Monday, June 18, 2018

اڑتا نہیں دھواں!


**The writing prompt had been: A line picked from any of Gulzar's verses as the opening sentence.

Following is what I wrote.**


‏چنگاری اک اٹک سی گئی میرے سینے میں ... ایسی برفاب خنکی تھی اسکی نگاہوں میں. ہمارے درمیان الفاظ کا رشتہ تو کچھ عرصے سے ویسے ہی کسی قضا فرض جیسا بوجھل ہو چکا تھا، آج یوں محسوس ہوا گویا نظر کا تعلق بھی پل صراط بن گیا ہو.

یہ رشتے، بندھن ویسے کیا ہی گرہیں ہیں. ہم امید کا بل دے دے کر باندھی جاتے ہیں. توقع قربت کا حاشیہ بنے، کسی گرانڈیل پروہت کی ناپاک گرفت کی طرح کب سانس گھونٹ دے، گرہ لگاتے ہوئے کب یہ خیال آتا ہے.

کب خیال آتا ہے کہ خوابوں کا بیوپار کرتے کرتے کہیں ہم آنکھوں میں ریگزار نہ بسا لیں.

اتنا سوچ لیں تو کیا اپنی امیدوں کو خود پا بہ گل نہ کر لیں؟ آس کے پنکھ پنکھیرو ہوا میں اڑانے کا شوق مئے ناب کیطرح مدہوش نہ کردیتا، تو کون آزادی گروی رکھنے پہ یوں مصر رہتا؟

نجانے یہ شکستِ ذات کے لمحہ کی بازگشت ہے یا محض کانوں میں فشارِ خون کی گونج، مگر سنائی یہی دے رہا ہے کہ بندھن باندھنے کے لیے جتنا ظرف چاہیے ہوتا ہے، اسکی آبیاری ہم نہیں کرتے. بارِ امید سہنا، ہم جیسے نوتونگر خداؤں کے بس کی بات نہیں. نہ ہمیں اپنی خدائی کو دوسرے کی توقعات کا تسمہ باندھنا آتا ہے، اور نہ ہی دوسرے خدا کی بارگاہ میں اپنی بےشرط بندگی کا نذرانہ پیش کرنا.

ہمارے مطالبے ہماری قید بن جاتے ہیں.

سوچتے سوچتے میری آنکھیں جلنے لگیں.
میں نے پھر اس کی طرف دیکھا.

.... تھوڑا سا آ کے پھونک دو، اڑتا نہیں دھواں!



چنگاری اک اٹک سی گئی میرے سینے میں
تھوڑا سا آ کے پھونک دو اڑتا نہیں دھواں

- گلزار


Image: paintinting by Henrik Aarrestad Uldalen

Monday, June 4, 2018

سوں تیری سوہنیاں


[part i of this story can be found here: Aath pehr ki mazdoori]


“اس وحشت سے بھاگا کیوں پھرتا ھے؟“
“کیا کھو گیا ہے تیرا؟“
“کس کی کھوج میں بولایا ہوا ہے؟“

کرخت آواز ایک اینٹ کی طرح اسکی سماعت سے ٹکرائی۔ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ سُن سا ہو کر رہ گیا۔ ایک ڈیژا وو سا ہوا تھا۔
اسے یوں محسوس ہوا گویا یہ آواز اس نے پہلے بھی کہیں سنی تھی۔ جیسے یہ لمحہ کبھی پہلے بھی کہیں اسی طرح اندھی گولی کی مانند آ ٹکرایا تھا۔ زماں اور مکاں کی اس قید سے زرا پرے، جیسے یہ پورے کا پورا منظر اسی طرح بیتا تھا، گلبرگ کے اس مشہور کمپیوٹر سینٹر کے باہر؛ گرد اڑاتے، بلبلاتے مئی کی چلچلاتی گرم دوپہر میں ۔۔۔ جیسے وہ پہلے بھی اس کھردری آواز سے خار آلودہ ہوا تھا۔

دھوپ سے چندھیائی نگاہ جو اٹھی تو سامنے کھڑا شخص دِکھا. عجیب الہئیت سا شخص۔ اس کے چہرے پہ عمر کے بہت سے دور، مغرب کے وقت باہم ملتے صبح اور شام کی طرح مدغم ہو رہے تھے؛ سر پر نماز والی ٹوپی کسی گناہگار کے نامئہ اعمال کے سے رنگ کی تھی؛ کندھے پر دھرا ایک ڈبیوں والا رومال ماضی کی کسی گنجلک پہیلی سے جیسے ابھی بھی پیوست تھا۔ اسکی نظر بے ارادہ اسکے سراپے پر پھسلتی چلی گئی. بے ڈھنگی، بد رنگی سی ملگجی شلوار قمیض اس کے بے ہئیت سے جثے پہ اتنی ہی مس فٹ تھی جتنا اسکی چمچماتی گاڑی کی چمکیلی سطح پر اسکا عکس۔

ناگواری کی لہر اس کے اندر سے اٹھی، اور شمال سے اٹھنے والی آندھی کی طرح ذہن کو بے طرح گدلا کر گئی۔

"جاہل!"
"ہٹو آگے سے!"

اپنی آنکھوں پہ دھوپ کا بیش قیمت چشمہ واپس ٹکاتے ہوئے اسکی آنکھیں ان قنچے جیسی آنکھوں سے چار ہو گئیں. ایک لمحے کو یوں لگا جیسے اسکا پاؤں بجلی کی ننگی تار کو چھو گیا ہو. کرنٹ کی ایک شوریدہ لہر تھی جو اسکے رگ و پے میں بلند ہوتی پتنگ کی ڈور کی طرح پھر گئی. کاٹ دار.

