اس آواز کی پرسوز کھنک "مجھے پتہ تھا ایک دن تم ضرور آؤ گی" رہ رہ کر مجھے بے چین کر دیتی. 

دو ماہ کے اندر اندر شگفتہ اپنے گھر کی ہوگئی. وہیں حیدرآباد میں اسکا بیاہ ہوا. شادی کے هنگام میں کتنی ہی بار میں نے راحت کا سوچا. اگر وہ کہیں پھر سے ٹکرا گئی تو کیا میں پھر انجان بن جاؤں گی؟ خود کو اسکی پکار کا مزید کتنا مقروض کروں گی؟ سوچوں نے مجھے بےکل رکھا. دن گزر گئے.

کوئی چار مہینے ہی گزرے تھے کہ شگفتہ کی ساس بستر سے جا لگیں. پورا گھر شگفتہ پر آ پڑا. امی جان نے مجھے گرہستی سنبھالنے حیدرآباد بھیج دیا. انکا خیال تھا کہ شادی کے بعد اتنی جلدی شگفتہ سے لہسن پیاز کی باس آنے لگی تو میاں کے دل میں پھر وہ ہمیشہ بو ہی دیتی رہے گی. اپنی پیٹ کی جنی تھی نا، اسکے لیے تو یونہی سوچنا تھا.

چند دن نئے گھر کا انتظام سمجھنے اور سنبھالنے میں لگ گئے. جب حواس بحال ہوئے تو ایک دن میں ہمت کر کے سودا خریدنے کے بہانے راحت کے محلے چلی آئی. اسکے گھر کے تھڑے پر اسکی سب سے چھوٹی بیٹی جھاڑو لگا رہی تھی. پھٹے ہوئے کپڑے. الجھے بال. برا حال.

"گڑیا؟" میں نے بےیقینی سے پکارا. 
بچی نے پلٹ کر مجھے دیکھا. 
"بیٹے راحت ہے گھر پر؟"
اس نے نفی میں سر ہلایا. 
"کب آئے گی؟"
"امی تو مر گئی."

مجھے باقی گفتگو نہیں یاد. کچھ کینسر کا ذکر تھا. باپ کی دوسری شادی کا ذکر تھا. 

میں واپس لوٹ آئی. 

دکھ تو رگوں میں بہتا ہے ... دورانیے کی قید سے بےنیاز. میری رگوں میں بھی پچھلے اکیس برس سے "ایک دن تم ضرور آؤ گی" کی کھنک بہہ رہی ہے. یہ میرا روگ ہے: راحت کے انتظار کا روگ.


**یہ کہانی لینہ ناصر کی جانب سے ہم سب ویب سائٹ کے لیئے لکھی گئی**

Sunday, June 24, 2018

Likheyo, Mian ji Maharaaj



**The writing prompt had been the accompanying image.**


میاں جی،
موری ارج سنو،
لکھیو موری ویدا!

لکھیو تم میرے پی کے نام
مورے من کے سب گیت
پت رکھیو، مہاراج!
ماہی بن سکھلاوت ہیں
ماہی گیر بن نہ پاؤں،
تم بتاؤ، جو چَھب دکھلائیں پے ہاتھ نہ آئیں
ان شبدوں کو کاہے قید کر لاؤں؟

نیل گگن تک جائیں، کونجیں سن کُرلائیں
ہردائی میں جو گونجے، پریتم سن نہ پائیں

لکھیو، میاں جی مہاراج
ساون کے جھولے میں بٹا ہے، اس رسن کا جال
جو سانس سانس پہ سمرن ہے، اس مالا کا حال 

میاں جی،
موری ارج سنو،
لکھیو موری ویدا.

Mian ji, 
mori arj suno,
likheyo mori veda

likheyo tum moray pee kay naam,
moray mun kay sab geet
Pat rakhio, maharaaj!
Maahi bun sikhlawat hain 
Maahi-gir bun na paoon, 
Tum batao, jo chabh dikhlaein par hath na aein 
un shabdon ko kaahay qaid kar laoon? 

Neel gaggan tak jaein, koonjain sun kurlaein
Hirdai main jo gonjay, preetam sun na paein

Likheyo, Mian ji maharaajsaawan kay jhoolay main bata hai, us rasan ka jaal 
jo saans saans pe simran hai, us maala ka haal

Mian ji, 
mori arj suno,
likheyo mori veda!


Monday, June 18, 2018

اڑتا نہیں دھواں!


**The writing prompt had been: A line picked from any of Gulzar's verses as the opening sentence.

Following is what I wrote.**


‏چنگاری اک اٹک سی گئی میرے سینے میں ... ایسی برفاب خنکی تھی اسکی نگاہوں میں. ہمارے درمیان الفاظ کا رشتہ تو کچھ عرصے سے ویسے ہی کسی قضا فرض جیسا بوجھل ہو چکا تھا، آج یوں محسوس ہوا گویا نظر کا تعلق بھی پل صراط بن گیا ہو.