جیسے اُسکی نگاہ کی اِسکے ذہن میں بننے والے سوچ کے مد و جزر تک رسائی ہو، وہ شخص زیرِلب مسکرایا.

"الجھ کیوں گیا ہے؟ پُٹھے پاسے رخ نہ موڑ. تیرا رستہ اُدھر نہیں جاتا!"

بنا سوچے اسکے منہ سے پھسلا، "کدھر؟"

وہ شخص قریب جھک آیا. پسینے کی تیز ہمک اسکی حسیات کو جھنجھوڑ گئی. سرکش بُو کے ناگوار احساس کی بُکل مارے پیچھے پیچھے ایک سازشی سرگوشی بھی تھی:

"جدھر کی جوت تجھے بے کَل رکھتی ہے، سسیے بے خبرے!"

وہ خاصا نفیس آدمی بالکل ششدر رہ گیا. "وٹ دا ..."

ایسے جیسے اُس نے سنا ہی کچھ نہیں، وہ ذرا سا پیچھے ہوا. کندھے پر پڑا رومال اتار کر جھاڑا اور ٹوپی پھر سے سر پر جمائی. اور پھر اِس کے بھونچکے چہرے کو بغور دیکھتے یوں مسکرایا کہ اگر کوئی حلیوں کی نظر آنے والی حقیقت سے نظر چرا سکتا تو یہی کہتا کہ اس جوگی کی مسکراہٹ ہمدردی سے لبریز تھی.

حقیقت کا مسئلہ یہی ہے. کوئی منظر کو حقیقت مانتا ہے. کوئی ناظر کو. اور کوئی نظر کو. ہم ممکن کی قید میں اتنے محدود ہیں کہ حقیقت کا تعارف بس اتنا ہی منقسم ہے.

"مت دیکھ تماشا اتنی دیر. اتنی دیر میلہ دیکھنے رک گیا تو بھنبھور لُٹ جائے گا!"

اس کے ہاتھ میں تھامے فون کی ہلکے سے ارتعاش سے لرزش ہوئی … ایک لحظے کو جیسے کوئی سحر ٹوٹا، سب معمول کو لوٹ آیا. اس نے فون کی جانب دیکھااور ہاتھ پھر سے گاڑی کے دروازے کی طرف بڑھایا.

وہ گنگنایا

اُس بے پرواہ دی اِس عادت
ساڈا حال تباہ کر چھڈیااے
جد وعدہ کر کے نہیں آندا
سانوں تارے گنائی رکھدااے

'جانے دیں مجھے، میں وہ نہیں ہوں جسے آپ ڈھونڈ رہے ہیں.' آواز میں اب طمطراق نہ تھا، الجھن تھی.

'جھلیا، ڈھونڈ تو تو رہا ہے، ڈھولن ماہی کو. جھوک رانجھن کی طلب تو تجھے بےکل رکھتی ہے. اپنی پکار کی بازگشت سہہ سکتا تو اندر کا خالی پن اتنا گونجتا نہ ہوتا تیرا.'

اسکے ماتھے پر دمکتے پسینے کی بوندیں اب باقاعدہ برس رہی تھیں.

'آپ مجھ سے کیا چاھتے ہیں؟' لہجے میں لجاجت سی جھلکی.

وہ مزدور فقیر قہقہہ لگا کر ہنسا یوں جیسے کوئی لطیفہ سن لیا ہو .

'ابے او ناکارہ! تُو دے کیا سکتا ہے کسی کو؟ ہے کیا تیرے پاس؟ تیری سب سے بڑی مصیبت ہی یہ ہے … تجھے درک ہی نہیں اپنی غربت کا.
تُو مجھے ایک فالتو سانس جتنی ہوا دے سکتا ہے؟ میرے اس پسینے کو واپس موڑ سکتا ہے؟ تُو مجھے میرے متعین رزق سے فالتو ایک لقمہ دے سکتا ہے؟ بتا! تُو مجھے کچھ نہیں دے سکتا میرے بابو. مسئلہ یہ ہے کہ تیری غربت تیری کثرت کے پردے میں چھپی ہے، میری عسرت کی طرح ننگی نہیں ہے.
تُو جو دیتا ہے، جو دے گا، وہ کسی کے لیے نہیں، تیری اپنی ڈیوٹی کی ادائیگی کے لیے ہے. تیری دینے کی اہلیت تیری آزمائش ہے.'

وہ بولتے بولتے چپ ہوا. اس نے نظریں گھما کر ارد گرد دیکھا. کیا اس پاس دنیا کو یہ بےتکا میل ملاپ دکھائی دے رہا تھا. عمارت کے نوجوان چوکیدار کو اس طرف متوجہ دیکھ کر اس نے بیساختہ سکون کا سانس لیا.

'ڈر سے جان چھڑا لے. یہ تجھے اگے نہیں بڑھںے دیگا. ابلیس کو اپنی برتری چیلنج ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو وہ کبھی راندۂ بارگاہ نہ ہوتا.'

زن سے کوئی گاڑی پاس سے گزری. غبار کا بادل سا اٹھا.

'ڈر سے جان کیسے چھڑاتے ہیں؟' اسکی آواز جیسے کسی کنویں کی تہہ سے آئی.

'ہستی کو مارکے.' وہ رسان سے بولا.

'نیستی میں بڑا سکھ ہے. لامحدودیت ہے. غربت امارت کے جھگڑے نہیں ہیں. قدر و جبر کا فساد نہیں ہے. کھو جانے کا اندیشہ نہیں ہے. کسی اور کا انتظار نہیں ہے.'