یہ رشتے، بندھن ویسے کیا ہی گرہیں ہیں. ہم امید کا بل دے دے کر باندھی جاتے ہیں. توقع قربت کا حاشیہ بنے، کسی گرانڈیل پروہت کی ناپاک گرفت کی طرح کب سانس گھونٹ دے، گرہ لگاتے ہوئے کب یہ خیال آتا ہے.

کب خیال آتا ہے کہ خوابوں کا بیوپار کرتے کرتے کہیں ہم آنکھوں میں ریگزار نہ بسا لیں.

اتنا سوچ لیں تو کیا اپنی امیدوں کو خود پا بہ گل نہ کر لیں؟ آس کے پنکھ پنکھیرو ہوا میں اڑانے کا شوق مئے ناب کیطرح مدہوش نہ کردیتا، تو کون آزادی گروی رکھنے پہ یوں مصر رہتا؟

نجانے یہ شکستِ ذات کے لمحہ کی بازگشت ہے یا محض کانوں میں فشارِ خون کی گونج، مگر سنائی یہی دے رہا ہے کہ بندھن باندھنے کے لیے جتنا ظرف چاہیے ہوتا ہے، اسکی آبیاری ہم نہیں کرتے. بارِ امید سہنا، ہم جیسے نوتونگر خداؤں کے بس کی بات نہیں. نہ ہمیں اپنی خدائی کو دوسرے کی توقعات کا تسمہ باندھنا آتا ہے، اور نہ ہی دوسرے خدا کی بارگاہ میں اپنی بےشرط بندگی کا نذرانہ پیش کرنا.

ہمارے مطالبے ہماری قید بن جاتے ہیں.

سوچتے سوچتے میری آنکھیں جلنے لگیں.
میں نے پھر اس کی طرف دیکھا.

.... تھوڑا سا آ کے پھونک دو، اڑتا نہیں دھواں!



چنگاری اک اٹک سی گئی میرے سینے میں
تھوڑا سا آ کے پھونک دو اڑتا نہیں دھواں

- گلزار


Image: paintinting by Henrik Aarrestad Uldalen

Monday, June 4, 2018

سوں تیری سوہنیاں


[part i of this story can be found here: Aath pehr ki mazdoori]


“اس وحشت سے بھاگا کیوں پھرتا ھے؟“
“کیا کھو گیا ہے تیرا؟“
“کس کی کھوج میں بولایا ہوا ہے؟“

کرخت آواز ایک اینٹ کی طرح اسکی سماعت سے ٹکرائی۔ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ سُن سا ہو کر رہ گیا۔ ایک ڈیژا وو سا ہوا تھا۔
اسے یوں محسوس ہوا گویا یہ آواز اس نے پہلے بھی کہیں سنی تھی۔ جیسے یہ لمحہ کبھی پہلے بھی کہیں اسی طرح اندھی گولی کی مانند آ ٹکرایا تھا۔ زماں اور مکاں کی اس قید سے زرا پرے، جیسے یہ پورے کا پورا منظر اسی طرح بیتا تھا، گلبرگ کے اس مشہور کمپیوٹر سینٹر کے باہر؛ گرد اڑاتے، بلبلاتے مئی کی چلچلاتی گرم دوپہر میں ۔۔۔ جیسے وہ پہلے بھی اس کھردری آواز سے خار آلودہ ہوا تھا۔

دھوپ سے چندھیائی نگاہ جو اٹھی تو سامنے کھڑا شخص دِکھا. عجیب الہئیت سا شخص۔ اس کے چہرے پہ عمر کے بہت سے دور، مغرب کے وقت باہم ملتے صبح اور شام کی طرح مدغم ہو رہے تھے؛ سر پر نماز والی ٹوپی کسی گناہگار کے نامئہ اعمال کے سے رنگ کی تھی؛ کندھے پر دھرا ایک ڈبیوں والا رومال ماضی کی کسی گنجلک پہیلی سے جیسے ابھی بھی پیوست تھا۔ اسکی نظر بے ارادہ اسکے سراپے پر پھسلتی چلی گئی. بے ڈھنگی، بد رنگی سی ملگجی شلوار قمیض اس کے بے ہئیت سے جثے پہ اتنی ہی مس فٹ تھی جتنا اسکی چمچماتی گاڑی کی چمکیلی سطح پر اسکا عکس۔

ناگواری کی لہر اس کے اندر سے اٹھی، اور شمال سے اٹھنے والی آندھی کی طرح ذہن کو بے طرح گدلا کر گئی۔

"جاہل!"
"ہٹو آگے سے!"