اسکا کھردرا ہاتھ اسکے کندھے پر آ ٹکا، اس نے قریب جھک کراسکی مضطرب آنکھوں میں جھانکا.

'اور سب سے بڑی آزادی یہ ہے کہ تیرا واحد حوالہ ہی تیری برات ہے. بس. ابھی تیری روح ہست کے بار تلے عاجز آئی ہوئی ہے. نیست کی بے وزنی کے لیے تڑپتی ہے. تیرا نشان بے نشانی کی کھوج میں ہے. تُو راستے کی رکاوٹ بننا بند کر دے. سب خیر ہوجائے گی.'

'آپ کون ہیں؟'

کھڑ کھڑ کرتا ایک رکشہ ساتھ آ رکا. وہ جواب دئیے بغیر دلچسپی سے سواری کو اترتے دیکھتا رہا اور پھر ایک آخری بھرپور نظر اس پر ڈال وہ لپک کر رکشے میں جا بیٹھا.
رکشے کے ریڈیو پر نصرت کی آواز اپنے مخصوص سوز کے ساتھ گونج رہی تھی:

جتھے ہے ہکو، ذات حق دی اے
میری ذات کوئی نئی، تے صفات کوئی نئی
بھلا خاک نمانی نے بولنڑا کی
بنا یار بولے ہوندی آواز کوئی نئی
باقی یار میرا، میں تے ہاں فانی
میری ہور اس توں کرامات کوئی نئی
تینوں فیر دیوانیاں کی دساں
میری صفت کی اے؟ جیہڑی ذات کوئی نئی

سوں تیری سوہنیاں تویوں ای ایں
ہوے شرک عیاں جے میں ہواں

Sunday, April 15, 2018

وطنی



مقام کی تعریف تو قیام سے مشروط ہے، مگر جس طرح پودے زمین پر ہی نہیں، بحر میں بھی پنپتے ہیں اور انکی جڑیں پانی کے بہاؤ کے ساتھ ڈولتی رہتی ہیں. اسی طرح ہم میں سے کچھ سیلِ رواں کو اپنا ٹھکانہ مانتے ہیں، جمود سے باغی ... مسلسل سفر، مسلسل حرکت! ایک لامتناہی ہجرت کا مضمون.

اس شام مغرب کے بعد، جب چودھویں کا چاند اپنے جوبن کی رعنائی کے ساتھ طلوع نہیں ہوا تھا، میں ہاتھ پانی میں ڈبوئے دریائے سندھ کے لمس کو محسوس کیے گئی. پیچھے سے پڑنے والی متواتر آوازوں کو ان سنی کرتے ہوئے مین نے اپنی تمام حسیات اپنے سامنے اس قدیم دریا پر مرتکز رکھیں. اس کی سرگوشیوں میں حکایات تھیں. اسکی روانی میں سبق. اسکے لمس میں تاریخ. ہم دونوں کا آپس کا تعلق کوئی نہیں جانتا، اور نہ ہی سمجھ پائے. 

میانوالی سے آگے، عیسٰی خیل کی سنگلاخ چٹانوں کے قریب کالا باغ کا علاقہ ہے. یہاں دریائے سندھ قدرتی ڈیم کی گود سے اترتا ہے. اپنے انجام سے بےخبر، اپنے سفر کی طوالت سے بےپروا، سندھ ایک شریر بچے کی معصومیت کے ساتھ کالاباغ کے دامن میں مچلتا، ہمکتا جاتا ہے. کنارے پر پھیلا بوہڑ کا تاریک جنگل، جس کے درخت اب شاخوں اور جڑوں کی تخصیص سے بےنیاز ہیں، اس منظر کا خاموش گواہ ہے. 
'یہ درخت کتنے پرانے ہیں؟' میں نے نواب آف کالا باغ کی حویلی کے ملازم سے پوچھا. 
ہزار سے دو ہزار سال کا تخمینہ تھا. 

میرے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی.
سوچو، ہم میں سے کسی پر گواہی کی ذمہ داری ہو ... صدیوں پر پھیلے وقت کی گواہی کی ذمہ داری. کیا اسکا بوجھ ہمارے کندھے جھکا نہیں دے گا؟ کیا ہم درک کی وقعت سمجھتے ہیں؟

سندھ سے میرا پہلا تعارف اس ملاقات سے تیس برس پہلے ہوا تھا.
گلگت سے آگے، شاہراہ قراقرم کی پتھریلی مچان سے میں نے دریا کی پہلی گونج سنی تھی. میں اپنی ماں کی ٹانگوں سے لپٹ گئی تھی. مجھے آج تک اس جھاگ اڑاتے شورش زدہ پانی کی شدت یاد ہے. میری کمسنی کو اسکی آواز میں دھمکی سنائی دی تھی. وہ دھمکی کہتی تھی کہ دریا ادھر گہرائی میں سے اچھل کر پہاڑ پر آ دھمکے گا. ہمیں ڈبو دے گا. کم سنی، ناتجربہ کاری، اور گہرائی کا نہ ہونا، یونہی سہما دیتا ہے انسان کو. دوسرے کی گہرائی ہمارے لیے خوف کی دوزخ بن جاتی ہے. 
خیر ... دریائے سندھ ادھر، گلگت بلتستان میں دریائے کابل کا دیباچہ، ایک غضب ناک شہنشاہ کی جلالت کے ساتھ قراقرم سے بھڑتا گزرتا ہے. اسکی ہیبت، اسکا جوش، دیکھنے والی آنکھ کی پتلی، اور وقت کے لمحے پر ثبت ہو جاتا ہے. شاید جلال کو اسی لیے جمال کے پردے میں رکھنے کی تلقین کرتے ہیں بڑے بزرگ، کہ غیض و غضب کا نقش انمٹ ہوتا ہے. 

پنجند اور سندھ کے اتصال کے مقام پر آکر، سندھ ٹھہر سا جاتا ہے. اسکی طبیعت کا ہیجان اب سکون کا سانس لیتا ہے. مختلف میلان ملتے ہیں تو اپنی تندی کو قابو میں رکھنا آتا ہے. اپنی وسعت جانچنا آتا ہے. خوش بخت اس لمحے کی عطا سنبھال لیتے ہیں، باقی اپنا غرور پال لیتے ہیں. 

میں نے سندھ کو لینس ڈاؤن پل پر خصوصی طور پر چلائی گئی ریل گاڑی سے عبور کیا ہے. پُل کی بنیادوں کو سہلاتا دریا، اپنی گہرائی کی بازگشت اوپر تک سنا دیتا ہے. وہاں اسکے مزاج میں ادھیڑ عمری والا پُر سوچ سکون ہے. یا شاید یہ دھرتی کی حلاوت ہے جو دریا کے سینے میں، اسکی روانی میں اتر آتی ہے. 
میں نے لاڑکانہ کے مالٹوں کے باغ میں، خیرپور کے دامن میں پھیلے نخلستان میں، بھٹ شاہ کی فضا میں، دریائے سندھ کی اس تاثیر کو برابر چکھا ہے. لمبا سفر کرنے والے کا بدن تو خستہ ہو جاتا ہے، لیکن اسکے کردار کی چاشنی بھی پھر اپنی مثال آپ ہوتی ہے. کون کتنی مشقت سے کتنے جتن سے اپنا جوہر کشید کرتا ہے، بات تو سب اپنی لگن کی ہے.

میں نے سندھ کو بحیرہ عرب کی گود میں اترتے دیکھا ہے. کراچی کے آسمان میں اسکی نیلاہٹ کو جھلکتے دیکھا ہے. اس کے دامن کی وسعت کو اس شہر کی غریب پروری میں دیکھا ہے. 

سندھ کا سفر مجھے اپنی روح کا سفر لگتا ہے. اس دریا کے رنگ میں مجھے اپنی ذات کا انگ نظر آتا ہے. وابستگی محسوس ہوتی ہے. اس دریا کے پہلو میں مجھے ہمیشہ حالتِ حضوری نصیب ہوتی ہے. مجھے گھر ملتا ہے. وطن کا احساس ملتا ہے.


Image: A glimpse of Indus, through my cellphone.

Saturday, March 31, 2018

Your Name


In all the languages you speak,
in all those I remember,
No word contained the texture of kiss. 


Of all the ages you've travelled,
of all the times I've existed,
No moment froze the scent of lilac.

Under all the nights, through all the days,
In maps traversing land and milky ways
No star shone so bright
like the sun that rises
every night when I make my home
along the shores of your heart beat.
There, nestled under the open skies
of mating want and surrender,
At the cusp of divinity and earthiness,
I smell Lilac.
I say your name.

Wednesday, March 21, 2018

معبد تراش لیں ہم، معبود کی تلاش میں



ڈسٹرکٹ بہاولپور کی تحصیل حاصل پور کی یونین کونسل جمال پور میں جمال بس نام کا ہی ہے۔ موسم کے اعتبار سے علاقہ سراسر جلال ہے۔ گرمی کے موسم میں تو مانو سورج اس فراوانی سے برستا گویا خود دھرتی کے سینے میں سما جانا چاہتا ہو۔ یہ تو بھلا ہو صدیوں سے رواں ستلج کے ظرف کا، اسکا دامن گرمی سے بلبلائے ہوؤں کے لیے ایک آسرا رہتا ہے۔

مون سون میں البتہ ستلج کے تیور بگڑ جاتے ہیں۔ اسکا سینہ، جھکے ہوئے کندھوں والے چرن داس کی آنکھوں جتنا بھر آتا۔ کناروں سے موج در موج آ کر ٹکراتا نمکین پانی چھلکنے کو بپھرا ہوتا، لیکن چرن داس کی آنکھوں سے بند ستلج کے بھاگ میں کبھی نہیں رہے، سو وہ چھلک جاتا ہے۔ حدود قیود کی ترتیب سے غافل۔ اپنے بپھرے جذبات کے ساتھ ستلج پھر ایک جنوں جولاں گدائے بے سروپا کی طرح نکل پڑتا ہے۔ بستیاں اجاڑتا، آبادیاں روندتا۔

سوچتے سوچتے ادھیڑ عمر چرن داس نے جھرجھری لی۔ وہ درگا دیوی کا پجاری ضبط کی منڈپ کا مرتبہ سمجھتا تھا۔ قوت کے قاعدے کلیے کے سبھی ضابطے یہ بتاتے ہیں کہ تیر وہی کارآمد ہوتا ہے جو ابھی چلنے کو دستیاب ہو۔ بچپن میں اپنی ماں سے اس نے یہی ایک سبق سیکھا تھا۔ ضبط کے ترکش کو پر رکھنے کا۔ کتنی سخت زندگی کاٹی تھی اسکی ماں نے۔ اناتھ پیدا ہونے والے چرن داس نے تمام عمر ماں کے ھاتھ خالی اور آنکھیں بھری ہوئی دیکھیں تھی۔ ایسا نہیں تھا کی دنیا میں انکا کوئی نہیں تھا۔ کوئی بڑا خاندان نہ سہی، مگر جمال پور کی اس بستی میں وہ، اسکی ماں، چاچا، چاچی اور انکے چھ بچے کل مل کر دس ہندو جی ابھی بھی باقی رہ گئے تھے۔ اچھا بھلا چھوٹا سا جتھا، گر سوچنے پہ آؤ تو۔ مگر مرتبے کی تفریق جب جوش کی بنیاد پہ ہونے لگے، تو ہوش والوں کے لیے صرف گند سمیٹنا ہی رہ جاتا ہے۔ چرن داس کی ماں اور چرن داس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ پچھلوں کے وقت کا ایک مندر گزری تہزیب کی علامت کے طور پر باقی رہ گیا تھا۔ دونوں ماں بیٹا کسی گناہ کی طرح اس کھنڈر سے ملحقہ تاریک کوٹھڑی میں دھکیل دیئے گئے۔ سال پر سال بیتتے گئے اور بستی میں کلمہ گو آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ چرن داس کا کنبہ سکڑتا گیا۔ ماں چل بسی اور اسکے دو سال بعد چاچے کا بھی کریا کرم ہو گیا۔ چاچی نے اپنے بچے پروں میں سمیٹے اور اپنے بھائیوں کے پاس بہاولنگر چلی گئی۔ بہاولنگر میں آج بھی ہندومت کے نام لیواؤں کی بڑی آبادی تھی۔