اپنی آنکھوں پہ دھوپ کا بیش قیمت چشمہ واپس ٹکاتے ہوئے اسکی آنکھیں ان قنچے جیسی آنکھوں سے چار ہو گئیں. ایک لمحے کو یوں لگا جیسے اسکا پاؤں بجلی کی ننگی تار کو چھو گیا ہو. کرنٹ کی ایک شوریدہ لہر تھی جو اسکے رگ و پے میں بلند ہوتی پتنگ کی ڈور کی طرح پھر گئی. کاٹ دار.

جیسے اُسکی نگاہ کی اِسکے ذہن میں بننے والے سوچ کے مد و جزر تک رسائی ہو، وہ شخص زیرِلب مسکرایا.

"الجھ کیوں گیا ہے؟ پُٹھے پاسے رخ نہ موڑ. تیرا رستہ اُدھر نہیں جاتا!"

بنا سوچے اسکے منہ سے پھسلا، "کدھر؟"

وہ شخص قریب جھک آیا. پسینے کی تیز ہمک اسکی حسیات کو جھنجھوڑ گئی. سرکش بُو کے ناگوار احساس کی بُکل مارے پیچھے پیچھے ایک سازشی سرگوشی بھی تھی:

"جدھر کی جوت تجھے بے کَل رکھتی ہے، سسیے بے خبرے!"

وہ خاصا نفیس آدمی بالکل ششدر رہ گیا. "وٹ دا ..."

ایسے جیسے اُس نے سنا ہی کچھ نہیں، وہ ذرا سا پیچھے ہوا. کندھے پر پڑا رومال اتار کر جھاڑا اور ٹوپی پھر سے سر پر جمائی. اور پھر اِس کے بھونچکے چہرے کو بغور دیکھتے یوں مسکرایا کہ اگر کوئی حلیوں کی نظر آنے والی حقیقت سے نظر چرا سکتا تو یہی کہتا کہ اس جوگی کی مسکراہٹ ہمدردی سے لبریز تھی.

حقیقت کا مسئلہ یہی ہے. کوئی منظر کو حقیقت مانتا ہے. کوئی ناظر کو. اور کوئی نظر کو. ہم ممکن کی قید میں اتنے محدود ہیں کہ حقیقت کا تعارف بس اتنا ہی منقسم ہے.

"مت دیکھ تماشا اتنی دیر. اتنی دیر میلہ دیکھنے رک گیا تو بھنبھور لُٹ جائے گا!"

اس کے ہاتھ میں تھامے فون کی ہلکے سے ارتعاش سے لرزش ہوئی … ایک لحظے کو جیسے کوئی سحر ٹوٹا، سب معمول کو لوٹ آیا. اس نے فون کی جانب دیکھااور ہاتھ پھر سے گاڑی کے دروازے کی طرف بڑھایا.

وہ گنگنایا

اُس بے پرواہ دی اِس عادت
ساڈا حال تباہ کر چھڈیااے
جد وعدہ کر کے نہیں آندا
سانوں تارے گنائی رکھدااے

'جانے دیں مجھے، میں وہ نہیں ہوں جسے آپ ڈھونڈ رہے ہیں.' آواز میں اب طمطراق نہ تھا، الجھن تھی.

'جھلیا، ڈھونڈ تو تو رہا ہے، ڈھولن ماہی کو. جھوک رانجھن کی طلب تو تجھے بےکل رکھتی ہے. اپنی پکار کی بازگشت سہہ سکتا تو اندر کا خالی پن اتنا گونجتا نہ ہوتا تیرا.'

اسکے ماتھے پر دمکتے پسینے کی بوندیں اب باقاعدہ برس رہی تھیں.

'آپ مجھ سے کیا چاھتے ہیں؟' لہجے میں لجاجت سی جھلکی.

وہ مزدور فقیر قہقہہ لگا کر ہنسا یوں جیسے کوئی لطیفہ سن لیا ہو .

'ابے او ناکارہ! تُو دے کیا سکتا ہے کسی کو؟ ہے کیا تیرے پاس؟ تیری سب سے بڑی مصیبت ہی یہ ہے … تجھے درک ہی نہیں اپنی غربت کا.
تُو مجھے ایک فالتو سانس جتنی ہوا دے سکتا ہے؟ میرے اس پسینے کو واپس موڑ سکتا ہے؟ تُو مجھے میرے متعین رزق سے فالتو ایک لقمہ دے سکتا ہے؟ بتا! تُو مجھے کچھ نہیں دے سکتا میرے بابو. مسئلہ یہ ہے کہ تیری غربت تیری کثرت کے پردے میں چھپی ہے، میری عسرت کی طرح ننگی نہیں ہے.
تُو جو دیتا ہے، جو دے گا، وہ کسی کے لیے نہیں، تیری اپنی ڈیوٹی کی ادائیگی کے لیے ہے. تیری دینے کی اہلیت تیری آزمائش ہے.'