پیچھے رہ گیا چرن داس۔ کچھ جی دھرتی پر پیچھے رہ جانے کے لئے ہی اترے ہوتے ہیں۔ جیسے کسی بھی بلاک بسٹر فلم میں نامی گرامی کتنے ہی فنکار ہوں، فلم ایکسٹراز کے بغیر پوری نہیں ہوتی ۔۔۔ بالکل ویسے ہی اس دنیا کے مالک کا نظام ہے۔ کچھ انسان صرف ایکسٹراز کا کردار لکھوا کر آئے ہوتے ہیں۔ بے نام چہرے، بے زبان ہست۔ بستی میں بےضرر چرن داس لڑکپن سے نوجوانی، نوجوانی سے جوانی، جوانی سے ادھیڑعمری کی سیڑھیاں ایسے ہی بےمکالمے کردار کی خاموشی سے چڑھتا گیا۔

بستی کی گلیوں میں جھاڑو پھیرتے پھیرتے کب اسکا اپنا سر ملگجا ہوگیا، کسی کو پتہ نہ چلا.

بستی میں کچے مکان اب پہلے سے کم تھے. آبادی بڑھ گئی تھی. گھر بھی اب زیادہ تر پختہ تھے اور دل بھی اب زیادہ پتھریلے تھے. چرن داس پڑھا لکھا نہیں تھا. وہ توشاید شعور کے کسی کلیے کے بھی حساب سے صاحب رائے ہونے کا اہل نہیں تھا۔ لیکن شکرکہ وہ خود یہ بات نہیں جانتا تھا۔ زبان کبھی کھولتا ہی نہ تھا کہ کسی اور کو خبر ہوتی کہ چرن داس بھی چپکے چپکے سوچ کا روگ پالتا ہے اور یہ کہ ایسی حرکت کی کما حقہ بیخ کنی کی ضرورت پڑتی۔ ۔ سو اس کے گونگے خیال میں جیسے جیسے بستی کی مسجد کا صحن پھیلا تھا، ویسے ویسے نمازیوں کے ایمان کی بنیادیں کمزور پڑی تھیں۔ پہلے اسکو دیکھ کر ان دیکھا کر دینے والے اب اس پر نگاہ پڑنے سے اپنا اسلام ناپاک ہو جانے کی شکایت کرنے لگے۔ مردود ہندو۔ اوپر سے منحوس۔ اوپر سے ایک آسیب زدہ مندر میں بدروحوں کے ساتھ جانے کس کس طرح کی بد مستیوں میں مگن رہتا ناپاک جی ۔۔۔ یہ سب کیا کم تھا کہ جمال پور کے بس سٹیشن کے پیچھے واقع کچرا کنڈی سے کسی کا پھینکا ہوا گناہ بھی اٹھا کر لے ایا۔ ایک کہرام ہی تو مچ گیا تھا۔ مسجد کے امام صاحب جو بڑی مرتبہ دبے دبے الفاظ میں یہ عندیہ دے چکے تھے کہ انکے خیال میں مسلمانوں کی اس آبادی میں ایک مندر کی عمارت، بمع اپنے اکلوتے وارث کے، کسی بھی طرح جواز نہیں رکھتی تھی؛ اب کھل کر میدان میں اترے. مسجد کی نالی سے گندگی سمیٹتا چرن داس خاموشی سے سنے گیا.

اس جمعے جب جمال پور کے فرزندان توحید ہفتے میں ایک بار حاضری کی رشوت لے کر رب کی بارگاہ میں پیش ہوے تو مولوی صاحب نے سب کو آڑے ہاتھوں لیا. انکی نمازیں انکے منہ پر دے ماریں اور انکی سب دعاؤں کو آسمان سے دھتکارے جاتے بھی دیکھ لیا. بات میں دم بھی تھا. اب کون مورکھ اس بات کا منکر ہو سکتا تھا کہ بستی میں گناہ کی ایسی کالک پل رہی ہو تو بھلا کونسی دعا آسمان تک جا سکتی تھی۔ ہر دعا تو چرن داس کی گندگی کی سیاہی نگل لیتی تھی. امام صاحب نے رمضان سنار سے پوچھا کہ اسکے گھر اب تک اولاد نہ ہونے کی وجہ اسے سمجھ نہیں اتی. امام صاحب نے ایکسین ریٹائر ہو کر گاؤں میں ا بسنے والے ریاض الدین سے پوچھا کہ انکو اب تک پتہ نہ چلا کہ اللہ نے انکا جوان جہاں بیٹا کس لیے ان سے چھین لیا ۔ چوھدری اشرف کی چار بھینسیں اس برسات میں سانپ کاٹے سے مر گئی تھیں. اسکو کیوں نہ وجہ سمجھ آئی؟ امام صاحب کا گلا رندھ گیا. اللہ اپنی ناراضگی کا اظہار کیے چلا جا رہا تھا اور یہاں کوئی کان دھرنے کو ہی تیار نہیں تھا۔

“کیا چاھتے ہو تم سب، میں اکیلا ہی تم سب کی غفلت کا بوجھ اٹھائے رکھوں یا تم لوگوں نے کچھ خود بھی کرنا ہے اس بستی کو پاک کرنے کے لیے؟“ مولوی صاحب دھاڑے۔

سب مومنین کا دل اور اسلام لرز گیا.