وہ بولتے بولتے چپ ہوا. اس نے نظریں گھما کر ارد گرد دیکھا. کیا اس پاس دنیا کو یہ بےتکا میل ملاپ دکھائی دے رہا تھا. عمارت کے نوجوان چوکیدار کو اس طرف متوجہ دیکھ کر اس نے بیساختہ سکون کا سانس لیا.

'ڈر سے جان چھڑا لے. یہ تجھے اگے نہیں بڑھںے دیگا. ابلیس کو اپنی برتری چیلنج ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو وہ کبھی راندۂ بارگاہ نہ ہوتا.'

زن سے کوئی گاڑی پاس سے گزری. غبار کا بادل سا اٹھا.

'ڈر سے جان کیسے چھڑاتے ہیں؟' اسکی آواز جیسے کسی کنویں کی تہہ سے آئی.

'ہستی کو مارکے.' وہ رسان سے بولا.

'نیستی میں بڑا سکھ ہے. لامحدودیت ہے. غربت امارت کے جھگڑے نہیں ہیں. قدر و جبر کا فساد نہیں ہے. کھو جانے کا اندیشہ نہیں ہے. کسی اور کا انتظار نہیں ہے.'

اسکا کھردرا ہاتھ اسکے کندھے پر آ ٹکا، اس نے قریب جھک کراسکی مضطرب آنکھوں میں جھانکا.

'اور سب سے بڑی آزادی یہ ہے کہ تیرا واحد حوالہ ہی تیری برات ہے. بس. ابھی تیری روح ہست کے بار تلے عاجز آئی ہوئی ہے. نیست کی بے وزنی کے لیے تڑپتی ہے. تیرا نشان بے نشانی کی کھوج میں ہے. تُو راستے کی رکاوٹ بننا بند کر دے. سب خیر ہوجائے گی.'

'آپ کون ہیں؟'

کھڑ کھڑ کرتا ایک رکشہ ساتھ آ رکا. وہ جواب دئیے بغیر دلچسپی سے سواری کو اترتے دیکھتا رہا اور پھر ایک آخری بھرپور نظر اس پر ڈال وہ لپک کر رکشے میں جا بیٹھا.
رکشے کے ریڈیو پر نصرت کی آواز اپنے مخصوص سوز کے ساتھ گونج رہی تھی:

جتھے ہے ہکو، ذات حق دی اے
میری ذات کوئی نئی، تے صفات کوئی نئی
بھلا خاک نمانی نے بولنڑا کی
بنا یار بولے ہوندی آواز کوئی نئی
باقی یار میرا، میں تے ہاں فانی
میری ہور اس توں کرامات کوئی نئی
تینوں فیر دیوانیاں کی دساں
میری صفت کی اے؟ جیہڑی ذات کوئی نئی

سوں تیری سوہنیاں تویوں ای ایں
ہوے شرک عیاں جے میں ہواں

Sunday, April 15, 2018

وطنی



مقام کی تعریف تو قیام سے مشروط ہے، مگر جس طرح پودے زمین پر ہی نہیں، بحر میں بھی پنپتے ہیں اور انکی جڑیں پانی کے بہاؤ کے ساتھ ڈولتی رہتی ہیں. اسی طرح ہم میں سے کچھ سیلِ رواں کو اپنا ٹھکانہ مانتے ہیں، جمود سے باغی ... مسلسل سفر، مسلسل حرکت! ایک لامتناہی ہجرت کا مضمون.

اس شام مغرب کے بعد، جب چودھویں کا چاند اپنے جوبن کی رعنائی کے ساتھ طلوع نہیں ہوا تھا، میں ہاتھ پانی میں ڈبوئے دریائے سندھ کے لمس کو محسوس کیے گئی. پیچھے سے پڑنے والی متواتر آوازوں کو ان سنی کرتے ہوئے مین نے اپنی تمام حسیات اپنے سامنے اس قدیم دریا پر مرتکز رکھیں. اس کی سرگوشیوں میں حکایات تھیں. اسکی روانی میں سبق. اسکے لمس میں تاریخ. ہم دونوں کا آپس کا تعلق کوئی نہیں جانتا، اور نہ ہی سمجھ پائے. 