ایک طرف ایک ملیچھ لاوارث، دوسری طرف رب کائنات۔ اپ خود بتائیں کس کا ساتھ دینا انصاف ہوتا؟

عشاء تک چرن داس کا مندر عرق گلاب سے دھل چکا تھا. صفایاں ہو گئی تھیں۔ جالے اتار دیے گئے تھے۔ مورتیوں کے کندہ نقوش پہ ایمان والوں نے سفیدی پھیر دی تھی. چرن داس اور اسکا گود لیا گناہ کا ڈھیر گاؤں سے باہر پھینک دیے گئے تھے. قوت ایمانی کا ایسا مظاہرہ بہت سے دلوں کو گرما گیا تھا۔ رمضان سنار کے کانوں میں تو مانو ننھے بچوں کی کلکاریاں ابھی سے گونجنے لگیں تھی. پارسائی ایسا ہی نشہ ہے. تیز اور گہرا۔

عشاء کے بعد امام صاحب نے اکابرین سے مشورے کے بعد اعلان کیا کہ سوموار سے مندر ڈھانے کا مرحلہ شروع ہو گا اور اگلے جمعے کو اس جگہ مدرسے کا سنگ بنیاد مولوی صاحب خود رکھیں گے ۔ مدرسے کا نام چوهدری اشرف کے نام پر مدرسہ اشرف رکھا جائیگا۔ چوهدری صاحب نے کسر نفسی سے ایسا کرنے سے بار بار منع کیا، اور ہر بار مولوی صاحب کی معاملہ فہمی کی تعریف بھی کی. سب چوهدری صاحب کی منکسر المزاجی کے قائل ہو گئے۔

سوموار کو تکبیر کے نعروں کی گونج میں مندر ڈھانے والوں میں منہ پر ڈھاتا باندھے چرن داس بھی تھا. اسے پہچان لیا گیا اور پکڑ کر مسجد میں کوتوالی کے لیے پیش کر دیا گیا۔ مولوی صاحب بہت جزبز ہوئے. یہ معاملہ اچھا بھلا نمٹ چکا تھا. انہوں نے چبا چبا کر چرن داس کو ادھر سے غائب ہو جانے کو کہا.

چرن داس انکے قدموں میں آ بیٹھا. 
اسکا سر انکے پاؤں کے انگوٹھوں پہ ٹک گیا.

“مائی باپ، میں تو سب پاپ ہوں ۔ مگر اب جب اپ اپنے اللہ کو ادھر لا کر بسانے لگے ہو تو میں ساتھ مزدوری کرنا چاہتا ہوں. اپ مجھے بس اس کے بدلے اتنی اجازت دے دو کہ جب وہ بڑا ہو میں اپنے بچے کو مدرسے بھیج سکوں.“

“پاگل ہوئے ہو داسے؟“ مولوی صاحب پاؤں جھٹک کر گرجے.

چرن داس گھگھیاتے ہوئے پھر انکے پاؤں کی طرف لپکا۔

“اس پورے علاقے میں اور کوئی بھرشٹ مذھب نہیں ہے میرے سرکار۔ وہ بچہ مسلمان ہے. اس سے اسکا رب نہ لو. میں مندر اکیلے ہی گرا دوں گا. کوئی مزدوری نہیں مانگوں گا. بس اس بالکے کو اپنا اللہ دے دو میرے مالک۔“

کہنے والے کہتے ہیں مسجد سے اس دن جب چوهدری اشرف کے بندے چرن داس کو لے کر گئے تو اس کے بعد ڈسٹرکٹ بہاولپور کی تحصیل حاصل پور کی یونین کونسل جمال پور میں وہ کبھی کسی کو نظر نہیں ایا. وہ پہلے بھی ان دکھا رہتا تھا، سو اب کیا فرق پڑنا تھا ۔

جمعے کو مدرسے کا سنگ بنیاد رکھا گیا. مولوی صاحب کے چہرے پر ایک پر اعتماد مچھیرے کی سی رونق تھی. 
رات انہوں نے اپنے بیٹے کو سانگھڑ تار بھیجا:

“اللہ نے رزق کا بندوبست کر دیا ہے ۔ اب تمہیں پردیس میں خوار ہونے کی چنداں ضرورت نہیں. فورا چلے آؤ۔“

رب ایک اور عمارت میں قید ہو گیا تھا۔



**یہ کہانی لینہ ناصر کی جانب سے دانش ویب سائٹ کے لیئے لکھی گئی**

Image: "Seek and you shall find", by Mobeen Ansari


ہم



بنجر روحوں کے اجاڑ کواڑوں میں گونجتے سناٹے،
واہموں کی طویل راہدریاں
اور خوف کے معبد،
سسکتی ہوئی شورشیں
ٹوٹتی ہوئی چوکھٹیں
مٹتی ہوئی نقش کاریاں،
بانجھ منتوں کے امین
سوالی کے نصیب کی طرح ... خالی
لوٹ آتی ہو گی بن کر بازگشت اپنی ہی ہر صدا
کہ ہم، یزداں کے رہین، رحمان کے فرستاده،
خدا کو ہم یہاں بسنے کی اجازت نہیں دیتے

- لینہ ناصر


Image: Gori Mandir, near Nagarparkar, Sindh, Pakistan; captured by wizard with the lens, Mobeen Ansari.