میانوالی سے آگے، عیسٰی خیل کی سنگلاخ چٹانوں کے قریب کالا باغ کا علاقہ ہے. یہاں دریائے سندھ قدرتی ڈیم کی گود سے اترتا ہے. اپنے انجام سے بےخبر، اپنے سفر کی طوالت سے بےپروا، سندھ ایک شریر بچے کی معصومیت کے ساتھ کالاباغ کے دامن میں مچلتا، ہمکتا جاتا ہے. کنارے پر پھیلا بوہڑ کا تاریک جنگل، جس کے درخت اب شاخوں اور جڑوں کی تخصیص سے بےنیاز ہیں، اس منظر کا خاموش گواہ ہے. 
'یہ درخت کتنے پرانے ہیں؟' میں نے نواب آف کالا باغ کی حویلی کے ملازم سے پوچھا. 
ہزار سے دو ہزار سال کا تخمینہ تھا. 

میرے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی.
سوچو، ہم میں سے کسی پر گواہی کی ذمہ داری ہو ... صدیوں پر پھیلے وقت کی گواہی کی ذمہ داری. کیا اسکا بوجھ ہمارے کندھے جھکا نہیں دے گا؟ کیا ہم درک کی وقعت سمجھتے ہیں؟

سندھ سے میرا پہلا تعارف اس ملاقات سے تیس برس پہلے ہوا تھا.
گلگت سے آگے، شاہراہ قراقرم کی پتھریلی مچان سے میں نے دریا کی پہلی گونج سنی تھی. میں اپنی ماں کی ٹانگوں سے لپٹ گئی تھی. مجھے آج تک اس جھاگ اڑاتے شورش زدہ پانی کی شدت یاد ہے. میری کمسنی کو اسکی آواز میں دھمکی سنائی دی تھی. وہ دھمکی کہتی تھی کہ دریا ادھر گہرائی میں سے اچھل کر پہاڑ پر آ دھمکے گا. ہمیں ڈبو دے گا. کم سنی، ناتجربہ کاری، اور گہرائی کا نہ ہونا، یونہی سہما دیتا ہے انسان کو. دوسرے کی گہرائی ہمارے لیے خوف کی دوزخ بن جاتی ہے. 
خیر ... دریائے سندھ ادھر، گلگت بلتستان میں دریائے کابل کا دیباچہ، ایک غضب ناک شہنشاہ کی جلالت کے ساتھ قراقرم سے بھڑتا گزرتا ہے. اسکی ہیبت، اسکا جوش، دیکھنے والی آنکھ کی پتلی، اور وقت کے لمحے پر ثبت ہو جاتا ہے. شاید جلال کو اسی لیے جمال کے پردے میں رکھنے کی تلقین کرتے ہیں بڑے بزرگ، کہ غیض و غضب کا نقش انمٹ ہوتا ہے. 

پنجند اور سندھ کے اتصال کے مقام پر آکر، سندھ ٹھہر سا جاتا ہے. اسکی طبیعت کا ہیجان اب سکون کا سانس لیتا ہے. مختلف میلان ملتے ہیں تو اپنی تندی کو قابو میں رکھنا آتا ہے. اپنی وسعت جانچنا آتا ہے. خوش بخت اس لمحے کی عطا سنبھال لیتے ہیں، باقی اپنا غرور پال لیتے ہیں. 

میں نے سندھ کو لینس ڈاؤن پل پر خصوصی طور پر چلائی گئی ریل گاڑی سے عبور کیا ہے. پُل کی بنیادوں کو سہلاتا دریا، اپنی گہرائی کی بازگشت اوپر تک سنا دیتا ہے. وہاں اسکے مزاج میں ادھیڑ عمری والا پُر سوچ سکون ہے. یا شاید یہ دھرتی کی حلاوت ہے جو دریا کے سینے میں، اسکی روانی میں اتر آتی ہے. 
میں نے لاڑکانہ کے مالٹوں کے باغ میں، خیرپور کے دامن میں پھیلے نخلستان میں، بھٹ شاہ کی فضا میں، دریائے سندھ کی اس تاثیر کو برابر چکھا ہے. لمبا سفر کرنے والے کا بدن تو خستہ ہو جاتا ہے، لیکن اسکے کردار کی چاشنی بھی پھر اپنی مثال آپ ہوتی ہے. کون کتنی مشقت سے کتنے جتن سے اپنا جوہر کشید کرتا ہے، بات تو سب اپنی لگن کی ہے.

میں نے سندھ کو بحیرہ عرب کی گود میں اترتے دیکھا ہے. کراچی کے آسمان میں اسکی نیلاہٹ کو جھلکتے دیکھا ہے. اس کے دامن کی وسعت کو اس شہر کی غریب پروری میں دیکھا ہے. 

سندھ کا سفر مجھے اپنی روح کا سفر لگتا ہے. اس دریا کے رنگ میں مجھے اپنی ذات کا انگ نظر آتا ہے. وابستگی محسوس ہوتی ہے. اس دریا کے پہلو میں مجھے ہمیشہ حالتِ حضوری نصیب ہوتی ہے. مجھے گھر ملتا ہے. وطن کا احساس ملتا ہے.