Monday, February 19, 2018

Your Cross To Carry


**Had been assigned the writing prompt: All the forests on this planet have been destroyed, a single, old tree that's been here since almost a century or even more, remains.
Write from its perspective, how it narrates everything that it has seen in its life and how it now waits for the end.

Following is the story I wrote.**




At this very moment, close to the midnight of a nameless day in the countless winter of an unmeasured duration, perhaps I'm a stranger to you. But survival has its own peculiar scent, so it's rather unlikely that you'd stay unaware of me for long ...
This is an awkward introduction ... isn't it?
Let me try again... With some verses from Heer may be?
You know I hold Waris Shah's Heer very dear to my heart.
It is the Heer, that Waris Shah penned in 1766, that has been a part of my identity over the centuries.

Heer aakhdi jogiya ve jhoot bolay
ve kaun ruthaRe yaar manavanda eee
aisa koi na milya ve main dhoond thaki haaa
jehRa gayan nu mohR layavanda eee


sade chamRiyaan jutiyaan kare koi eee
jehRa jeu da rog gavavanda eee
bhala das kha chiree vichania nu
kado rabb sacha ghar leyavanda eee


sada jeuja maan jehRa aan milay
sir sadqa osde naamda ee
bhala moye te vichaRe kaun milay
aevein jiuda log val-lavanda eee


ek jatt de khet nu agg lagi
vekhan aaike kado bhujhavanda eee
ek baaj toh kau ne koonjh khoi haaa
vekhaan chup hai ke kurlavanda eee
devaan chooriyan, gheyo de baal divay
Waris shah je suna main aavanda eee


The bichRa yaar, Heer in these verses has been longing for, is Dheedo Ranjha. The son of my soil, Takht Hazara, where I stand even today.
As the lone tree survivor, a forest within itself.
Like the wailing lament of Heer, the very definition of love within itself.

I'm a Banyan tree. Though, does it matter now which tree I am?
Identification matters for the un-singular. When all you do is to wipe all trees from the earth, what does it matter whom the earth had birthed and raised? What does it matter if Ranjha had ever lived, loved or not? What does survival matter to the one bent on annihilation any way?

I know ... I know ... Don't start shifting uncomfortably just yet. I speak a lot for someone my age. I don't know my age. But I was there when Waris Shah was deemed a majnoon ... I was there when a white person had carved on a side of me some kafka:

"If we value our lives, let us abandon it all… I am forever fettered to myself, that’s what I am, and that’s what I must try to live with", before hanging himself from one of my trunks.

I was there when the Japanese were nuked. I was there when Japanese rebuilt themselves again. Of course, I was far far far away from those happenings, in the quiet blissfulness of Apal Moori, near Takht Hazara, with my branches disappearing into the ground and emerging anew. But you don't think only humans communicate and network, do you?

Shh... let me tell you a secret we, the trees have been silently guarding over the millennia.

We have maintained symbiotic relationships with mycorrhizal fungi that lived on our roots. This mycorrhizal network worked on a much larger scale — sort of like an underground internet that connected entire forests. Entire forests. Forests.

Roll that word over your tongue, would you please? F O R E S T. Could you taste the scent of herbs, the sense of calm descending upon your strained nerves, the moist cold fresh oxygen? Could you?

You couldn't, I know.

You know whenever they bring another dead to bury under my 3 acres wide shade, I wonder if your lot still does not recognize your relationship with earth? If you still not see it as your ultimate home? How do you steal away from it, plunder it if you had recognized it?

Don't tire of me just yet. Please.

I've not spoken in ages. I've no one left to talk to. Do you know the pain of writing poems in a language no one knows the alphabets of?

Today, just for today, stand by me, underneath me, by this maze of graves. Look at my griefs as I lay shade over your sun burnt face. Let me break down under the weight of witnessing centuries, let me sob in the rustle of them leaves while you wonder what could grieve me! What more do you know of the haunted heart of the lone banyan tree than you know of Hell when someone warns you it's hot and dreadful?

I've lent my tenement roof to many a penniless poets. I've seen the wonder of those sculptor apprentices returning from their pilgrimage to the Taj Mahal. I've seen childless women tying threads at my branches urging a dead man settled in my roots to fight their case with their choicest god. I've been fed the blood of warriors that they shed at my feet so they don't have to, during the war...

This isn't real. You may think. But what is the frame of reference of the real in the existence you lead? You shrug at the power of notes of Ranjha's bamboo flute to be a myth, and in your empty heart's begging bowl karma grants you belief in some Harry Potter's magic wand. Ironic, isn't it?

When you kill enchantment, disenchantment is your cross to carry.

Don't be mad at me. I'm not mad at you. I'm just the lone Banyan tree. I could be your Kahlil Gibran's Dancer.
Have you read the parable?

Once there came to the court of the Prince of Birkasha a dancer with her musicians. And she was admitted to the court, and she danced before the prince to the music the lute and the flute and the zither.
She danced the dance of flames, and the dance of swords and spears; she danced the dance of stars and the dance of space. And then she danced the dance of flowers in the wind.
After this she stood before the throne of the prince and bowed her body before him. And the prince bade her to come nearer, and he said unto her, "Beautiful woman, daughter of grace and delight, whence comes your art? And how is it that you command all the elements in your rhythms and your rhymes?"
And the dancer bowed again before the prince, and she answered, "Mighty and gracious Majesty, I know not the answer to your questionings. Only this I know: The philosopher's soul dwells in his head, the poet's soul is in the heart; the singer's soul lingers about his throat, but the soul of the dancer abides in all her body."