Image: A glimpse of Indus, through my cellphone.

Saturday, March 31, 2018

Your Name


In all the languages you speak,
in all those I remember,
No word contained the texture of kiss. 


Of all the ages you've travelled,
of all the times I've existed,
No moment froze the scent of lilac.

Under all the nights, through all the days,
In maps traversing land and milky ways
No star shone so bright
like the sun that rises
every night when I make my home
along the shores of your heart beat.
There, nestled under the open skies
of mating want and surrender,
At the cusp of divinity and earthiness,
I smell Lilac.
I say your name.

Wednesday, March 21, 2018

معبد تراش لیں ہم، معبود کی تلاش میں



ڈسٹرکٹ بہاولپور کی تحصیل حاصل پور کی یونین کونسل جمال پور میں جمال بس نام کا ہی ہے۔ موسم کے اعتبار سے علاقہ سراسر جلال ہے۔ گرمی کے موسم میں تو مانو سورج اس فراوانی سے برستا گویا خود دھرتی کے سینے میں سما جانا چاہتا ہو۔ یہ تو بھلا ہو صدیوں سے رواں ستلج کے ظرف کا، اسکا دامن گرمی سے بلبلائے ہوؤں کے لیے ایک آسرا رہتا ہے۔

مون سون میں البتہ ستلج کے تیور بگڑ جاتے ہیں۔ اسکا سینہ، جھکے ہوئے کندھوں والے چرن داس کی آنکھوں جتنا بھر آتا۔ کناروں سے موج در موج آ کر ٹکراتا نمکین پانی چھلکنے کو بپھرا ہوتا، لیکن چرن داس کی آنکھوں سے بند ستلج کے بھاگ میں کبھی نہیں رہے، سو وہ چھلک جاتا ہے۔ حدود قیود کی ترتیب سے غافل۔ اپنے بپھرے جذبات کے ساتھ ستلج پھر ایک جنوں جولاں گدائے بے سروپا کی طرح نکل پڑتا ہے۔ بستیاں اجاڑتا، آبادیاں روندتا۔

سوچتے سوچتے ادھیڑ عمر چرن داس نے جھرجھری لی۔ وہ درگا دیوی کا پجاری ضبط کی منڈپ کا مرتبہ سمجھتا تھا۔ قوت کے قاعدے کلیے کے سبھی ضابطے یہ بتاتے ہیں کہ تیر وہی کارآمد ہوتا ہے جو ابھی چلنے کو دستیاب ہو۔ بچپن میں اپنی ماں سے اس نے یہی ایک سبق سیکھا تھا۔ ضبط کے ترکش کو پر رکھنے کا۔ کتنی سخت زندگی کاٹی تھی اسکی ماں نے۔ اناتھ پیدا ہونے والے چرن داس نے تمام عمر ماں کے ھاتھ خالی اور آنکھیں بھری ہوئی دیکھیں تھی۔ ایسا نہیں تھا کی دنیا میں انکا کوئی نہیں تھا۔ کوئی بڑا خاندان نہ سہی، مگر جمال پور کی اس بستی میں وہ، اسکی ماں، چاچا، چاچی اور انکے چھ بچے کل مل کر دس ہندو جی ابھی بھی باقی رہ گئے تھے۔ اچھا بھلا چھوٹا سا جتھا، گر سوچنے پہ آؤ تو۔ مگر مرتبے کی تفریق جب جوش کی بنیاد پہ ہونے لگے، تو ہوش والوں کے لیے صرف گند سمیٹنا ہی رہ جاتا ہے۔ چرن داس کی ماں اور چرن داس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ پچھلوں کے وقت کا ایک مندر گزری تہزیب کی علامت کے طور پر باقی رہ گیا تھا۔ دونوں ماں بیٹا کسی گناہ کی طرح اس کھنڈر سے ملحقہ تاریک کوٹھڑی میں دھکیل دیئے گئے۔ سال پر سال بیتتے گئے اور بستی میں کلمہ گو آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ چرن داس کا کنبہ سکڑتا گیا۔ ماں چل بسی اور اسکے دو سال بعد چاچے کا بھی کریا کرم ہو گیا۔ چاچی نے اپنے بچے پروں میں سمیٹے اور اپنے بھائیوں کے پاس بہاولنگر چلی گئی۔ بہاولنگر میں آج بھی ہندومت کے نام لیواؤں کی بڑی آبادی تھی۔

پیچھے رہ گیا چرن داس۔ کچھ جی دھرتی پر پیچھے رہ جانے کے لئے ہی اترے ہوتے ہیں۔ جیسے کسی بھی بلاک بسٹر فلم میں نامی گرامی کتنے ہی فنکار ہوں، فلم ایکسٹراز کے بغیر پوری نہیں ہوتی ۔۔۔ بالکل ویسے ہی اس دنیا کے مالک کا نظام ہے۔ کچھ انسان صرف ایکسٹراز کا کردار لکھوا کر آئے ہوتے ہیں۔ بے نام چہرے، بے زبان ہست۔ بستی میں بےضرر چرن داس لڑکپن سے نوجوانی، نوجوانی سے جوانی، جوانی سے ادھیڑعمری کی سیڑھیاں ایسے ہی بےمکالمے کردار کی خاموشی سے چڑھتا گیا۔

بستی کی گلیوں میں جھاڑو پھیرتے پھیرتے کب اسکا اپنا سر ملگجا ہوگیا، کسی کو پتہ نہ چلا.

بستی میں کچے مکان اب پہلے سے کم تھے. آبادی بڑھ گئی تھی. گھر بھی اب زیادہ تر پختہ تھے اور دل بھی اب زیادہ پتھریلے تھے. چرن داس پڑھا لکھا نہیں تھا. وہ توشاید شعور کے کسی کلیے کے بھی حساب سے صاحب رائے ہونے کا اہل نہیں تھا۔ لیکن شکرکہ وہ خود یہ بات نہیں جانتا تھا۔ زبان کبھی کھولتا ہی نہ تھا کہ کسی اور کو خبر ہوتی کہ چرن داس بھی چپکے چپکے سوچ کا روگ پالتا ہے اور یہ کہ ایسی حرکت کی کما حقہ بیخ کنی کی ضرورت پڑتی۔ ۔ سو اس کے گونگے خیال میں جیسے جیسے بستی کی مسجد کا صحن پھیلا تھا، ویسے ویسے نمازیوں کے ایمان کی بنیادیں کمزور پڑی تھیں۔ پہلے اسکو دیکھ کر ان دیکھا کر دینے والے اب اس پر نگاہ پڑنے سے اپنا اسلام ناپاک ہو جانے کی شکایت کرنے لگے۔ مردود ہندو۔ اوپر سے منحوس۔ اوپر سے ایک آسیب زدہ مندر میں بدروحوں کے ساتھ جانے کس کس طرح کی بد مستیوں میں مگن رہتا ناپاک جی ۔۔۔ یہ سب کیا کم تھا کہ جمال پور کے بس سٹیشن کے پیچھے واقع کچرا کنڈی سے کسی کا پھینکا ہوا گناہ بھی اٹھا کر لے ایا۔ ایک کہرام ہی تو مچ گیا تھا۔ مسجد کے امام صاحب جو بڑی مرتبہ دبے دبے الفاظ میں یہ عندیہ دے چکے تھے کہ انکے خیال میں مسلمانوں کی اس آبادی میں ایک مندر کی عمارت، بمع اپنے اکلوتے وارث کے، کسی بھی طرح جواز نہیں رکھتی تھی؛ اب کھل کر میدان میں اترے. مسجد کی نالی سے گندگی سمیٹتا چرن داس خاموشی سے سنے گیا.

اس جمعے جب جمال پور کے فرزندان توحید ہفتے میں ایک بار حاضری کی رشوت لے کر رب کی بارگاہ میں پیش ہوے تو مولوی صاحب نے سب کو آڑے ہاتھوں لیا. انکی نمازیں انکے منہ پر دے ماریں اور انکی سب دعاؤں کو آسمان سے دھتکارے جاتے بھی دیکھ لیا. بات میں دم بھی تھا. اب کون مورکھ اس بات کا منکر ہو سکتا تھا کہ بستی میں گناہ کی ایسی کالک پل رہی ہو تو بھلا کونسی دعا آسمان تک جا سکتی تھی۔ ہر دعا تو چرن داس کی گندگی کی سیاہی نگل لیتی تھی. امام صاحب نے رمضان سنار سے پوچھا کہ اسکے گھر اب تک اولاد نہ ہونے کی وجہ اسے سمجھ نہیں اتی. امام صاحب نے ایکسین ریٹائر ہو کر گاؤں میں ا بسنے والے ریاض الدین سے پوچھا کہ انکو اب تک پتہ نہ چلا کہ اللہ نے انکا جوان جہاں بیٹا کس لیے ان سے چھین لیا ۔ چوھدری اشرف کی چار بھینسیں اس برسات میں سانپ کاٹے سے مر گئی تھیں. اسکو کیوں نہ وجہ سمجھ آئی؟ امام صاحب کا گلا رندھ گیا. اللہ اپنی ناراضگی کا اظہار کیے چلا جا رہا تھا اور یہاں کوئی کان دھرنے کو ہی تیار نہیں تھا۔

“کیا چاھتے ہو تم سب، میں اکیلا ہی تم سب کی غفلت کا بوجھ اٹھائے رکھوں یا تم لوگوں نے کچھ خود بھی کرنا ہے اس بستی کو پاک کرنے کے لیے؟“ مولوی صاحب دھاڑے۔

سب مومنین کا دل اور اسلام لرز گیا.