Look at my breadth. You can not even know the beginning of me, how do you plan to see the end of me? 
My roots under the surface of earth carry the very floor you stand on. It is my structure that is over and under you. Call me a senile lone Banyan tree ... but here you are ... within me.

At this very moment, close to the midnight of a nameless day in the countless winter of an unmeasured duration, perhaps I'm the sky over you and the earth earth under you.

For this reason alone, you may want to stand reverently before me. As you would, before the entrance to Hell.

Image credits: Unknown, acquired through web of the actual tree referenced in the text above.

Friday, January 26, 2018

سوال



تم نے سرما کی پہلی بارش کو محسوس کیا ہے کبھی؟ اس کے نرم بوسے کی حدت کو اپنے اوپر پگھلتے سہا ہے؟ تم نے موتیے کی ادھ کھلی کلی کی ضدی بغاوت دیکھی ہے کبھی؟ ملائمت میں گندھی ننھی کلی ایسی سرکش کہ چٹکے بنا رہ نہ پائے، دیکھی ہے؟ تم نے شب کی سیاہی کو صبح کی گود میں سمٹتے دیکھا ہے کبھی؟ رات کی تیرگی کی انگڑائی کو سحر کے دامن میں ٹوٹتے نظاره ہے؟

سوال تو محض بات کا بہانہ ہیں ورنہ جواب کی حاجت نہیں ہے. اصل آیت تو سوال کے پیچھے چھپے رمز میں ہے. وہی غرض ہے، وہی غایت. وہی مدعا، وہی منشاء. وہی مطلوب، وہی مقصود. اور یہی وہ راز ہے جو جب کسی خوش بخت سوالی کے دل پر کسی صحیفے کی طرح القاء ہوتا ہے، سوالی ششدر رہ جاتا ہے. سوال تو عطا کا پیمانہ ہیں. جس دل کو نصیب ہو جائیں وہاں محجوب کے کشف کا امکان پیدا ہوتا ہے.

مانو تو زندگی کو اپنے شمس کی انتظار گاہ نہ بناؤ. زندگی کو اپنے لیے قونیہ بنا لو. گواہ بننے دو اسے اپنی دلیل کے جلال کا، اور پھر اپنے عشق کے جمال کا. قونیہ میں رومی اصلی ہوگا تو شمس بھی در آئے گا، یہ ایمان سانسوں کی مالا پہ سمر لو. سلگن بھاگوان کو عطا ہوتی ہے، خود کو اسکی بےتوقیری کر کے کم ظرف نہ ثابت کرنا. رومی بننا سہل نہیں ہے، شمس کے جلوے کی آس میں یہ نہ بھولنا کہ تمنا اور اہلیت کے مابین پل صراط حائل ہے.

کیا میرے اور تمہارے دل کے بیچ بھی یہی پل صراط ہے؟



Image Credit: Dance Painting - Painting 716 2 Sufi Whirl 2 by Mawra Tahreem

Saturday, December 30, 2017

The Closure Note For 2017



Leave the door open for the unknown, the door into the dark. That’s where the most important things come from, where you yourself came from, and where you will go. Three years ago I was giving a workshop in the Rockies. A student came in bearing a quote from what she said was the pre-Socratic philosopher Meno. It read, “How will you go about finding that thing the nature of which is totally unknown to you?” I copied it down, and it has stayed with me since. The student made big transparent photographs of swimmers underwater and hung them from the ceiling with the light shining through them, so that to walk among them was to have the shadows of swimmers travel across your body in a space that itself came to seem aquatic and mysterious. The question she carried struck me as the basic tactical question in life. The things we want are transformative, and we don’t know or only think we know what is on the other side of that transformation. Love, wisdom, grace, inspiration — how do you go about finding these things that are in some ways about extending the boundaries of the self into unknown territory, about becoming someone else?


- Rebecca Solnit, A Field Guide To Getting Lost

Reading this I realized, other than the profoundness of the message, how our cognitive abilities are a function of not only our intellectual faculties but also our particular set of experiences.

Ask anyone familiar with the flavour of burning desire, to describe Laila (of the Majnu) to you, and compare it against the offering of someone who hasn't ever experienced longing. You're bound to notice a difference.
What insight this passage offered to me right now, I'm sure I wouldn't have been able to draw at any other eventful period in life. Right now I've been at a stage in life to interpret a certain message better.

Patti Smith - poet, artist, musician - has expressed it in an extremely poetic way:

The transformation of the heart is a wondrous thing, no matter how you land there.

The interesting fact is that all transformation is borne at the wings of loss. It is the impact of the blow we bear, the unfamiliar dark of the life we step into, that we could become more than what we have been. In the action of growth, a small green shoot valiantly rebels against the basal force of gravity. It struggles, breaks through the ground, offering untameable rebellion, stepping into the unknown dark of pain and resistance ... and thus, developing into a full fledged plant.  

And this brings me to the next thought... how come, when our understanding of the world is likely to be in a flux, our opinions of it are so rigid? Why is there so much finality in our perspectives? Why do we find it hard to see a tree when looking at a seed?
Does the degree of finitude of your own thoughts not disappoint you?


May your coming year brings you more of everything that means growth to you! 

Image: Orion (at right), Sirius (bottom) and the pale wintertime Milky Way (center) are well-placed for viewing in late November. Credit: Bob King