ایک طرف ایک ملیچھ لاوارث، دوسری طرف رب کائنات۔ اپ خود بتائیں کس کا ساتھ دینا انصاف ہوتا؟

عشاء تک چرن داس کا مندر عرق گلاب سے دھل چکا تھا. صفایاں ہو گئی تھیں۔ جالے اتار دیے گئے تھے۔ مورتیوں کے کندہ نقوش پہ ایمان والوں نے سفیدی پھیر دی تھی. چرن داس اور اسکا گود لیا گناہ کا ڈھیر گاؤں سے باہر پھینک دیے گئے تھے. قوت ایمانی کا ایسا مظاہرہ بہت سے دلوں کو گرما گیا تھا۔ رمضان سنار کے کانوں میں تو مانو ننھے بچوں کی کلکاریاں ابھی سے گونجنے لگیں تھی. پارسائی ایسا ہی نشہ ہے. تیز اور گہرا۔

عشاء کے بعد امام صاحب نے اکابرین سے مشورے کے بعد اعلان کیا کہ سوموار سے مندر ڈھانے کا مرحلہ شروع ہو گا اور اگلے جمعے کو اس جگہ مدرسے کا سنگ بنیاد مولوی صاحب خود رکھیں گے ۔ مدرسے کا نام چوهدری اشرف کے نام پر مدرسہ اشرف رکھا جائیگا۔ چوهدری صاحب نے کسر نفسی سے ایسا کرنے سے بار بار منع کیا، اور ہر بار مولوی صاحب کی معاملہ فہمی کی تعریف بھی کی. سب چوهدری صاحب کی منکسر المزاجی کے قائل ہو گئے۔

سوموار کو تکبیر کے نعروں کی گونج میں مندر ڈھانے والوں میں منہ پر ڈھاتا باندھے چرن داس بھی تھا. اسے پہچان لیا گیا اور پکڑ کر مسجد میں کوتوالی کے لیے پیش کر دیا گیا۔ مولوی صاحب بہت جزبز ہوئے. یہ معاملہ اچھا بھلا نمٹ چکا تھا. انہوں نے چبا چبا کر چرن داس کو ادھر سے غائب ہو جانے کو کہا.

چرن داس انکے قدموں میں آ بیٹھا. 
اسکا سر انکے پاؤں کے انگوٹھوں پہ ٹک گیا.

“مائی باپ، میں تو سب پاپ ہوں ۔ مگر اب جب اپ اپنے اللہ کو ادھر لا کر بسانے لگے ہو تو میں ساتھ مزدوری کرنا چاہتا ہوں. اپ مجھے بس اس کے بدلے اتنی اجازت دے دو کہ جب وہ بڑا ہو میں اپنے بچے کو مدرسے بھیج سکوں.“

“پاگل ہوئے ہو داسے؟“ مولوی صاحب پاؤں جھٹک کر گرجے.

چرن داس گھگھیاتے ہوئے پھر انکے پاؤں کی طرف لپکا۔

“اس پورے علاقے میں اور کوئی بھرشٹ مذھب نہیں ہے میرے سرکار۔ وہ بچہ مسلمان ہے. اس سے اسکا رب نہ لو. میں مندر اکیلے ہی گرا دوں گا. کوئی مزدوری نہیں مانگوں گا. بس اس بالکے کو اپنا اللہ دے دو میرے مالک۔“

کہنے والے کہتے ہیں مسجد سے اس دن جب چوهدری اشرف کے بندے چرن داس کو لے کر گئے تو اس کے بعد ڈسٹرکٹ بہاولپور کی تحصیل حاصل پور کی یونین کونسل جمال پور میں وہ کبھی کسی کو نظر نہیں ایا. وہ پہلے بھی ان دکھا رہتا تھا، سو اب کیا فرق پڑنا تھا ۔

جمعے کو مدرسے کا سنگ بنیاد رکھا گیا. مولوی صاحب کے چہرے پر ایک پر اعتماد مچھیرے کی سی رونق تھی. 
رات انہوں نے اپنے بیٹے کو سانگھڑ تار بھیجا:

“اللہ نے رزق کا بندوبست کر دیا ہے ۔ اب تمہیں پردیس میں خوار ہونے کی چنداں ضرورت نہیں. فورا چلے آؤ۔“

رب ایک اور عمارت میں قید ہو گیا تھا۔



**یہ کہانی لینہ ناصر کی جانب سے دانش ویب سائٹ کے لیئے لکھی گئی**

Image: "Seek and you shall find", by Mobeen Ansari